امریکی انتخابات میں حق کی فتح اور عورت کی ہار


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"امریکی صدارتی الیکشن میں جیتنے کے لئے ایک امیدوار کو 270 ووٹ چاہیے ہوتے ہیں۔ اس وقت تک ڈانلڈ ٹرمپ کو 274 ووٹ حاصل ہو چکے ہیں اور یوں جنوری میں ہما ان کے سر پر سایہ فگن ہو کر ان کو وائٹ ہاؤسں میں لے جائے گا۔

تمام انتخابی پولز میں ہلیری کلنٹن کو ڈانلڈ ٹرمپ سے آگے دکھایا جا رہا تھا اور ملحد یہودی ایلومیناٹی میڈیا کو دیکھ کر یہی گمان ہوتا تھا کہ ٹرمپ تو دھول چاٹے گا۔ کیسے کیسے ٹرمپ کو بدنام نہیں کیا گیا۔ جب بھی وہ حق بات کرتا تھا، تو اس کے خلاف طوفان اٹھا دیا جاتا تھا۔ ٹرمپ کو نسل پرست کہا گیا حالانکہ ٹرمپ نے واضح طور پر بتا دیا تھا کہ وہ نسل پرست نہیں بلکہ حق گو ہیں۔

امریکی معیشت پر غیر قانونی ہسپانوی مہاجرین کے برے اثرات دیکھ کر انہوں نے واضح طور پر بتایا کہ صدر بن کر وہ ہسپانوی النسل میکسیکی مہاجروں کو وہ ملک سے باہر نکال دیں گے اور میکسیکو کے گلے میں انگلی ڈال کر پیسے اگلوا کر ان پیسوں سے دونوں ملکوں کے بیچ دیوار تعمیر کریں گے۔ ایک جج کے بارے میں انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ ٹرمپ یونیورسٹی کے خلاف دائر کردہ مقدمے میں وہ ٹرمپ کے خلاف فیصلہ دے گا کیونکہ وہ ہسپانوی النسل ہے اور میکسیکن بارڈر کی مجوزہ دیوار کی وجہ سے تعصب سے کام لے گا۔

\"donald-trump-3\"

امریکی سیاہ فام افراد کے بارے میں بھی انہوں نے کسی قسم کی منافقت سے کام نہ لیتے ہوئے اپنے دل کی بات سرعام کر ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ سیاہ فام افراد کے اکثریتی علاقے محاذ جنگ کا منظر پیش کرتے ہیں، سیاہ فام سست ہیں، اور فلاحی امداد پر زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے سیاہ فام ووٹروں سے اپنے لئے ووٹ ڈالنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’تم غربت میں رہتے ہو، تمہارے 58 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں، تمہارے سکول ناکارہ ہیں، تو تمہارے پاس کھونے کو اور کیا ہے؟‘۔

ٹرمپ رئیل سٹیٹ کے کاروبار سے منسلک ہیں اور 1973 میں پہلی مرتبہ ان پر امریکی محکمہ انصاف نے مقدمہ کیا تھا کہ وہ سیاہ فام افراد کو بطور کرائے دار قبول نہیں کرتے ہیں اور اونچے ریٹ وغیرہ دے کر بھگا دیتے ہیں یا بتاتے ہیں کہ جگہ دستیاب نہیں ہے۔ ٹرمپ نے ان الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے محکمہ انصاف کی خوب مذمت کی اور اس پر سو ملین ڈالر ہرجانے کا دعوی کر دیا۔ لیکن ٹرمپ طبیعت کے صلح جو واقع ہوئے ہیں اور لڑائی جھگڑا کرنا پسند نہیں کرتے ہیں۔ دو سال بعد انہوں نے محکمہ انصاف کے مقدمے میں اس سے مصالحت کر لی اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا۔ پتہ نہیں محکمہ انصاف نے ان سے کتنے پیسے ٹھگے مگر لالچ کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے، اس نے محض تین سال بعد ٹرمپ پر دوبارہ اسی الزام کے تحت مقدمہ دائر کر دیا۔ وہ سیاہ فام افراد کو ملازمت نہ دینے پر بھی مقدمے کا سامنا کر چکے ہیں حالانکہ انہوں نے کئی مرتبہ وضاحت کی ہے کہ سیاہ فام افراد سست الوجود ہوتے ہیں اور ایک اچھا کاروباری شخص کبھی سست الوجود افراد کو اپنے ادارے میں جگہ نہیں دے سکتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  فرقہ واریت اور دہشت گردی

\"trump-women\"

ڈانلڈ ٹرمپ پر خواتین دشمنی کا بے جا الزام لگایا جاتا ہے حالانکہ وہ تو خواتین کی اتنی زیادہ قدر کرتے ہیں کہ انہوں نے زر کثیر خرچ کر کے 1997 میں ’مس امریکہ‘ نامی مقابلے کا انعقاد کرنے والی کمپنی ہی خرید لی تھی تاکہ خواتین کی سرپرستی کر سکیں۔ مس یونیورس کا مقابلہ کرانے والا ادارہ بھی انہیں کی ملکیت بنا۔ یہ دونوں ادارے انہوں نے 2015 میں تارک الدنیا ہونے کا فیصلہ کرنے کے بعد فروخت کر دیے۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ خواتین سے کتنی محبت کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ملحد یہودی ایلومیناٹی یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ خواتین کے خلاف ہیں اور ایلومیناٹی کے اشارے پر ہی کئی خواتین نے ان پر الٹے سیدھے الزامات بھی لگا دیے ہیں۔

بہرحال الیکشن کی طرف واپس آتے ہیں۔ ڈانلڈ ٹرمپ نے جب دیکھا کہ ان کا وطن عزیز ایک نازک دور سے گذر رہا ہے، اخلاقیات کا دیوالیہ پٹ چکا ہے، ملک پر غیر ملکی افراد نے یلغار کی ہوئی ہے جو کہ تمام اہم تکنیکی معاملات پر چھائے ہوئے ہیں اور گوگل اور ایپل جیسی کمپنیاں چلا رہے ہیں، سیاہ فام افراد ملک کو سست کر رہے ہیں اور پورے ملک کو ہی ’بلیک لائف میٹر‘ کی دہشت گرد تحریک کے نام پر یرغمال بنا چکے ہیں، عورتیں اس عظیم ملک کی حکومت میں دخیل ہیں، بلکہ ایک عورت ہلیری کلنٹن تو اس کی صدر تک بننے پر تلی ہوئی ہے، تو وہ صدارت کی دوڑ میں شامل ہو گئے تاکہ اپنے ملک کو تباہی سے بچا سکیں۔

\"donald-trump-4\"

یورپ کے برخلاف امریکہ میں محب وطن، دیندار اور باشعور افراد کی کمی نہیں ہے۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ فنڈامینٹلسٹ، یعنی بنیاد پرست کی اصطلاح سب سے پہلے بیسیوِیں صدی کے اوائل میں نہایت دیندار امریکیوں کے بارے میں ہی لبرل فاشسٹوں نے مشہور کی تھی۔ ڈانلڈ ٹرمپ نے ملک کے 38 فیصد غیر سفید فام افراد کے بارے میں خطرے کو اجاگر کیا۔ انہوں نے موجودہ صدر اوباما سمیت تیرہ فیصد امریکیوں کے ملک سے باہر پیدا ہونے کے باعث غیر محب وطن ہونے پر شعور بیدار کیا، لیکن سب سے بڑھ کر عورت کی حکمرانی کے بارے میں بھی قوم کو یکسو کیا اور قوم پر واضح کیا کہ عورت کی صرف خوبصورتی ہی کی ستائش کی جا سکتی ہے مگر ویسے وہ مردوں سے ہر لحاظ سے کمتر ہوتی ہے۔ انہوں نے لبرل افراد سے اپنی قوم کا بچانے کا اعلان کیا۔

امریکیوں نے ان کی پکار پر جوق در جوق لبیک کہا۔ امریکی الیکشن میں کئی ریاستیں پکی ہوتی ہیں کہ وہ ڈیموکریٹ پارٹی کے نشان گدھے یا ری پبلکن ہاتھی پر ہی ٹھپہ لگائیں گی اور کچھ ڈھلمل سی ہوتی ہیں جو صدارتی امیدوار کی لفاظی کا شکار ہو کر ہر الیکشن میں اپنا قبلہ تبدیل کر لیتی ہیں۔ ٹرمپ نے اتنے واضح انداز میں ملک کو درپیش خطرے کو اجاگر کیا کہ دو پکی ڈیموکریٹ ریاستیں یعنی پینسلوینیا اور وسکونسن حالیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک خاتون صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کی بجائے ریپبلکن پارٹی کے ایک دبنگ مرد ٹرمپ کو ووٹ دینے پر مجبور ہو گئیں۔

اسی بارے میں: ۔  حلب سے متعلق حقائق کا دوسرا رخ

\"saudi-bombing-yemen_0421\"

ہم امید کرتے ہیں کہ صدر ڈانلڈ ٹرمپ کا عہد مثالی ثابت ہو گا۔ اس میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے اور جو بکری بہترین قومی مفاد کا مبہم نعرہ لگا کر ایسا کرنے سے انکار کرے گی، صدر ٹرمپ اس کا قرار واقعی حشر کریں گے اور سے عبرت کا نشان بنا دیں گے۔ امید ہے کہ صدر ٹرمپ اب اپنے اعلانات کے مطابق روسی صدر پوٹن سے مل کر مشرق وسطی میں وہی سب کچھ کریں گے جو وہ کہتے رہے ہیں۔ لیکن ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ڈیزی کٹر بم وغیرہ مت برسائیں بلکہ شام میں پوٹن اور برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے یمن پر رحم دلانہ حملوں سے سبق سیکھیں اور اسی انداز میں بمباری کرنے پر غور کریں۔

دوسری طرف ہم پاکستان کے لبرلوں کو بھی اس موقعے پر نصیحت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بھی ڈانلڈ ٹرمپ سے کچھ حب الوطنی سیکھیں۔ اقلیتوں اور عورتوں سے ان کو بھی وہی سلوک کرنا چاہیے جس کا داعی صدر ٹرمپ ہے۔ ہمارے باشعور علما بھی کئی مرتبہ قوم کو بتا چکے ہیں کہ عورت کا حکمرانی کرنا اور اس کا گھر سے باہر نکلنا سخت تباہی کا موجب ہے۔

مولانا مودودی اپنے 1952 میں لکھے گئے مضمون ”عورت اور مجالس قانون ساز“ میں تو واضح طور پر بتا چکے ہیں کہ قرآن حدیث کی روشنی میں عورت کا پارلیمان میں جانا مطلق حرام ہے اور اگر کوئی عقلی دلائل کی بنیاد پر اسے چیلنج کرنا چاہے تو مولانا مودودی تو اسے سرے سے ہی مسلمان نہیں مانتے ہیں۔ کہاں جید علما کا عورت کے پارلیمان میں جانے پر یہ موقف ہے اور کہاں ہمارے ملک میں عورت کو ملک کا حکمران ہی بنا دیا جاتا ہے۔

\"sindh-flood-543\"

اسی وجہ سے ہماری قوم کا یہ حال ہو چکا ہے اور اتنے زیادہ زلزلے اور سیلاب آ رہے ہیں۔ اب یہ دیسی لبرل طبقات جو کہ ہر معاملے میں امریکہ کو ہی مرجع تقلید جانتے ہیں، دماغ استعمال کرنے کی بجائے اپنے دل کی آواز سنیں اور ڈانلڈ ٹرمپ کی مثال سے ہی سبق سیکھیں کہ ملک کو ترقی دینی ہے تو ہمارے ملک میں بھی عورت کو حکومتی فیصلوں سے نکالنا پڑے گا۔ یہ روزی روٹی کی فراوانی اور مادی اور دنیاوی ترقی ہی سب کچھ نہیں ہوتی ہے بلکہ خودی، عزت نفس، غیرت اور اعلی اخلاقی برتری ہی ہمارے لئے اہم ہیں تاکہ ہم اقوام عالم میں فخر سے سر بلند کر کے جی سکیں۔

اب جبکہ ڈانلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہو چکے ہیں، تو ہم امید کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو نرم شرائط پر قرضے دیں گے تاکہ ہمارے پیارے وطن سے بھوک اور غربت کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 729 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “امریکی انتخابات میں حق کی فتح اور عورت کی ہار

  • 09-11-2016 at 2:29 pm
    Permalink

    کبھی کبھی تو حد ہی کر دیتے ہیں آپ۔ ایسی باتوں کون پنجابی میں چول کہتے ہیں۔ اور چولیں کب سے طنز و مزاح کہلانے لگیں۔ برائے مہربانی پڑھنے والوں پر بھی رحم کریں۔ آپ بہت اچھا لکھتے ہیں مانا مگر اپنی ویب سائٹ ہونے کا یہ مطلب تو نہیں ہر الم غلم چیز ادھر لکھ ڈالی!!!

Comments are closed.