مذہبی سیاست:سیکولرازم کا ہراول دستہ؟


asif Mehmood میں یہ کہوں کہ اس ملک میں کبھی سیکولرازم بطور ایک نظام رائج ہو گیا تو اس کا سہرا برادرِ مکرم وجاہت مسعود،عاصمہ جہانگیر اور ان کے قبیلے کے سر نہیں ہو گا بلکہ اس کے ذمہ دارمذہبی رہنما ہوں گے تو کیا آپ مجھ سے اتفاق کریں گے؟آپ کا فیصلہ جو بھی ہو،میری تویہ پختہ رائے ہے کہ وطن عزیز میں مذہبی سیاسی رہنما سیکولرازم کے ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔یہ لوگ وہی غلطیاں کر رہے ہیں جو مغرب میں اہل کلیسا نے کیں،انجام مختلف کیسے ہو گا؟

کلیسا نے مذہب سے لے کر ریاست تک جملہ حقوق اپنے حق میں محفوظ کروا لیے اور معاملات کو پیٹ کی آنکھ سے دیکھنا شروع کر دیا۔عام آدمی سے کہا گیا کہ سوئی کے ناکے سے اونٹ تو گزر سکتا ہے مگر دولت مندکبھی جنت میں نہیںجا سکتا۔اس کی نجات اسی میں ہے کہ دولت کلیسا کے قدموں میں ڈال دے۔سوچوں پر پہرے لگا دیے گئے۔برونو جیسے آدمی کو اس جرم میں زندہ جلانے کی سزا دی گئی کہ وہ زمین کو علاوہ دیگر سیاروں پر بھی زندگی کا قائل تھا۔اسی طرح جب گیلیلیو نے کہا کہ سورج زمین کے گردنہیں بلکہ یہ زمین ہے جو سورج کے گرد گھومتی ہے تو اس کو سزائے موت دے دی گئی۔مذہب پادری کی خود ساختہ تعبیرات کا محتاج ہو گیا اور مذہب کی من پسند تعبیر ات سامنے آنے لگیں جن کی صرف یہ افادیت تھی کہ وہ پادریوں کے مفادات کا تحفظ کرتی تھیں۔جب جب لوگوں نے کلیسا کی تعبیر زندگی پر اعتراض اٹھایا انہیں مرتد،لادین،اور مذہب دشمن قرار دے دیا گیا۔جب لوگوں نے دیکھا کہ مذہب کی تعبیر کے جملہ حقوق پادری کے نام محفوظ ہو چکے ہیں اور پادری ہر معاملے کو پیٹ کی آنکھ سے دیکھ رہا ہے اور عقل و فہم سے اسے کوئی شغف نہیں رہا تو لوگ اس نتیجے پر پہنچے کہ اجتماعی زندگی میں کلیسا کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔یہ مذہب کے خلاف بغاوت نہ تھی،عیسائی ملا کے خلاف بغاوت تھی ۔اب چونکہ عیسائیت وہی رہ گئی تھی جو کلیسا کہتا تھا اس لیے لوگ آگے جا کر مذہب ہی سے بیزار ہو گئے۔

اب ذرا پاکستان کی حالت دیکھ لیجئے۔تعبیر دین کے جملہ حقوق احباب اپنے نام کروا چکے ہیں۔آپ اختلاف کر کے دیکھئے آپ کو لگ پتا جائے گا۔اخلاقی اقدار اور مذہبی سیاست میں اب اگر کوئی تعلق رہ گیا ہو تو یہ ایک بریکنگ نیوز ہو گی۔اہل مذہب اس دھرتی پر رب کا نظام نافذ کرنے کے لئے سیاست میں آئے لیکن اب حیرت سے آدمی سوچتا ہے شیخ رشید اور مولانا فضل الرحمن کی سیاست میں کیا فرق لکھا جائے۔ڈیزل اور اہل مذہب کا کیا تعلق؟ لیکن یہ طعنے زبان زد عام ہیں۔مولانا اسماعیل بلیدی ایک دبنگ قسم کے سینیٹر رہ چکے ہیں۔ایک روز پارلیمنٹ کیفے ٹیریا میں چائے کی میز پر ان سے سوال کیا گیا مولانا آج کل ڈیزل کا ریٹ کیا ہے۔وہ ہنسنے لگ گئے۔بے تحاشا ہنسنے کے بعد کہنے لگے یہ زیادتی ہے۔میں نے کہا مولانا یہ کیسے زیادتی ہو گئی۔مولانا نے میری طرف دیکھا اور پھر ہنسنا شروع کر دیا۔ہنس ہنس کے ان کی آنکھوں سے پانی رواں ہو گیا۔ایک لمحے کو رکے اور کہنے لگے ’آصف تم نہیں جانتے یہ خبیث کیا کہ رہا ہے‘۔میں نے کہا مولانا کوئی معرفت کی بات ہے تو آپ ہی بتا دیں کہ یہ خبیث کیا کہہ رہا ہے۔مولانا نے پھر ہنسنا شروع کر دیا۔اب اس طرح کی سیاست کا کیا فائدہ؟ایسی نسبتیں جھوٹ بھی ہوں تو بھی ان لوگوں کےلئے سوالیہ نشان ہونی چاہییں جن کا بقول ان کی زندگی کا مقصد ہی اعلائے کلمتہ الحق ہے۔

مذہبی سیاست آج اپنے اخلاقی بھرم کے اعتبار سے وہیں کھڑی ہے جہاں دوسرے اہل سیاست کھڑے ہیں۔وہ تمام آلودگیاں مذہبی سیاست کو اپنی گرفت میں لے چکی ہیں جن سے اللہ والے اجتناب ہی کرتے آئے ہیں۔یہاں اسلام کی سر بلندی کے لئے آئی جے آئی بنتی ہے تو بعد میں پتا چلتا ہے پس چلمن کون تھا۔یہاں نظام مصطفی کے لئے تحریک چلتی ہے اور لوگ حق کی تلاش میں نکلتے ہیں تو ان کی گردن پر ضیاءالحق مسلط کروا کر صالحین گھروں کو چلے جاتے ہیں۔

اگر یہی صورت حال رہی توآنے والی نسل مذہب کے نام پر سیاست کو استحصال سمجھ کر رد کر دے گی اور معاشرہ سیکولرازم کی دلدل میں جا گرے گا۔اگر ایسا ہو گیا تو اس کے ذمہ دار اہل مذہب خود ہوں گے۔تاریخ انہیں سیکولرازم کے ہراول میں شمار کرے گی…. ان حالات میں آ خری امید سیکولر احباب ہیں۔جوں جوں سیکولرانتہا پسندی کے فکری تضادات سماج پر آشکار ہوتے جائیں گے لوگ واپس دین کی جانب لوٹنا شروع ہو جائیں گے۔مذہبی انتہا پسندی کے بعد سماج کا شعورِ اجتماعی سیکولر انتہا پسندی کو بھی رد کر دے گا۔ اس کے بعد ایک متوازن اسلامی جمہوری سماج کی تشکیل ایک فطری بات ہو گی۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “       مذہبی سیاست:سیکولرازم کا ہراول دستہ؟

  • 02-02-2016 at 1:48 pm
    Permalink

    عمدہ تحریر ھے اور دلیل کے ساتھ ھے
    لیکن ابھی تک خوش قسمتی یہ ھے کہ لوگ فقط ملاء کے خلاف ھیں

Comments are closed.