سلیم لنگڑے پہ مت رو


کنگز کالج میں وہ سب کچھ ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی لفظی اور لغوی تعریف کے زمرے میں آتا ہے۔ بڑی بڑی راہداریاں، خاموش سیڑھیاں اور حشمت کے قدیم نشان۔ دیوار کی ایک طرف ورجینیا وولف کو اپنا لیا گیا ہے اور دوسری طرف ہگز بوسن والے پیٹر ہگز کی تصویر ہے۔ حالات کے ایک مختصر سے اگر مگر کے بعد اس شام، کنگز کالج سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ کنگز انڈیا انسٹی ٹیوٹ میں چند پڑھنے والوں نے ایک لکھنے والے کو سننے کے لئے بلایا تھا۔ سو سعید نقوی اپنی کتاب BEING THE OTHERS۔ کے بارے میں بول رہے تھے اور سب سن رہے تھے۔ مگر صرف سن ہی رہے تھے۔

سعید نقوی ان معدودے ہندوستانی مسلمانوں میں سے ہیں جو کامیاب کہلائے جا سکتے ہیں، رائے بریلی میں اب جس نشست پہ نہرو۔ گاندھی خاندان کا نام لکھا ہے وہ کسی زمانے میں ان سادات کی جاگیر تھی۔ نقوی صاحب کی باتیں، صرف باتیں نہیں تھی بلکہ و ہ نوحہ تھا جس میں تاسف سے زیادہ بے چارگی شامل تھی۔ ان کی ساری زندگی ٹی وی کی سکرین اور اخبار کے فلیپ پہ سرکار سے جواب مانگتے گذری، مگر اب ان کا ماننا ہے کہ ریاست، سوال سے بچنے کے لئے نئے سوال اٹھا رہی ہے، اور یہ سوال ان لوگوں سےکیے جا رہے ہیں جنہیں نصاب سے باہر دھکیل دیا گیا ہے۔

بات اودھ سے شروع ہوئی، اور حسرت موہانی کے بھجن سے ہوتی ہوئی اس شام پہ پہنچ گئی جس شام ایودھیا میں رام مندر کی بنیاد رکھی گئی۔ رات گذرتی جا رہی تھی اور صاحب کتاب، اپنی یادداشت کا ورق ورق کھول رہے تھے۔ اردو زبان، پنڈت نہرو کے دل کے کتنے قریب تھی، خلافت کی تحریک میں مسلمانوں کے ساتھ گاندھی کیسے کھڑے تھے، کراچی سے سعید نقوی کا بھائی صرف تین سال بعد یہ کہتے ہوئے کیوں واپس آ گیا کہ بھائی۔ It is too Muslim اور پھر محمد اخلاق کو جب مار ا گیا اور پولیس آئی تو انہوں نے مقتول کی لاش کو سنبھالنے کی بجائے، پہلے فریج میں بچے ہوئے گوشت کے نمونے کیونکر محفوظ کیے۔ ان کی باتوں میں وہ سچ تھا جو پہلے نصابوں سے نکلا اور اب حافظوں سے نکل رہا ہے۔ اس میں قرۃ العین حیدر کا وہ نہٹور تھا، جسے پہلے ہم نے اپنے حافظے سے کھرچا اور اب ہندوستان اسے ختم کر رہا ہے۔

تقریب کی نظامت، مارک ٹلی کے ایک مرید کے ذمہ تھی جو یہ ماننے سے بالکل منکر تھا کہ متحدہ ہندوستان میں مذہب کی سیاست، انہی کے بزرگوں کی عطا تھی۔ سو جب سعید نقوی نے یونیسکو کی فہرست سے شاہجہان آباد کے حزف کیے جانے کا نوحہ پڑھا تو ان صاحب سے رہا نہیں گیا۔ ’’ہندوستان کی ریاست نے آپ کو تعلیم دی، اچھی یونی ورسٹی میں پڑھنے کا موقع دیا، روزگار دیا، شہرت دی اور آپ، اب، عمر کے اس حصے میں شکوہ کر رہے ہیں۔ کچھ غیر مناسب سا لگتا ہے؟ سوال ترش تھا مگر سعید نقوی نے جو طویل جواب دیا اس کا مختصر مفہوم یہ تھا کہ کیا یہ طے ہو گیا کہ ریاست الگے کھڑی ہے اور میں الگ؟ ‘‘

سن 80 کی دہائی میں جاری رہنے والی مذہبی انتہا پسندی کے بعد سعید اختر مرزا نے 1989 میں ایک فلم بنائی تھی، ’’ سلیم لنگڑے پہ مت رو‘‘، ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے غیر منصفانہ سلوک اور اس کے رد عمل میں بڑھتی وئی لاقانونیت کی اس کہانی کا مرکزی کردار سلیم ہے۔ سلیم لنگڑا۔ ایک ایسا نوجوان جو پہلے جرم کے ایندھن سے زندگی کے جہنم کو دہکاتا ہے اور پھر توبہ تائب کرنے کے بعد، جرم نہ کرنے کی وجہ سے مارا جاتا ہے۔ مگر کہانی صرف سلیم کی نہیں ہے۔ سلیم کا کردار نبھانے والے پون ملہوترا، کا ماننا ہے کہ ستائیس سال گذرنے کے بعد بھی یہ فلم، پہلے دن کی مانند، حقیقت کے قریب ترہے۔

فلم میں ایک جگہ کہانی کا ایک کردار دوسرے سے پوچھتا ہے کہ اگر ہندو مسلمان کو مارتا ہے تو اس کا فائدہ کس کو ہے۔ جواب ملتا ہے ان لوگوں کو جنہیں یہ خوف ہے کہ اصلی سوال ننگے نہ ہو جائیں‘‘

سعید نقوی کو ہندوستان لوٹنا تھا اور اس سے پہلے اپنے ہوٹل، سو میں چاہنے کے باوجود انہیں نہیں بتا سکا کہ صرف ہندوستان میں ہی گاندھی کی جگہ، گوالکر کا مجسمہ نہیں لگ رہا، یار لوگ، واقعی سوچ رہے ہیں کہ سوال سے بچنے کے لئے بہتر ہے مودودی کو جناح صاحب سے بڑا آدمی بتایا جائے؟

مکمل فلم اس لنک پر کلک کر کے دیکھی جا سکتی ہے جبکہ مختصر اشتہار کے لئے نیچے ویڈیو دیکھیں۔


image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

One thought on “سلیم لنگڑے پہ مت رو

  • 17/11/2016 at 3:32 pm
    Permalink

    aiting moderation.

    ریل کی سیٹی کے مصنف نے دیار فرنک کی اک مجلس کا احوال خوب لکھا ہے مگر سوال
    کا جواب نہ ملنا، سوال کی آزمائش ہے!بھارت کے نقوی مسلمان اور پاکستان کے صدیقی
    دونوں کا ایک ہی المیہ ہے کہ وہ دھرم اور دین کے پجاری ہیں ابو اعلی مودودی بڑے مصنف
    ضرور تھے مگر موازنہ کیوں .

Comments are closed.