ہمیں معاف ہی رکھیں بی بی


 

zeffer2

تمام الہامی مذاہب کی کتابوں میں یہ ذکر ہے، کہ حوا نے آدم کو ورغلایا۔ کسی ایک جگہ یہ ذکر نہیں، کہ ورغلانے والا آدم تھا۔ اسی طرح ہندوؤں کی مذہبی کہانیاں عورت کی چال بازیوں سے منسوب ہیں۔ یونانی اساطیر کی دیویاں ان کے کردارکی گواہ ہیں۔ ان باتوں کے جواب میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے، کہ یہ تمام کتابیں مردوں پہ اتری ہیں، یا تحریف کی گئی ہے۔ اس لیے ہر مقام پر عورت کو سازشی دکھایا گیا ہے۔ یہ کہنے سے بات نہیں بنے گی۔۔

ہمارے جیسے سماج میں عورت اپنی مظلومیت کا بڑا شور مچاتی ہے۔ عموما جنسی استحصال کا رونا روتی ہے۔ ہراساں کیے جانے کی دہائی دیتی ہے، لیکن ہم ایسے مردوں کو بھی جانتے ہیں، جنھیں ان کی کم سنی میں ان سے عمر میں بڑی عورتوں نے جنس کی لذت سے آشنا کرایا۔ ایسے مرد یہ کہتے نہیں پاے جاتے کہ ان کا جنسی استحصال ہوا ہے۔ سماج کی تربیت کی یہ کجی عورت میں رہ گئی ہے، کہ مرد اور عورت کے تعلق میں عزت اسی کی جاتی ہے۔ گویا اسی شئے کا نام ‘عزت’ ہے۔

عورت کو یہ گلہ ہے، کہ وہ جہاں سے گزرتی ہے، اسے گھورا جاتا ہے۔ یہ مرد عورت کا مسئلہ نہیں، سماج کی گھٹن ہے۔ عورت ہی کو نہیں چکنی چمڑی والے لڑکے کو بھی گھورا جاتا ہے۔ لہاذا یہ کہنا کہ عورت کی محرومی کا ذمہ دار مرد ہے، تو یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ ہراساں کرنے کی بھی سنیے، بھرے بازار میں کھڑی عورت کہ دے کہ اسے فلاں مرد نے چھوا ہے، ملزم کی گواہی کوئی نہیں لے گا، سب عورت کے حمایتی بن کر مرد کو سبق سکھانے لگ جائیں گے۔ مرد، مرد کا حریف ہے، اور عورت، عورت کی۔ دیکھا جاے تو عورت کو پستی کی طرف لے جانے والی اسی کی ہم جنس ہے۔ مرد نہیں۔

مستثنیات کو چھوڑ کر، مرد عورت کو پسند کرتا ہے، اور عورت مرد کی حیثیت کو۔ تواریخ گواہ ہے، کہ بادشاہوں نے عورت کی چاہ میں تخت تک چھوڑ دیئے۔ کہانی من گھڑت سہی، لیکن اس میں بھی قلوپطرہ تخت بچانے کے لیے مکاری دکھاتی ہے۔ ارسطو سے لے کر، نطشے تک ہر ایک، عورت کو مکار کہتا آیا ہے۔ آدم سے لے کر، کنگ ایڈورڈ ہشتم تک، مرد تخت قربان کرتا آیا، جنت بدر ہوتا آیا ہے۔

مفکرین کا کہنا ہے، کہ مکر غلاموں کا وصف ہے۔ کم زور سامنے سے وار نہیں کر سکتا تو مکاری کا سہارا لیتا ہے۔ چوں کہ سماجی طور پر عورت کم زور ہے، اس لیے مکر کرتی ہے۔ یاد رہے جہاں مرد کم زور ہوتا ہے، وہاں وہ مکاری سے کام نکالتا ہے۔ سماج کے پسے ہوے یا محکوم طبقات اسی قسم کی ذلتوں میں لتھڑے ہوتے ہیں۔ عورت غلامی سے آزادی چاہتی ہے، تو مرد کی حیثیت کو نہیں، اس کے کردار کو چنے۔ مرد عورت سے رپیا پیسا دولت کا متمنی نہیں‌ ہوتا، یہ عورت ہی ہے۔ مرد سے زیور کا مطالبہ ہو تو یاد رکھیں، زیور غلاموں کی زینت ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 84 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

5 thoughts on “ہمیں معاف ہی رکھیں بی بی

  • 02-02-2016 at 8:28 pm
    Permalink

    دلچسپ

  • 03-02-2016 at 10:42 am
    Permalink

    ظفر عمران کے ہاں ندرت خیال بھی ملتی ہے اور مسحور کن انداز بیاں بھی۔ میڈیا سے وابستہ ہیں اور ان کے تصنیف کردہ کئی ڈرامے عوام کی پسندیدگی کی سند پا چکے ہیں۔ شکیل عادل زادہ صاحب کی تقلید کرتے ہیں اور پاؤں کو پانو، گاؤں کو گانو اور صوفے کو سوفے لکھنے پر مصر ہیں اور اس کی سند بھی لے آتے ہیں۔ منفرد ہجے استعمال کرنے والے اس منفرد مصنف کی تحریر کیف و سرور کی ایک نئی دنیا میں لے جاتی ہے۔

  • 03-02-2016 at 11:20 am
    Permalink

    دل کی بات

  • 03-02-2016 at 12:36 pm
    Permalink

    You are presenting some facts with different perspective. It doesn’t mean that being woman is an easy in our society (another reality is that its not easy in any society and its apply to whole world and obviously with different reasons) but when we point out certain causes that affect the life of women here, then we should be fair enough to present fair analysis and do not point finger only towards Man & Male Male chauvinism.
    A very interesting point mentioned in a recent study (conducted in Europe so obviously it is “100% correct”… !) that “Women likes ‘bad boys'”. Full study is as follows.
    http://www.details.com/story/science-reveals-why-women-like-bad-boys

  • 03-02-2016 at 3:03 pm
    Permalink

    احباب کا شکریہ جنهوں نے دل چسپی سے پڑها.

Comments are closed.