لاہور کی چھاؤں کے لئے ایک دعا


intizar-husain-2ہفتے کی سہ پہر لاہور میں ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ شیر خان راستوں کے انتخاب میں صوبائی خودمختاری کے قائل ہیں۔ گورنمنٹ کالج جانا تھا۔ فیروزپور روڈ سے گزرتے تو قریب رہتا۔ گاڑیوں کے ہجوم میں رینگتے ہوئے چونک کر پوچھا کہ ہم کہاں سے گزر رہے ہیں۔ جواب ملا، ’ چیئرنگ کراس پار کر رہے ہیں‘۔ عام حالات میں قائد طریقت شیر خان صاحب کے انتخاب راہ کی کماحقہ داد دیتا لیکن طبیعت کچھ ملول تھی اور مال روڈ پر ایک نئی کیفیت نے آ لیا۔ انتظار حسین علیل ہیں اور لاہور کے ایک ہسپتال میں زندگی کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ بس اس خیال سے دل بیٹھ گیا اور مال روڈ پر بمشکل چند کلومیٹر کا یہ سفر انتظار حسین کے ساتھ گزر گیا۔ میٹرو، لارڈز، شیزان ، وائی ایم سی اے ، پاک ٹی ہاؤس ، ٹولنٹن اور ناصر باغ ….اور ہاتھ بھر کے فاصلے پر کرشن نگر کی گلیاں ۔ اس راستے کی کون سی اینٹ ہے جسے انتظار حسین کے سجل پاؤں نصیب نہیں ہوئے۔ خاک کا اتنا چمک جانا ذرا دشوار تھا…. یہاں کون سی عمارت ہے جسے انتظار حسین نے بیتے ہوئے لاہور کی تصویر بنا کے نہیں رکھ دیا۔ کوئی ٹھیلے والا ایسا نہیں ، یہاں کوئی پان فروش ایسا نہیں جسے انتظار حسین نے محبت کی آنکھ سے نہ دیکھا ہو اور اسے ایک گزر تے ہوئے عہد کا جیتا جاگتا کردار نہ بنا دیا ہو۔ کوئی پنتیس برس پہلے انتظار حسین کا ناول ’بستی‘ شائع ہوا تو محترم عطاالحق قاسمی نے ’روزن دیوار سے ‘میں لکھا کہ ’انتظار حسین اس ناول میں نہ نہ کرتے ہوئے بھی کمٹ منٹ کر گئے ہیں اور یہ کمٹ منٹ اگر نیم کے پیڑ سے ہے بھی تو نیم کا یہ پیڑ میرٹھ ہی میں نہیں، لاہور کے آنگنوں میں بھی اگا ہوا نظر آتا ہے….‘۔

کمٹ منٹ …. یہ لفظ ہمارے تہذیبی مکالمے میں ایک خاص عہد کا نشان ہے ۔ اور عطاالحق قاسمی صاحب بذلہ اور بلاغت کے ایک خاص آمیختہ میں اس عہد کے اجتماعی مکالمے کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ کمٹ منٹ ، ناسٹلجیا ، علامت، روایت اور تبدیلی …. دو زمانوں کی سرحد پر کھڑے 1980ءکے پاکستان میں بحث کے یہی زاویے تھے اور انتظار حسین نے اس مکالمے کو دستاویز کیا۔ اردو ادب کے اساتذہ سے دریافت کیجئے تو وہ بتائیں گے کہ انتظار حسین نے ترقی پسند تحریک کے بعد اردو افسانے کو ایک نیا لہجہ بخشا۔ دوسری طرف سے آواز آئے گی کہ انتظار حسین نے باکمال ناول لکھے۔ پاک ٹی ہاؤس کے شناوروں سے بات کیجئے تو وہ ناصر کاظمی، شیخ صلاح الدین، شاکر علی اور مظفر علی سید کے ساتھ انتظار حسین کی گفتگوؤں کے قصے سنائیں گے۔ اہل صحافت سے پوچھئے تو وہ ’لاہور نامہ ‘ کے گن گاتے ہیں۔ تحریر کی دنیا میں کالم کو ایک طرح کی منی ایچر مصوری قرار دیا جائے تو انتظار حسین نے مانی اور بہزاد کو مات کیا۔ اور اگر درویش سے پوچھئے تو وہ کہے گا کہ ایک تخلیق کار کے طور پر انتظار حسین کے کارنامے اپنی جگہ ، اس ساونت کی سب سے بڑی دین یہ ہے کہ اس نے ادب کی آتما کے لیے سات دہائیوں تک لڑائی لڑی ہے۔ تہذیب کی مدافعت کی ہے۔ مکالمے کے آداب سکھائے ہیں۔ انتظار حسین وہ چھتنار چھاؤں ہے جو صرف لاہور ہی پر نہیں ، برصغیر پاک و ہند کے ہر اس آنگن پر سایہ فگن رہی ہے جہاں اردو بولی جاتی ہے۔

تخلیق اور دانش میں ربط کی بحث بہت پرانی ہے۔ تاہم کچھ رک کر سوچئے تو دانش کی عدم موجودگی میں تخلیق محض قافیہ پیمائی ہے۔ ہنر محض حرفت کے درجے پر گر جاتا ہے۔ دوسری طرف تخلیق سے عاری دانش بانجھ نرے لفظوں کا گورکھ دھندا ہے۔ انتظار حسین کا لفظ اردو ادب سے آگے نکل کر گزشتہ صدی کے عالمی منظر نامے سے نکلنے والے کچھ بنیادی مباحث کا احاطہ کرتا ہے۔ انتظار حسین کی صحت اور زندگی کے لیے دعا کا سرچشمہ تشکر کا یہ گہرا احساس ہے کہ تیسری دنیا کے اس غریب ملک میں رہتے ہوئے انتظار حسین نے سات دہائیوں تک ہمیں ادبی مکالمے کی صف اول میں زندہ رکھا۔ گزشتہ صدی کی چوتھی دہائی میں ادب اور ثقافت کی بحث دلچسپ راہوں سے گزر رہی تھی۔ ایک طرف ٹی ایس ایلیٹ تھے جو ادب میں روایت کے دھارے کو آگے بڑھا رہے تھے ۔ دوسرا زاویہ ترقی پسند دانش کا تھا جو نوآبادیاتی نظام ، طبقے اور سامراج کی اصطلاحات میں اپنے نقطہ نظر کا دفاع کر رہے تھے ۔ تکون کے تیسرا زاویے میں سارتر اور ان کے ہم خیال ادیب تھے جو فرد کی تنہائی کو عالمی رستا خیز کے تناظر میں رکھ کر دیکھ رہے تھے ۔ ان سب مکاتب فکر میں سچائی کا پہلو موجود تھا لیکن ہم عصر سچ کے کچھ حصوں سے تغافل بھی پایا جاتا تھا۔ روایت کا سکول ہم عصر دنیا میں موجود ناانصافی سے بے نیاز تھا ۔ حقیقت پسندی کا مکتب ناانصافی کے ان پہلوؤں سے نظر چراتا تھا جو اشتراکی نظام میں موجود تھے۔ تجرید اور استعارے کے فرزند فرد کی داخلی دنیا میں بھڑکتے آتش فشاں کی تصویر تو کھینچتے تھے مگر خارج میں موجوداس دباﺅ سے انکار کرتے تھے جو فرد کی ذات میں بنتے بگڑتے نقوش پر اثر انداز ہوتا ہے۔ حیرت اور افتخار کا درجہ ہے کہ ہمارے ادیب انتظار حسین نے 1947 ءمیں ان سب مباحث کو سمجھا اور وہ راستہ نکالا جہاں تخلیق اور فکر کی کشاکش میں فنکار سرخرو ہوتا ہے اور اجتماع آگے بڑھتا ہے۔ بہت برس پہلے ایک طالب علم کی کتاب پر دستخط کرتے ہوئے انتظار حسین نے میر کا ایک مصرع لکھا تھا….صناع ہیں سب خوار، ازاں جملہ ہوں میں بھی…. “ ہمارے زمانے میں میر تقی میر کی خود داری نے انتظار حسین کے روپ میں درشن دیا۔

واضح رہے کہ 1950ءمیں ہم لاطینی امریکا کے گبرئیل گارشیا مارکیز کی جادوئی حقیقت نگاری سے بہت برس پہلے کھڑے تھے۔ ابھی ایڈمنڈ ولسن اور میری میکارتھی جیسے دانشور ’ماسکو ٹرائل‘ کی تھاہ کو نہیں پہنچ سکے تھے ۔ ابھی سارتر نے تنہائی سے نبرد آزما فرد کے لیے اجتماعی ذمہ داری میں نجات کے زاویے دریافت نہیں کیے تھے۔ ابھی گنٹر گراس کاغذ پر قلم رکھنا سیکھ رہا تھا۔ ابھی ’ڈاکٹر ژواگو‘ نہیں لکھا گیا تھا۔ ابھی سرد جنگ کے ابتدائی مناظر کھل رہے تھے۔ ابھی ہنگری اور چیکو سلاواکیہ کے باب لکھے جانا تھے ۔ ویت نام اور افغانستان کی لڑائیاں ابھی وقت کے بیج میں تھیں۔ایسے میں انتظار حسین نے ’گلی کوچے ‘کے نام سے کہانیوں کا ایک چھوٹا سا مجموعہ شائع کیا۔ نظریے کی دیوار پر تخلیق کی آزادی کا حرف لکھا۔ تاریخ میں تخلیق کار کا مقام متعین کیا۔ انتظار حسین نے ترقی پسند سوچ سے استفادہ کیا تھا لیکن خود قلم اٹھایا تو کرشن چندر کے اکہرے پن سے گریز کیا۔ عسکری صاحب کے ساتھ تعلق خاطر رہا لیکن تعمیم اور شدت کی ان صورتوں سے گریزاں رہے جنہوں نے آگے چل کر سراج منیر اور ان کے نسبتاً کم سواد رفقا میں ظہور کیا۔ انتظار حسین نے زبان کی لڑائی بھی لڑی ۔ شناخت کے بحران سے بھی نظر نہیں چرائی۔ کمٹ منٹ کا پھریرا نہیں لہرایا لیکن ذمہ داری کا پرچم نہیں گرنے دیا۔ ہمارے ہاں ایک رجحان یہ رہا کہ 47 ءپہ ٹھہر جاﺅ تو 71 ءکو فراموش کر دو اور اگر 71 ءکی بات کرنا ہے تو47 ءکو جھٹلاﺅ۔ انتظار حسین نے 47 ءاور 71 ءکو سمجھنے کے لیے 58 ءپر گہری نظر رکھی۔ انتظار حسین نے ہمیں سکھایا کہ بحران سے نکلنے کے لئے سوال سے نظریں چار کرنا پڑتی ہیں۔

بھکشو نے بدھ سے پوچھا ، ’سپھل ہونے کی راہ کیا ہے؟‘ جواب آیا۔ ’بالک ، کامیابی لمحہ موجود کو معنی دینا ہے۔ سوال کیا ، ’ معنی باہر سے آتا ہے؟‘ تھوڑا تامل اور پھر جواب ملا ، ’معنی کے لیے جستجو کرنا پڑتی ہے۔ اجالے کی سہائتا کی جاتی ہے‘ بھکشو نے بے بسی سے کہا، ’مہاراج مجھے سچ کہاں سے ملے گا‘۔ جواب دیا ’اپنے بھیتر میں رہ اور باہر پر آنکھ رکھ۔ زمین پر آوازیں بہت ہیں ، ساگر میں مچھلیاں بہت ہیں اور سچ کی صورت لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہے‘۔ ’ہے مہاراج …. پیڑ اور مکان گزرتے جا رہے ہیں اور سفیدی تو اب مرغی کے انڈے برابر رہ گئی ہے‘۔بدھ نے دھیرج بندھاتے ہوئے وچن دیا ، ’تو چنتا مت کر۔ گیا کی ترائیوں میں برگد کے پیڑ بہت ہیں اور رات ابھی باقی ہے‘۔ سو پڑھنے والوں سے التماس ہے کہ لاہور کی گلیوں اور چائے خانوں سے دبے پاﺅں گزرنے والی اجالے کی اس کرن کے لئے صحت اور زندگی کی دعا کریں جو ہمارے لئے ہنر، تخلیق اور دانش کا نشان ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “لاہور کی چھاؤں کے لئے ایک دعا

  • 02-02-2016 at 4:41 am
    Permalink

    تخلیق اور دانش میں ربط کی بحث بہت پرانی ہے۔ تاہم کچھ رک کر سوچئے تو دانش کی عدم موجودی میں تخلیق محض قافیہ پیمائی ہے۔

    واہ وا۔

    اور آخر میں گوتم نے راہ دکھائی۔

Comments are closed.