جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی دھمکیوں کے باوجود فلائٹ آپریشن جاری


piaحکومت اور پی آئی اے ملازمین آمنے سامنے آ گئے ، فضائی آپریشن معطل کرنے کی دھمکی دے دی ، حکومت نے لازمی سروس ایکٹ نافذ کر دیا ، تمام یونینز تحلیل ہو گئیں ، ہڑتال یا احتجاج کرنے والے ملازمین اب گھر جائیں گے یا جیل ، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے ، وہ حکومتی لاٹھیاں کھانے کیلئے تیار ہیں۔ لاہور اور کراچی ایئر پورٹ پر واٹر کینن پہنچا دی گئیں ، ملک بھر میں فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق جاری ہیں، جبکہ پی آئی اے ملازمین نے آج سے فلائیٹ آپریشن معطل کرنے کی دھمکی دی تھی جس کے بعد حکومت نے بھی جوابی وار کرتے ہوئے چھ ماہ کیلئے لازمی سروس ایکٹ 1952 نافذ کر دیا ، ایکٹ کے نفاذ کے بعد اب پالپا ، ساسا ، ایئر لیگ اورپیپلز لیگ سمیت تمام یونین تحلیل ہو گئیں ہیں۔ پی آئی اے ملازمین ائیر پورٹ اور دفاتر میں احتجاج نہیں کر سکیں گے ، ائیر پورٹ پر پولیس اور رینجرز کی نفری تعینات کر دی گئی۔ دوسری جانب لازمی سروس ایکٹ کے نفاذ کو بھی ملازمین نے مسترد کرتے ہوئے ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا بھی اعلان کیا ، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے جناح ٹرمینل پر دھرنا دینے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئر مین سہیل بلوچ کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا ان کا حق ہے لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے لیے تیار ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ ہڑتال کرنے والے قومی ایئر لائن کو زیرو کرنا چاہتے ہیں ، ملازمین کا روزگار داو¿ پر لگانے والے جلد انجام کو پہنچیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ فرائض انجام دینے والے قومی ایئر لائنز کے ہیرو ہیں ، ایسے ملازمین کو جلد خوشخبری ملے گی ، انہوں نے کہا کہ ہڑتال کرنے والے پی آئی اے کو زیرو کرنا چاہتے ہیں ، احتجاج کرنے والے چند لوگ پی آئی اے ملازمین کا روزگار اپنے ذاتی مفادات کے لیے داو¿ پر لگا رہے ہیں ، پی آئی اے ملازمین کا روزگار داو¿ پر لگانے والے جلد انجام کو پہنچیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments