بہن کو انسان ہی نہیں سمجھتے، تو کیا لکھیں؟


اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ بہن کے بارے میں سوال نہ پوچھے جائیں، کیا رشتہ مانگنا تھا جو ایسی باتیں پوچھ رہے ہیں؟ مقدس رشتے کو پامال کیا جا رہا ہے۔ ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق بہن کے ذکر پر جلال میں آ گئے ہیں کہ ہماری بہن کا نام ہی کیوں لیا۔ بظاہر بے ضرر سے سوال ہیں مگر بہن کا ذکر آنے پر ان کے جذبات کا امڈ آنا لازم ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ محلے کی لڑکیوں سے درس گاہ کی لڑکیوں تک سب کو آنکھوں سے اسکین کرنے والے اسی نظر سے اپنی بہن کو کیسے دیکھیں؟

بہن تو بہن ہے وہ کالی گوری سانولی، چھوٹے قد والی، لمبے بالوں والی یا دلفریب نین نقش والی کیسے ہو سکتی ہے؟ بلکہ وہ انسان ہی کیسے ہو سکتی ہے؟ ہم اسے تعلیم، لباس، زندگی کے فیصلے تک کی آزادی نہیں دیتے اور آپ گھر تک پہنچ رہے ہیں؟ بہن بھائی کے مقدس رشتے کو نشانہ بنانے کی سازش ہے یا روایات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے؟

بات بعد میں ہوتی ہے اور روایات پہلے خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ روایات بھی شاید وطنِ عزیز کی سالمیت یا قومی سلامتی ہیں جنہیں ہر بات سے خطرہ ہے سو خاموش رہا جائے۔ آپ اپنی بہن کے بارے میں ایسا سوال برداشت کر سکتے ہیں؟ سوال کرنے والا کوئی اور ہے ممتحن کوئی اور ہو گا، ہو سکتا ہے دونوں جوان یا دونوں ہی بوڑھے ہوں۔ انہیں آپ کی بہن کا رشتہ لینے میں دلچسپی نہ ہو تو آپ کیوں اس کی نیت پہ اعتراض کر رہے ہیں؟ کیا آپ نیتوں کا حال بھی جاننے لگ گئے ہیں؟

پھر کسی نے کہا ہمارے معاشرے میں بہن کے بارے میں ایسے سوال نہیں پوچھے جاتے۔ آپ اگر ہر بات پہ اپنے معاشرے کی درخشاں مثالوں کا ذکر کرنا چھوڑ دیں تو کیا فرق پڑ جائے گا؟ ”مائی فادر“ یا ”مائی مدر“ پہ مضمون لکھنے کا کہیں تو کیا کوئی آپ کے ماں باپ تک جا رہا ہے؟ والد کے گریبان تک پہنچ رہا ہے یا والدہ کے دوپٹے پہ ہاتھ ڈال رہا ہے؟ ایک مضمون پہ معاشرے کی درخشاں روایات کا ذکر کرتے ہوئے کبھی یہ یاد آیا کہ کتنی بہنیں غیرت کے نام پر قتل ہوئی ہیں؟

تیزاب گردی سے لے کر جنسی طور پہ ہراساں کرنے والے سب اسی معاشرے کا حصہ ہیں وہ کوئی باہر سے نہیں آئے۔ کیا وجہ ہے کہ یہاں بہن کے نام پر آپ ایسا ردِعمل دے رہے ہیں کہ میری بہن کا نام آپ کی زباں پر کیسے اور کیوں آیا؟ عجیب بات ہے یہیں اسی معاشرے میں ناطق سا ادیب اپنی بہن کے قتل پہ افسردہ ہے، تھانہ کلچر جو دعوے کے باوجود نہیں بدلا سب بھگت رہا ہے اور یہاں شور مچا ہوا ہے کہ بہن کا نام کیوں لیا؟ اگر وہ بھی یہی سوچے کہ میری بہن کا نام اتنے لوگوں کی زبان پر آئے گا تو قاتل کے ساتھ انصاف کیسے ہو؟

بہن تو بہن ہے وہ بھلا موٹی یا پتلی، صحت مند یا بیمار، شوخ و چنچل یا خاموش طبیعت، پڑھی لکھی یا ان پڑھ، غصے والی، حساس، جھلی کیسے ہو سکتی ہے؟ یا آپ نے اتنا سوچا ہی نہیں کبھی؟ میری بڑی بہن تو ہے نہیں۔ ایک عرصے تک والدہ کو سب بڑی بہن ہی سمجھتے تھے پھر اماں کو احساس ہوا کہ انہیں ماں لگنا چاہیے تو کافی کوشش کی مگر ماں وہ اب بھی نہیں بن سکیں۔ چھوٹی بہن ہے تو وہ گھر سے باہر بھی جاتی ہے، پڑھی لکھی ہے، قد میں مجھ سے لمبی ہے، اور کوئی اس کی تعریف میرے سامنے کرے تو میری غیرت کو بھی تکلیف نہیں پہنچتی۔

ایک رپورٹر کے طور پہ اس نے پیکج بنائے تو وہ مختلف تھے، خوداعتماد ہے، بہادر ہے، کبھی تھک کے رو دیتی ہے مگر ہمت نہیں ہارتی۔ میرے کپڑوں پہ اس کا کاپی رائٹ ہے تصویر دیکھ کر علم ہوتا ہے کہ محترمہ قبضہ کر چکی ہیں اور اس بات پر خوش بھی ہے کہ اس کے کپڑے میں صرف دیکھ کر ہی خوش ہو سکتی ہوں۔ اگر کسی روز وہ چپ بیٹھی ہو، نہ گنگنائے نہ ہی ناچ رہی ہو بلکہ سڑے ہوئے اسٹیٹس دے یا سوا سو سال پرانے گانے سنے تو ہم تینوں بہن بھائی ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں اسے کیا ہوا ہے آج؟

کیوں دکھی آتما بنی ہوئی ہے؟ نہ ہی اس کے جیسی خوداعتماد ہوں نہ ہی ان تھک قسم کی مخلوق۔ البتہ میرے معاملے میں میرے بہن بھائیوں کا مشترکہ مؤقف ہے کہ یہ گِٹھی ہے کیونکہ یہ سوچتی بہت ہے تو اس کا قد چھوٹا رہ گیا اور اسے کہیں کوئی پھینک گیا گلی سے اٹھایا ہو گا کیونکہ اس کا رنگ بھی نہیں ملتا ہم سے۔ اب ان سب باتوں سے بے تکلفی نظر آتی ہے یا بے حیائی وہ آپ کی مرضی ہے جو سمجھنا چاہیں۔

خیر کچھ دیر تسلی سے بیٹھیں، آنکھیں بند کریں اور سوچیں آپ کی بہن کیسی ہے؟ کوئی خدوخال کوئی نین نقش واضح ہوتے دکھائی دیتے ہیں یا نہیں؟ واضح رہے کہ اگر آپ جسمانی ساخت کی بنیاد پر کسی قسم کی تفریق کے قائل ہیں یا جسم کے علاوہ کچھ اور سوچ ہی نہیں سکتے تو آپ کی ذہنی آلودگی کے ذمہ دار ہم سب نہیں ہیں۔ اپنا علاج کرائیں اور تقدیس کی چادریں مزار پر چڑھا دیں یا کسی غریب کو دے دیں، آپ کی بہن انسان ہے، انسان کو انسان سمجھیں گے تو ہی بہن کو انسان سمجھیں گے۔

وہ صرف آپ کے اپنا ساتھ رشتہ نبھانے اس دنیا میں نہیں آئی، اسے کسی سے محبت بھی ہو سکتی ہے، وہ تندرست یا بیمار بھی ہو سکتی ہے، سجنا سنورنا اور اپنا خیال رکھنا اس کا حق ہے مگر آپ دیکھیں چاہے اپنے رشتے کی آنکھ سے ہی دیکھیں تو ایک مکمل جیتا جاگتا انسان سامنے ہو گا جسے آپ کی توجہ اور پیار کی ضرورت ہے۔ آپ ہی سوچیں اس کی خاموشی مزاج کا خاصا ہے یا جبر کی دین ہے؟ اس کے قہقہے ناگوار گزرتے ہیں یا وہ ہنستی مسکراتی اچھی لگتی ہے؟

کیا وہ اپنے بھائی کے کندھے سے لٹک کر فرمائشیں کر سکتی ہے؟ کیا اس کے ساتھ مل کر بچپن میں کی گئی کوئی شرارت یاد ہے آپ کو؟ اسے کامیاب دیکھنا، آگے بڑھتے دیکھنا آپ کو حسد میں مبتلا کرتا ہے یا آپ کو خوشی محسوس ہوتی ہے؟ آپ رات گئے بائیک پہ اس کے ساتھ گھومنے جا سکتے ہیں؟ اپنی پسند کے گانے اور فلمیں اکٹھے دیکھ سکتے ہیں؟ کیا بہن بھائی سینما میں جا کر فلم دیکھتے ہیں یا اس کی گنجائش بھی نہیں ہے؟ کیا وہ آپ کو بتا سکتی ہے کہ وہ کسی کو پسند کرتی ہے؟ بہنوں کے بھائی اگر اتنے فاصلے نہ رکھیں تو شاید یہ رشتہ بھی تکلف اور مروت کی فضا سے آزاد ہو سکے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

One thought on “بہن کو انسان ہی نہیں سمجھتے، تو کیا لکھیں؟

  • 15/11/2016 at 9:37 am
    Permalink

    ڈبلیو گیارہ بس اور ہم
    تحریر
    ببرک کارمل جمالی
    کراچی کی سب سے خوبصورت اور بہترین بس وہ ہے ڈبلیو گیارہ کہتے یہ بس پہلی مرتبہ جب کراچی کے سڑکوں پہ آیا تو سب لوگ اس پہ سفر کرنے کے خواہش مند بن بیٹھے
    بس پھر کیا تھا کراچی کی قسمت ہی جاگ گئی ہو جیس اس کے اوپر نیچے مسافروں کو مال مویشیوں کی ڈالا جانا لگا۔ جس روز بس نہ چلتی اس روز بسی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی تھی یہ کیفیت ظاہر کرتے تھے مسافر ہر وقت جس روز بس سڑک پہ نہ آتی تھی ۔
    اگر خوش قسمتی سے بس میں سیٹ مل جائے تو بھی ان تمام آفات و بلّیات سے نجات نہیں ملتی جو کھچا کھچ بھری بس میں ایک دوسرے میں پیوست مسافروں پر مسلّط رہتی ہیں، بلکہ بعض مرتبہ تو اُن میں اضافہ ہی ہوجاتا ہے۔ اگر کراچی کی بسوں کے اندر مسافروں کا رش دیکھنا ہے تو بس ڈبلیو گیارہ میں دیکھا جا سکتا ہے
    کراچی کی بسوں کے مسافروں ہمیشہ پریشان رہتے ہے کبھی جیب کتروں سے تو کبھی بھتا خوروں سے تو کبھی لٹیرو سے شہری جائے تو کہا جائے۔
    ہمیں تو بارہا اس کے تجربے ہوچکے ہیں، کہ بہت سے لوگوں کا ہاتھ اپنی جیبوں میں جانے کے بجائے ہماری جیب میں چلا آتا ہے ہم اپنی آنکھیں لمبی کر دیتے تو وہ بندہ ڈر جاتا تھا
    خیر بات ہورہی تھی بس کے سفر کی، جس میں اکثر ایسا ہوا ہے کہ کھجلی کسی کو ہورہی ہے اور کھجا کسی اور کو دیا جاتا ہے۔ بعض لوگوں کی انگلیاں دوسروں کے جسموں کو چھو جاتی ہیں۔
    یہ تو اکثر ہوتا ہے کہ موبائل فون کی بیل کسی اور کی بجتی ہے اور ہاتھ ہمارا اپنی جیب میں چلا جاتا ہے، لیکن ایسا ہمارے ساتھ بھی اس ڈبلیو گیارہ پہ کئی مرتبہ ہوا ہے
    مسجد کے لیے چندہ وصول کرنے والے مولوی اپنے طویل و عریض کبھی آپ کو ڈبلیو گیارہ پہ نہیں ملے گے کیونکہ ان بسوں میں جگہ ہی نہیں ملتیان کے میگا فون بھی تو ہوتا ہے، شاید ان کا خیال یہ ہو کہ بسوں کے مسافر بہرے ہوتے ہیں، اسی لیے وہ لوگوں کے کانوں سے قریب کرکے میگافون پر اطلاع دے رہے ہوتے ہیں یہ چھوٹی سی داستان ہمیں ڈبلیو گیارہ بس کے ایک ڈرائیور نے بتائی ہے انہوں بہت کچھ بتایا بس کن روٹ پہ جاتی اور کہا کہا تک روکتی ہے ہم بھی اس روز بنے ڈبلیو گیارہ کے مہمان اور معمار چوک چلے کراچی کے صدر تک آخر بڑی تھکاوٹ کے بعد دو گھنٹوں میں ہم صدو پہنچ گئے صدر کی مشہور قلفعی کھائی کچھ سامان خریدے اور پھر ڈبلیو گیارہ کا رخ کیا ڈبلیو گیارہ جناح روڑ سے گزرتی ہے ہم نے مسلسل تین بسیں چھوڑی شائد کوئی بس خالی آجائے مگر پھر بھی کوئی بس خالی نہ آیا تو ہم نے ڈبلیو گیارہ کے چھت پہ کنڈیکٹر نے بیٹھنے کو کہا پھر کیا ہوا کچھ بس آگے بڑھا تو اسی نے آواز دی ارے بس کے اوپر سو جائو ورنہ چالان ہو جائے گا یار سو ہم بھی بس کے چھت پہ سو گئے جیسے گرو مندر کراس کیا تو ہم کو بیٹھنے کا آرڈر دیا گیا سو ہم بیٹھ گئے سیٹ نمبر چھت پہ۔۔
    اگر دل اجازات دے تو ڈبلیو گیارہ ضرور دیکھیں۔کچھ پل ڈبلیو گیارہ کے ساتھ میں کنھی بھول نہیں سکتا ہوں ویسے یہ پل بھولنے کے قابل ہی نہیں ہے ۔
    اور بس اپنی منزل کی طرف چل پڑھی پھر کیا تھا بس ایسے بھر گیا جیسے بھڑ بکری اس بسے میں سوار ہو مسلسل دو گھنٹوں تک کراچی کی سڑکوں پہ چلتی رہی آخر ہم جب اپنی منزل پہ اترے تو جیسے ہم لاکھوں کلومیٹر کا سفر تے کر کے آئے ہوں ہم نے جب اپنا چہرہ شیشے میں دیکھا تو اپنے آپ کو بھی پہچان نہ سکے جلدی جلدی ہم نے پانی سے اپنا ہاتھ منہ صاف کیا اور پھر ہمیں اپنا اصل چہرہ نظر آگیا آج سے پانچ سال پہلے میں نے ایک اسٹوری آکسفورڈ پریس کیلئے ایک کہانی لکھی تھی وہ چھپی بھی تھی جس میں میں یہ لکھا تھا کراچی میں دو چیزین مشہور ہے ایک کراچی کا سمندر دوسرا کراچی کا انسانی آبادی مگ آج میں یہ کہتا ہوں اگر اس میں ڈبلیو گیارہ کی اضافہ کر دے کوئی ہرج نہیں ہے دوستو اگر آپ کا کبھی بھی کراچی آنا پڑے تو ڈبلیو گیارہ پہ ضرور سفر کریں اور پوری زندگی یاد کریں گے سفر کو ہم بھی ابھی تک اس سفر کو نہ بھولے ہیں۔

Comments are closed.