24 نومبر کو فرد جرم عائد ہو گی : عمران فاروق کا قتل‘ الطاف کو سالگرہ کا تحفہ دینے کیلئے 16 ستمبر کی تاریخ رکھی : خالد شمیم


\"imran-farooq\"

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار خالد شمیم نے اعترافی بیان میں کہا ہے وہ کسی دباﺅ میں نہیں اپنی مرضی سے بیان دے رہے ہیں اور اپنے کئے پر شرمندہ ہیں۔ خالد شمیم نے کہا بانی متحدہ کو سالگرہ کا تحفہ دینے کیلئے 16 ستمبر کی تاریخ رکھی گئی۔ الطاف حسین نے افتخار حسین کے ذریعے پیسے بھجوائے۔ افتخار حسین نے کراچی پہنچ کر 25 ہزار پاﺅنڈ دیئے۔ کہا جس کام کی نشاندہی بانی متحدہ نے کی یہ اس کے پیسے ہیں۔ ڈاکٹر عمران فاروق کی پارٹی رکنیت ختم کرنے کے کچھ عرصہ بعد بانی قائد نے ٹیلی فونک خطاب میں کہا انہیں کسی پارک کے قریب سے گزرتے ہوئے قتل کیا جا سکتا ہے۔ محمد انور نے مجھ سے کہا بانی قائد کی تقریر میں تمہیں کچھ باتیں سمجھائی ہیں۔ عمران فاروق اپنا الگ گروپ تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ضروری ہے وہ ایسا نہ کر سکے۔ پیسوں کا انتظام ہو جائے گا۔ تم مسئلے کا حل نکالو، خالد شمیم کے مطابق اس نے معظم اور کاشف کے ساتھ مل کر عمران فاروق کے قتل کا منصوبہ بنانا شروع کیا۔ تینوں متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نائن زیرو میں بیٹھ کرمنصوبہ بندی کرتے تھے۔ تاہم پیسوں کا مسئلہ درپیش تھا۔ اس دوران محسن سے ملاقات کرائی گئی جو لندن جانے اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں مدد دینے پر آمادہ ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد ایم کیو ایم کے بانی قائد کے کزن نے مجھے ایک لفافہ دیا۔ جس میں 25 ہزار پونڈ تھے۔ اس نے واضح انداز میں بتایا یہ اس کام کے پیسے ہیں جس کی نشاندہی بانی قائد نے کی ہے۔ میں نے رقم پاکستانی روپوں میں تبدیل کرائی اور معظم کی کمپنی کے اکاﺅنٹ میں جمع کرا دی۔ محسن اور کاشف کو معظم کی کمپنی کا ملازم ظاہر کرکے تجربے کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا گیا اور ان کے نام سے بنک اکاﺅنٹ کھلوا کر کمپنی کے اکاﺅنٹ سے ٹرانزیکشن کرائیں اور لندن اکیڈمی آف مینجمنٹ سائنسز میں ایڈمیشن کرا کر برطانیہ کے ویزے کیلئے درخواست جمع کرا دی۔ اس کا سارا خرچہ معظم نے افتخار کے دیئے پیسوں سے کیا۔ محسن کو فروری 2010ء میں ویزہ ملا اور وہ روانہ ہو گیا۔ کاشف ستمبر 2010ءمیں روانہ ہوا۔ قبل ازیں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے عمران فاروق قتل کیس کی سماعت جیل میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ملزموں پر 24 نومبر کو فرد جرم عائد ہو گی۔ اسلام آباد میں انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج کوثر عباس زیدی نے عمران فاروق قتل کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایف آئی اے پراسیکیوٹر وسیم رانجھا پیش نہ ہوئے جس کی وجہ سے تینوں گرفتار ملزموں خالد شمیم، محسن اور معظم علی پرفرد جرم عائد نہ ہو سکی۔ عدالت نے کیس میں کوئی پیش رفت نہ ہونے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا ایف آئی اے نے ابھی تک حساس اداروں کی رپورٹ فراہم نہیں کی۔ عدالت نے حکم دیا کیس کے متعلقہ افسرعدالت میں پیش ہوں۔ سماعت کے دوران معظم علی کی اہلیہ نے عدالت سے استدعا کی مقدمے کا آغاز ہوئے 9 ماہ ہوگئے ہیں لیکن ٹرائل کا کچھ پتہ نہیں، جس کی وجہ سے ان کا شوہر شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔ اس لئے عدالت سے گزارش ہے ٹرائل اس کے گھر والوں کی موجودگی میں کیا جائے۔ جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اہل خانہ کی موجودگی میں ملزموں پر فردجرم عائدکی جائےگی۔ایم کیو ایم لندن کے رہنما ندیم نصرت نے خالد شمیم کے مبینہ بیان میں الزامات کی سخت تردید کرتے ہوئے کہا خالد شمیم 3 سال تک سرکاری ایجنسیوں کی غیر قانونی حراست میں تھا الزامات کا مقصد عمران فاروق قتل کیس میں بانی متحدہ کو ملوث کرنا اور ایم کیو ایم کا امیج خراب کرنا ہے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔