لال مسجد اور لال چہرے والے


adnan Kakarہوا یوں کہ ہفتے کے دن اچانک خبر ملی کہ رینجرز کی ایک بڑی بھاری نفری نے لال مسجد والی جامعہ حفصہ کے گرد چیک پوسٹیں قائم کر دی ہیں اور کنکریٹ کے بیرئیر لگا دیے ہیں۔ بخدا دل ہی دہل گیا۔ لگا کہ اب کی بار ہمارے محبوب صدر ممنون حسین صاحب پر ویسے مقدمات قائم نہ ہو جائیں جیسے کہ صدر پرویز مشرف پر ہو گئے تھے۔ گھبرا کر ہم جناب افسر ذی شان صاحب  کے پاس پہنچے جو کہ وزارت داخلہ کے کرتا دھرتاﺅں میں سے ایک ہیں۔

ہم: افسر ذی شان صاحب، یہ مولانا عبدالعزیز کا کیا معاملہ ہے۔ سنا ہے کہ رینجرز وہاں تعینات کر دیے گئے ہیں جو ہر آتے جاتے کو ڈرا رہے ہیں۔

افسر ذی شان: دیکھیں جناب، ریاست سے زیادہ طاقتور تو یہاں کوئی اور تو نہیں ہے۔ ہماری طاقت کا یہ مظاہرہ لال مسجد والوں کو دہلا کر رکھ دے گا۔

ہم: سنا ہے کہ وہاں عمارت کی چھت پر چند لڑکے چڑھے ہوئے ہیں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

افسر ذی شان: اس سے کیا ہوتا ہے؟ ہم کسی سے ڈرتے ورتے نہیں ہیں۔ ہماری انتظامیہ ان شرپسند لونڈوں سے نمٹنے کو تیار ہے۔

ہم: لیکن مجھے آپ کے دفتر میں داخل ہونے سے چند لمحے پہلے پتہ چلا تھا کہ اس واقعے کے بعد ساری نفری ہٹا لی گئی ہے اور پولیس کی چار موبائلیں ہی وہاں باقی رہ گئی ہیں۔

افسر ذی شان: موقعے پر موجود افسر نے حالات دیکھ کر مناسب فیصلہ کیا ہو گا۔

ہم: سر آپ مولانا عبدالعزیز کو گرفتار کیوں نہیں کر لیتے ہیں؟

افسر ذی شان: وزیر داخلہ صاحب سینیٹ میں وضاحت تو کر چکے ہیں کہ مولانا کے خلاف کوئی مقدمہ ہی نہیں ہے تو گرفتار کس بنیاد پر کریں۔ ہم قانون پر چلتے ہیں، آپ کی خواہشات پر نہیں۔

ہم: لیکن سینیٹ میں فرحت اللہ بابر صاحب نے دو ایف آئی آروں کی کاپیاں تو جمع کرا دی ہیں۔ بلکہ انہوں نے پولیس کی اس درخواست کی کاپی بھی جمع کروائی ہے جس میں مولانا کو اشتہاری قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے، اور اخبارات میں شائع ہونے اور مولانا کے گھر کے باہر چسپاں کئے جانے والے اشتہاری قرار دیے جانے والے نوٹس کی کاپیاں بھی جمع کروائی ہیں۔

افسر ذی شان: دیکھا، یہی معاملہ ہے۔ مولانا عبدالعزیز کا کوئی پتہ نشان نہیں مل رہا ہے۔ اس لئے ہم انہیں گرفتار نہیں کر پا رہے ہیں۔

ہم: لیکن ہر جمعے تو آپ موبائل فون کی سروس لال مسجد کے علاقے میں بند کر دیتے ہیں تاکہ مولانا عبدالعزیز کا ٹیلی فونی خطبہ نشر نہ ہو۔ فرحت اللہ بابر صاحب نے تو پی ٹی اے کے موبائل کمپنیوں کو لکھے گئے خط کی کاپی بھی جمع کروائی ہے۔ آپ لال مسجد میں جمعے کا خطبہ دیتے ہوئے ان کو گرفتار کر لیں۔

افسر ذی شان: بھائی کچھ خیال کرو۔ بھلا ہمیں کیا پتہ کہ موبائل پر وہ کہاں بیٹھے خطبہ دے رہے ہیں۔

ہم: اپنے گھر سے خطبہ دے رہے ہوتے ہیں۔ کیا آپ ان کو گرفتار کریں گے؟ اب تو ایف آئی آر بھی موجود ہے۔ اور اشتہاری ہونے کا ثبوت بھی۔

افسر ذی شان: ایف آئی آر مل گئی ہے تو اس پر ہم مناسب ایکشن لے لیں گے۔ ممکن ہے کہ مولانا نے ضمانت کروا رکھی ہو، اس لئے گرفتاری ممکن نہ ہو۔

ہم: سنا ہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ بہت کوشش کرتی رہی ہے کہ مولانا عبدالعزیز اپنی ضمانت کروانے پر راضی ہو جائیں لیکن وہ مسلسل انکار کئے جا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میں نے کوئی جرم کیا ہی نہیں ہے تو ضمانت کاہے کی کرواﺅں ۔

افسر ذی شان: دیکھیں جیلوں میں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ قیدی بھرے ہوئے ہیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ سسٹم کو اوور لوڈ نہ کریں۔

azizہم: لیکن آپ کے ایک افسر تو یہ کہتے پائے گئے تھے کہ مقدمہ درج کرانے والے جبران ناصر نامی جس شخص کا نام لیا جا رہا ہے، اسے تو ہم جانتے ہی نہیں، تو ایف آئی آر کیسی؟

افسر ذی شان: دیکھا؟ میں نے کہا تھا نہ کہ کوئی وجہ تو ہو گی گرفتار نہ کرنے کی۔

ہم: لیکن اٹھائیس دسمبر کو ہی تو مولانا کو عدالت نے اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ اور ضمانت وہ کروانے پر راضی نہیں ہیں۔ اور آج ہی اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے مولانا عبدالعزیز کی دو مقدمات میں ضمانت اور عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں مسترد کردی ہیں۔ پھر گرفتاری میں کیا مشکل ہے؟

افسر ذی شان: آپ لوگ ان نازک ملکی معاملات کو نہیں سمجھتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ فساد اٹھے اور عوام مارے جائیں۔

ہم: اچھا اگر مولانا عبدالعزیز ٹھیک ہیں اور پرویز مشرف مجرم ہیں، تو پھر پرویز مشرف ہی کو گرفتار کر کے سزا دے دیں۔

افسر ذی شان: آپ لوگ ان نازک ملکی معاملات کو نہیں سمجھتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ فساد اٹھے اور ہم مارے جائیں۔

ہم: یعنی پھر جو مرضی جیسا مرضی بولے، حکومت کو چیلنج کرے، طالبان کی حمایت کرے، آرمی پبلک سکول کے بچوں کے قتل کو جائز قرار دے، اس کے مدرسے کی طالبات داعش کی بیعت کا اعلان کریں، آپ بے بسی کی تصویر بنے کھڑے رہیں گے اور کوئی گرفتاری نہیں کریں گے؟ آپ کا چہرہ لال ہو رہا ہے۔ لگتا ہے کہ آپ کے دل پر میری باتوں کا اثر ہو گیا ہے۔

افسر ذی شان: ہم ہرگز بھی بے بس نہیں ہیں۔ ابھی دکھاتا ہوں۔ حوالدار مولا بخش! ان صاحب کو اندیشہ نقص امن کے تحت گرفتار کر کے تین مہینے کے لئے اندر کر دو۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 332 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “لال مسجد اور لال چہرے والے

  • 02-02-2016 at 2:20 am
    Permalink

    عدنان کاکڑ صاحب، بہت ہی زبردست لکھا ہے پڑھ کر دل کو کچھ تسلی ہوئی کہ سب لوگ چوہدری نثار کی طرح مولوی عزیز سے نہیں ڈرتے۔۔ عدنان کاکڑ صاحب آپ اسی طرح لکتھے رہے ہم جانتے ہیں کہ آپ کیا اور کسے کہنا چاہتے ہوں۔۔ اور ہاں ہم جیسے غیر سنجیدہ لوگ اس کو سنجیدہ نہیں لیں گے۔۔ کیونکہ ہم تو ایک غیر سنجیدہ سماج میں رہتے ہیں۔۔ سجنیدگی تو چھاونیوں کے اندر ہیں اور ہم تو چھاونیوں سے باہر رہنے والے لوگ ہیں ۔۔ اور ہاں جو چھاونیوں اندر رہتے ہیں وہ پڑھتے بھی نہیں پڑھنے والے تو ہم جیسے غیر سنجیدہ لوگ ہیں جو کچھ پڑھ کر ہی دل کو بہلا دیتے ہیں اور ہاں جو چھاونیوں کے اندر رہتے ہیں یا چھاونیوں کے باہر ان چھاونی والے کیلئے کام کرنےوالے(مخبر، ملا، تبلیغی،سمگلر،موسمی سیاستدان،لینڈ مافیا،سردار، نواب، جاگیردار،خان،ملک، چوہدری)کو تو آپ کی تحریریں سمجھ بھی نہیں اآئیگی۔۔ کیونکہ وہ کچھ اور سوچتے ہیں اور آپ کچھ اور لکھتے ہیں۔۔۔۔
    گستاخی معاف۔۔۔ امین اللہ فطرت

Comments are closed.