عبدالقدوس جہلمی کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات


عبدالقدوس جہلمی نام کا ایک شخص ان دنوں میڈیا پر بہت جانا پہچانا نام بن چکا ہے۔ کچھ لوگ اسے لکھاری وغیرہ سمجھتے ہیں۔ اس ملک میں لکھاری ہونا بہت آسان ہے۔ اس دیس میں تو نسیم حجازی اور استاد شوق انصاری (جھنگ بازار، فیصل آباد والے جن کوئی دوسری برانچ نہ ہے) کو بھی ادیب سمجھا جاتا ہے۔ عبدالقدوس جہلمی دراصل ایک مشکوک کردار ہے جس کی شہریت دہری ہے اور بہروپ تہ دار ہیں۔

اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اپنے طویل سمندری سفروں کے دوران مجھے عبدالقدوس جہلمی سے بار بار واسطہ پڑا۔ میں نے اسے سی آئی اے کے دفتر واقع لانس اینجلس (نزد چونا منڈی) میں پاکستانی ایٹم بم کا چوبی ماڈل تیار کرتے دیکھا ہے جسے یہ امریکی محکمہ انسداد بے رحمی حیوانات کے کچھ افسروں کو پیش کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اسے غرناطہ کے قریب واقع شہر برسلز میں خلیجی ممالک کے سفیروں کی بیگمات کے لئے ایکسٹرا لارج موم جاموں کا بوتیک “بے کراں” چلاتے بھی دیکھا۔ تب یہ بیرون منگولیا کے خفیہ محکمے کی زیر زمیں خدمات انجام دے رہا تھا۔ میں نے اسے رحیم یار خان میں بچوں کو اسکول لے جانے والی ویگن چلاتے دیکھا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ بدھ مت کے مقدس مقامات میں رانچی اور بہرائچ کے قصبے بہت حساس مقام رکھتے ہیں۔ میں نے عبدالقدوس جہلمی کو گیا کے ایک کائی زدہ پرانے مندر کے باہر ٹیلی فون کے متروکہ کھمبے پر چڑھ کر دوربین سے یاتری خواتین کے بارے میں معلومات جمع کرتے بھی مشاہدہ کیا۔ چار پہیوں کی جستی گاڑی پر مردہ بطخوں کی یخنی فروخت کرنے والے ایک معروف غذائی ماہر نے بتایا کہ حاجی بگو گوشہ کے نام سے مقامی آبادی میں اچھی شہرت رکھنے والا یہ شخص صوبہ جھاڑ کھنڈ کی سی آئی ڈی کے ساتھ گہرے رابطے میں تھا اور وہاں مولانا طاہر اشرفی کا اعزازی کونسلر بھی تھا۔ عالمی منصوبہ یہ تھا کہ اسماعیلی اور پارسی کمیونٹی کی مدد سے ممبئی کو بھارت سے الگ کر دیا جائے تاکہ بھارت کی فلم انڈسٹری ہر لبنان کی فلانجی ملیشیا کی بالادستی قائم کی جا سکے۔ فلانجی قبیلہ صدیوں سے حق خود ارادیت کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس قوم کی معیشت کا انحصار جنگلی زیتون کے اچار (روغنی) اور خوش سیرت نوجوان خواتین پر رہا ہے۔ طاہر اشرفی ایک صاحب عرفان بزرگ افریقہ کے توتسی قبیلے (غیر آدم خور) میں گزرے ہیں۔ فلانجی قبائل کے ساتھ ان کی رسم و راہ کا دوررس مقصد یہ تھا کہ صومالیہ کو سلامتی کونسل میں مستقل نشست دلائی جا سکے۔ جنوبی وزیرستان میں صومالیہ کے ایک ریٹائرڈ صحیح العقیدہ سابق فوجی افسر نے ٹلہ جوگیاں کے پولیس سربراہ (سفید پوش) کو یقین دلایا تھا کہ موغا دیشیو کی انقلابی حکومت سلامتی کونسل میں اسلامی دنیا کے مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گی۔

اللہ اللہ ، یادوں کا منہ زور دریا ہے کہ حدود قوانین کے تحت طویل قید کاٹنے والی بیوہ خاتوں کی طرح دائیں بائیں یلغار کرتا دریائی کٹاؤ جیسا بہلاوہ دیتا ہے۔ یہ سب شیطان اور اس کے زیر تربیت معاونین کا تزویراتی منصوبہ ہے کہ ہم ان کے طاغوتی عزائم کا کھوج نہ لگا پائیں۔ بہر صورت، راوی ضعیف پناہ مانگتا ہے شیطان لعین کے شر سے، اور ان وسواس سے جو جوان مستورات کے تجربہ کار شوہروں کے دل میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ اور واپس چلتا ہے حاجی عبدالقدوس کے ہزار پا عفریت کی جانب۔۔۔۔۔

یہی گلابی سردیوں کے دن تھے۔ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کے بالمقابل عرب ہوٹل کے عقب میں تلسی پلاؤ کا دیگچہ میں نے لگا رکھا تھا۔ ارد کی بے دھلی دال اور رانی کھیت سے مرنے والی مرغی کا قورمہ ہمارے عائلی دسترخوان کا خاص نسخہ تھا۔ میری مرحومہ اہلیہ کے سوتیلے ماموں منشی حسام الدین مغلئی سابق گورنر پنجاب لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) عتیق الرحمن کے مطبخ سے وابستہ تھے۔ یہ مقوی غذا گورنر ہاؤس میں خاص اہتمام سے ضمیر فروش علما کے لئے تیار کی جاتی تھی، نفخ پیدا کرتی ہے اور جگر کے ورم میں مفید ہے۔ دماغ پر ایک موٹی تہ چربی کی اس سے ایسی چڑھتی ہے کہ عقل کی روشنی بھیجے تک نہیں پہنچتی بھلے تھری ناٹ تھری کی بندوق میں افلاطون کی منطق بھر کے کنپٹی پر چلاؤ۔ تو بھائی یہی نسخہ “سیل متاہل مغلظ” کے از روئے گرامر غلط نام سے خلق خدا کے فائدے کے لئے اور بھوکوں کا پیٹ بھرنے کی غرض سے دکان پر رکھا۔ تلسی کی خوشبو اڑتی تو گوالمنڈی کے تین منزلہ بوسیدہ مکانوں میں چچا زاد کا انتطار کرتی کنواری لڑکیوں کے دل بدچلین دو رنگی پتنگ کی طرح ڈولنے لگتے۔ دوکان پر اس قدر بھیڑ کہ تھالی پھینکو تو سروں پر جائے، مگر یہ کہ تھالی پھینکتا کوئی نہیں تھا۔ ہاتھ میں تھالی پکڑے تلسی پلاؤ مانگتے تھے۔ کوئی منچلا مرغ کی بوٹی مانگتا تو ارد گرد کھڑے سن رسیدہ بزرگ اسے شک بھری نظروں سے دیکھتے تھے۔

ایک صحافی بہت مشہور، کوثر و تسنیم کی زبان لکھنے والے، تلسی پلاؤ کی شہرت سن کر آئے۔ راز بھرے لہجے میں دریافت کیا کہ رانی کھیت سے مرنے والی مرغی دیسی تھی نا۔ عرض کی کہ اس قدر دیسی کہ پولٹری فارم تو کیا کبھی ہمارے ڈربے کا منہ بھی نہ دیکھا۔ مقامی مدرسے کے بلتستانی مولوی کو پچاس روپے دے کر چار لڑکے مضبوط ہاڑ کے بیگار میں منگوائے تھے۔ ارد گرد کے چھ دیہات میں گھورے پر غنودہ حالت میں بیٹھی مرغیاں بوریوں میں بھروائیں۔ صحافی نے خوش ہو کر تین پلیٹ تلسی پلاؤ کھایا، برکت کا یہ عالم کہ تین نرینہ اولادیں اسے چار سال میں نصیب ہوئیں۔ صحافی نے خوش ہو کر مجھے ایمسٹرڈم کے ایک سنیاسی بابا اور دبئی کے ایک بھارتی نژاد ساہوکار کا فون نمبر عنایت کیا اور کہا کہ سنیاسی بابا کا نسخہ اور سورت بندرگاہ کے ساہوکار کا مال ملا کر استعمال کرو تو حساس اداروں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

بات تلسی پلاؤ کی ہو رہی تھی۔ میری دکان تو مختصر تھی۔ مگر سڑک پر دو رویہ میز کرسیاں بچھا دی تھیں۔ ایک میز فرحت عباس شاہ، سعد الله شاہ، وصی شاہ اور ممبر پارلیمنٹ خورشید شاہ کے لئے مخصوص تھی۔ سید لوگ جس کے سر پر ہاتھ رکھ دیں اس کی پشتوں کا نصیبا سنور جاتا ہے۔ آپ نے کشتوں کے پشتے لگانے کا محاورہ تو سن رکھا ہو گا۔ قریب ہی ایک میز کو دکان کے لڑکے ملامت خانہ کہتے تھے۔ یہاں شہرزاد کا ابو الحسن، ملکہ بلقیس کا داروغہ، پنڈت سرشار کا خوجی اور عبدالقدوس جہلمی تلسی پلاؤ کھانے آتے تھے۔ یہیں میری عبد القدوس سے رسم و راہ ہوئی۔ ایسی تیار کاٹھی گویا کتب صاحب کی لاٹھ۔ گفتگو میں حال کا صیغہ کبھی استعمال نہیں کرتا تھا، پیشگوئی کرتا تھا۔ قومی سلامتی کے راز بیان کرتا تھا۔ ماڈل ٹاؤن کیس کی تیسری ضمنی سابق وزیراعظم کے گلے میں لٹکا دی جائے گی۔ ملک ریاض کو تھائی لینڈ میں سفیر لگا دیا جائے گا۔ میں کل صبح تلسی پلاؤ کی دو پلیٹیں کھاؤں گا۔ ایان علی کا نام پھر سے ای سی ایل میں ڈال دیا جائے گا۔ بول ٹیلی وژن کے بانی کا نام زیڈ اے سلہری ہوگا۔

عبد القدوس جہلمی نے مجھے اس طرح اپنی جادو بیانی کا اسیر کیا کہ میں نے تلسی پلاؤ پر لعنت بھیجی، چلتی ہوئی دکان بڑھا دی۔ نواب شاہ میں روزنامہ بدگمان کا بیورو چیف مقرر ہوا۔ ایک مقامی پولیس والے سے رات دس بجے کے بعد شادی کی تقریب سے ضبط کیا ہوا کیمرہ سپرداری پہ حاصل کیا۔ ایک کلو کھجور اور دو ڈبے قلا قند کے اس تھانہ محرر کے لائن حاضر سسر کو پہنچائے۔ اس کیمرے کی برکت سے ملک کے سب سے بڑے ٹی وی چینل نے مجھے کچے کے علاقے میں نمائندہ خصوصی مقرر کیا۔ یہ جو آپ کے بزرگوں کی دعا سے اس ڈیوڑھی پر ہن برستا نظر آ رہا ہے یہ روزنامہ “بدگمان” کے اس کارڈ کی بدولت ہے جس سے بہتر تعویذ مولوی عبد القدوس جہلمی کی کتاب میں بھی نہیں لکھا۔ کیمرہ اگرچہ پرانا ہوگیا ہے مگر دن کے پہلے پہر ڈسٹرکٹ ہسپتال شعبہ حادثات کے باہر دھوپ میں رکھ دیتا ہوں۔ رات بھر ہسپتال میں مرنے والوں کی لاشیں دن چڑھے برآمد ہوتی ہیں۔ نماز ظہر کے بعد کیمرہ قبرستان کے دروازے کے باہر نصب کر دیتا ہوں۔ جنازوں کے ہمراہ آنے والے لواحقین کے خصوصی انٹرویو کرتا ہوں۔ نیو یارک وال سٹریٹ کے بھاؤ پوچھتا ہوں۔ چین میں بدعنوان افسروں اور شر پسند مسلمانوں کے گٹھ جوڑ پر رائے لیتا ہوں۔ گوادر میں گہرے پانی کی آلودگی سے مچھلیوں کی افزائش پر اثرات دریافت کرتا ہوں۔ یہی کیمرہ آپ کی دعا سے شام کو مقامی وڈیرے کے اوطاق میں پہنچ جاتا ہے۔ رات گئے منعقد ہونے والے ثقافتی شو کی سی ڈی لاہور کے ہال روڈ پر اچھا بھاؤ لیتی ہے۔ عبدالقدوس جہلمی میرا محسن ہے۔ کوئی عبدالقدوس جہلمی کے بارے میں برا کہے تو میں اس کا سر پھاڑنے پہ تیار ہوجاتا ہوں۔ یہ شخص مشتبہ ہرگز نہیں ہے، پہنچا ہوا بزرگ ہے۔ خلق خدا کے فائدے کے لئے بہروپ بدل بدل کر ظاہر ہوتا ہے۔ وطن عزیز کی سلامتی کے لئے ڈیرہ بگٹی، تین تلوار کراچی اور بلیو ایریا اسلام آباد میں سر گاڑی پاؤں پہیہ کیے رہتا ہے۔ پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں