ارتقا کے نظریات۔۔۔ ڈارون سے آگے


1960میں علم الحیوانات کی برطانوی ماہر جین گُڈآل (Jane Goodall) نے تنزانیا میں تانگانیاسکہ جھیل کے کنارے گومبی کے جنگلات میں قدم رکھا۔ وہ ان جنگلات میں ڈارون کے نظریہ ارتقا سے جڑے ایک اہم سوال کا جواب تلاش کرنے آئی تھیں ۔ وہ انسان کے ہم عصر جدِ امجد چمپنزی میں انفرادی و گروہی تشدد کے رجحانات اور حرکیات کو سمجھتے ہوئے یہ جاننا چاہتی تھیں کہ لاکھوں برس پر محیط ارتقائی سفر طے کرنے کے بعد چمپنزی اور انسانی گروہی رویوں میں کیا تبدیلی واقع ہوئی ہے ۔

جین علم حیوانات کا مطالعہ کرنے والوں کی اس شاخ سے وابستہ تھیں جو حیواناتِ رئیسہ (primates) کا مطالعہ کرتی ہے اور زیر مطالعہ حیوانات کو رئیسہ اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ خود کو ارتقأ کی بلند ترین شکل قرار دینے والے انسان کا تعلق اسی خاندان سے ہے۔جین جانتی تھیں کہ انہیں متذکرہ بالا اور دیگر سوالات کے سائنسی جوابات تلاش کرنے میں لگ بھگ پچاس برس لگ جائیں گے کیونکہ ایک چمپنزی کی اوسط عمر پچاس سال سے زیادہ ہوسکتی ہے ۔

جین سے قبل یہ سمجھا جاتا تھا کہ صرف انسان ہی اوزاراستعمال کرنے والا جانور ہے ۔ تاہم انہیں گومبی میں قیام کے چند روز بعد ہی معلوم ہوگیا کہ چمپنزی بھی شکار اور جنگ میں ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔ اس پر جین کہتی ہیں :

اگر انسان کا طرہ امتیاز اوزار (tools) استعمال کرنا ہے تو پھر چمپنزی کو بھی انسان قرار دینا پڑے گا ۔

 جین چمپنزی کو بھی معاشرتی حیوان قرار دیتی ہیں کیونکہ وہ اپنے خاندان کے لوگوں سے گہری جذباتی وابستگی رکھتے اور ایک دُوسرے کا ساتھ دیتے ہیں ۔ چمپنزیوں میں بالغ نر شکار اور نئے کی مقامات دریافت کے علاوہ مادہ اور بچوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ تنزانیہ آمد سے قبل جین نے چمپنزی کے بارے میں بہت کچھ پڑھ رکھا تھا مگر انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ وہ اس کی توقع سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں اور صرف انسان کو سماجی حیوان قرار دینا غلط ہے ۔

چونکہ جین کا بنیادی مقصد انفرادی و گروہی تشدد کے رجحانات اور حرکیات کو سمجھنا تھا اس لئے جین کو اس وقت تک اپنے بنیادی سوال کا جواب نہ مل سکا جب تک کہ زیر مطالعہ چمپنزی قبیلہ کسی ’عظیم ‘ تنازعہ کی بنا پر دو متحارب گروہوں میں تقسیم ہوگیا اور الگ ہونے والے قبیلے نے کہیں دُور بسیرا کرلیا ۔اس پر ٹیم نے پہلے قبیلے کو کاسا کیلا اور الگ ہونے والے قبیلے کو کاہما کا نام دیا ۔ جین لکھتی ہیں کہ فرد کی طرح ایک گروہ کا بہتر مطالعہ دُوسرے گروہ سے تعلقات کی بنیاد پر کیا جاسکتا ہے کیونکہ ایک گروہ کی اصلیت اس وقت تک ظاہر نہیں ہوتی جب تک اُس کا واسطہ ’دُوسرے ‘ سے نہیں پڑتا ۔

کاسا کیلا قبیلے میں جنگجو نر تعداد میں کہیں زیادہ تھے اور ، تنازعے کے بعد ، جب بھی کاہما قبیلے کا کوئی کمزور رکن (بچہ یا مادہ ) طاقتور قبیلے کے ہاتھ چڑھتا تو اُسے فوراً قتل کردیا جاتا یا پھر کچا چبا لیا جاتا ۔دیگر رئیسہ حیوانات کے برعکس چمپنزی قافلے کی شکل میں سفر نہیں کرتے اور نہ ہی متوقع راستوں کا انتخاب کرتے   ہیں ۔ اس لئے کئی بار ایسا ہوا ایک اکیلا نر دشمن قبیلے کے کئی سورماؤں میں گھر گیا یا پھر ایک مادہ دشمن قبیلے کے کئی نروں کے نرغے میں پھنس گئی۔

یہ سب معمول کی’ گوریلا ‘ چھڑپوں کا حصہ تھا لیکن باقاعدہ جنگ کے لئے قبائل نے جنگل کا ایک حصہ میدانِ جنگ کے طور پر مختص کر رکھا تھا ۔ کاساکیلا قبیلے کے ’سفارت کاروں‘ کی کوشش تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ گروہوں کو اپنے ساتھ ملا کر جنگل کا زیادہ سے زیادہ حصہ اپنے قبضے میں کرلیں تاکہ کاہما قبیلے پر دائرہ حیات تنگ کیا جاسکے ۔\"jane-goodall2\"

جین یہ دیکھ کر حیران رہ جاتی ہیں کہ نر چمپنزی بوڑھی مادہ پر تشدد کرنا پسند کرتے ہیں ۔ کوئی بزرگ چمپنزی ان کے ہاتھ چڑھ جائے تو اسے اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ زخموں کی تاب نہ کر مر جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ چمپنزی اجنبی مادہ کا باقاعدہ شکار کرتے ہیں ۔ اس شکار میں بعض اوقات مادہ چمپنزی بھی حصہ لیتی ہیں اور اجنبی مادہ کو جنسی طور پر ناکارہ اور بدصورت بنانے کی کوشش کرتی ہیں ۔

1970 کی دہائی میں کاسا کیلا کے سورماؤں نے کاہماقبیلے کو نیست و نابود کردیاجس سے کسی دور میں ان کے انتہائی دوستانہ تعلقات تھے۔یہ دیکھ کر ٹیم اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ نسل کشی کا رجحان انسان کے ہم عصر آباؤ اجداد میں بھی موجود تھا ۔ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جنگ کے دوران مادہ چمپنزی شور مچا کر جنگی ترانے گاتی ہیں اور جب کمزور قبیلے کی مادہ کو مارا جارہا ہوتا ہے تو وہ نہایت خوشی کا اظہار کرتی ہیں ۔ اگر کوئی اجنبی ماں اپنی بچیوں کے ساتھ اکیلی سفر کررہی ہوتو حملہ آور چمپنزیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ماں اور بچوں کے درمیان تعلق کو تباہ کرنے کی کوشش کریں اور بچیوں کو اغوا کرکے جنسی کھلونے کے طور پر استعمال کریں ۔

اجنبیوں سے نفرت (xenophobia) چمپنزیوں کی گھٹی میں ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اجنبی لوگوں ، ثقافتوں ، زبانوں اور مذہبی رسومات سےنفرت ہماری چمپنزی یاداشت کا نتیجہ ہیں ۔

مادہ چمپنزی دشمن سمجھی جانے والی مادہ پر تشدد کے وقت خوشی کا اظہار کرتی ہیں ۔ ایک بار خوشی کا اظہار کرنے والیوں میں وہ نوجوان چمپنزی بھی شامل تھی جسے تشدد کا شکار ہونے والی چمپنزی نے پالا تھا ۔ لیکن اس وقت وہ محض دشمن قبیلے کی رکن تھی اور اس سے ہمدردی کا اظہار’ غداری‘ کے مترادف تھا ۔ کمزور قبیلے کی مادہ چمپنزیوں کو شیرخوار بچوں سمیت قتل کردیا گیا۔

جین نے پچیس برس جنگلات میں گذارے اور 1986 میں اپنی تحقیقThe Chimpanzees of Gombe نامی کتاب میں شائع کی جو ان کی جملہ تصانیف میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کتاب نے علمی و سائنسی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا اور باقی حیات کے ساتھ انسان کے ارتقائی سفر میں برابر شرکت کے دعوے پر کئی سوالیہ نشانات چھوڑدیے ۔

 نظریہ ارتقا پیش ہونے سے قبل انسان اپنے آپ کو کُروبیوں کی اولاد سمجھتا تھا لیکن ڈارون نے اُسے بندر کی ارتقأ شدہ شکل قرار دیا۔تاہم ڈارون کا نظریہ انسان کو بہر حال چمپنزی کی ارتقا شدہ شکل مانتا ہے جبکہ جین کی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ اگر انسان کو تشدد پسند ی کے زاویے سے دیکھا جائے تو وہ ہنوز ایک چمپنزی ہے جو ارتقأ کے واہمے میں مبتلا ہے ۔ جین کی تحقیق کو انسان مرکزی تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ لاکھوں برس کے ارتقائی سفر کے باوجود چمپنزی سے آدمی کا سفر انسان کے متشدد رویوں میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں لایا ۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ اس تحقیق سے یہ بنیادی سوال بھی جنم لیتا ہے کہ عمیق سائنسی تحقیق پر مبنی ڈارون کے نظریے کو ’ارتقا‘ کا نام اس مفروضے کے تحت دیا گیا کہ ایک سادہ حیاتیاتی خلیے کا کسی پیچیدہ نظام میں بدل جانا اور چمپنزی کا آدمی بن جانا ارتقا یعنی بدتر سے بہتر ہوجانا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان چمپنزی کے برعکس ماحول دشمن اور زمین کا خطرناک ترین جانور واقع ہوا ہے ۔ اس صورت میں ہم انسان کو ارتقأ کی اگلی کڑی نہیں ارتقائے معکوس کی دلیل قرار دے سکتے ہیں ۔اگر ہم چمپنزی سے انسان کے سفر کو ’ارتقأ ‘ کا نام دیتے ہیں تو پھر ہمیں یہ ماننا پڑے گا ارتقا کی اگلی کڑی پچھلی کڑی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے ۔

انسان چمپنزی سے زیادہ خطرناک واقع ہوا ہے کیونکہ وہ بھی جنگ لڑتے ہیں لیکن جنگ کو جنگ سمجھتے ہیں ۔ اپنے مفادات ، اختیارات اور طاقت کے لئے فساد و خون ریزی کو خُدا کی خوشنودی اور ارفع و اعلیٰ نظریات کے تحفظ کے لئے لڑی جانے والی جنگ قرار نہیں دیتے ۔ چمپنزی بھی جنگ کے دوران مخالف قبائل کی مادہ کو لونڈیاں بناتے ہیں لیکن اس قبیح عمل کی شان میں نہ کتابیں لکھتے ہیں اور نہ سدھانت گھڑتے ہیں ۔ چمپنزی بھی قتل کرتے ہیں لیکن دشمن کو اپنا دشمن مان کر مارتے ہیں خُدا کا دشمن قرار دے کر نہیں ۔چمپنزی بھی اسی زمین پر رہتے ہیں لیکن جب تک انسان نہیں بن جاتے اس وقت تک فطرت سے جو لیتے ہیں اُسے واپس لوٹاتے رہیں گے۔

فطرت اور جانداروں کے تناظر میں دیکھیں تو لاکھوں سالہ ارتقائی سفر کے دوران جہاں باقی مخلوق کا فطرت سے تعاون بڑھا ہے وہاں انسان کی فطرت اور ماحول سے مخاصمت بڑھی ہے۔ اس دوران انسان نے نہ ماحول کے ساتھ رہنا سیکھا ہے ، نہ اپنی نسل اور نہ دیگر مخلوق کے ساتھ ۔ جہاں زرافے کی گردن لمبی ہوئی ہے، درختوں اور پودوں نے جانوروں کے تحفظ کے لئے ایک دُوسرے سے رنگ بانٹے ہیں۔ جہاں تتلی ، شہد کی مکھی اور پھولوں کے درمیان اٹوٹ رشتوں نے جنم لیا وہاں انسان نے محض تباہی کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔اب یہ صلاحیت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انسان ایک بٹن دبا کر زندگی کا خاتمہ اور دھرتی کو بانجھ کرسکتا ہے ۔ فطرت کے لاکھوں سالہ تخلیقی عمل کے دوران اگر انسانی دنیا میں ارتقا کے نقوش پا دستیاب بھی ہیں تو وہ محض یہ ہیں کہ انسان نے تباہ کن جذبات اور ان کی تسکین کے ذرائع کو خوبصورت نام دیے ہیں ۔

دوسری طرف چمپنزی کو دیکھا جائے تو وہ آج بھی فطرت سے دوطرفہ لین دین کا قائل ہے ۔ وہ فطرت سے جو لیتا ہے وہ لوٹاتا ہے ۔ اس کے برعکس انسان نے سمندر مسموم کردیے ہیں اور سمندری مخلوق خطرے میں ہے ۔ برفانی مخلوق اس سے پناہ مانگتے ہوئے چھپتی پھر رہی ہے۔ بری مخلوق پر نگاہ دوڑائیں تو انسان نے زمین کو اپنے کنبے کے ساتھ ساتھ کسی مخلوق کے رہنے کے قابل نہیں چھوڑا ۔ نہ یہ زمین پر ساتھی جانوروں کے ساتھ رہ سکتا ہے اور نہ اپنی جیسے انسانوں کے ساتھ لیکن تفاخر کا یہ عالم ہے کہ اپنے آپ کو ارتقا کی آخری کڑی قرار دیتا ہے کیونکہ ’قرار‘ دینے کا حق صرف اسی کے پاس ہے ۔ چمپنزی سے انسان بننے کے سفر کو انسان تو ارتقا قرار دیتا ہے لیکن اس نے کبھی دوسری مخلوق، چمپنزی یا خود فطرت سے پوچھا ہے؟

اپنے آپ کو فرشتوں کی اولاد سمجھنے والے لوگ چمپنزی کی اولاد ہونے کا راز فاش کرنے پر ڈراون سے ناراض ہیں لیکن ناراض انسان کو نہیں چمپنزی کو ہونا چاہیے کیونکہ ڈارون نے بہر حال انسان کو چمپنزی کی ارتقا یافتہ شکل قرار دیا تھا لیکن جین کی تحقیق کے بعد شاید یہ بھی یقین نہیں کہا جاسکتا ۔

بعض لوگ اس سے ناراض ہوکر ریاست کو انسانی ارتقا کی دلیل قرار دیتے ہیں مگر غور نہیں کرتے کہ ریاست آج بھی قبیلے کی پیچیدہ شکل ہے جس کا بنیادی کام اپنے صحت مند جوان دُوسری ریاست کے صحت مند جوان قتل کرنے کے لئے تیار کرنا ہے ۔ اس وقت بھی دنیا بھر کی ریاستوں کے زیادہ تر اخراجات جنگوں اور جنگی تیاریوں پر اٹھتے ہیں ۔

 اگر جدید علوم کی بنیاد پر ارتقا کا دعویٰ کیا جائے تو انسان نے فزکس سے ایٹم بم ، بیالوجی سے بیالوجیکل بم اور نفسیات کی مدد سے طاقت ور کے مفاد کے لئے \"6b5390f369f4baacce6878d63fbe0181\"سربکفن پاگل پیدا کئے ہیں ۔ اگر ایجادات کی بات کی جائے تو کمپیوٹر سے لے کر موبائل فون تک سب پہلے پہل جنگی مقاصد کے لئے تیار ہوئے تھے اور آج جو ٹیکنالوجی جنگوں میں استعمال کی جارہی ہے وہ عام صارفین کو شاید اگلے پچاس سال میں دستیاب ہو گی ۔ بہت سے دوست سمارٹ فون اور ذہن میں لگنے والی چپ کو ترقی قرار دیتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر یہ سب استعمال کرنے والا تباہ کن جذبات اور تصورات کا غلام رہا تو یہ ٹیکنالوجی اُسے مزید خطرناک بنا دے گی ۔

ان مباحث کی روشنی میں یہ منظر نامہ نسبتاً خوشگوار دکھائی دیتا ہے کہ اگر چمپنزی ’ارتقا‘ پذیر ہوکر انسان نہ بنتا تو بے شک ایک دُوسرے سے لڑ کر اپنی نسل ختم کردیتا لیکن زمین پر زندگی باقی رہتی ۔ کوئل کا گیت باقی رہتا ۔ گلہری ، تتلی اور جگنو باقی رہتا ۔ لیکن چمپنزی کے انسان بن جانے سے یہ زمین پر زندگی ناپید ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔انسانی چیرہ دستیوں کال گزاریوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہمیں عالمگیر ناپیدگی (global extinction) کا خطرہ لاحق ہے۔

 اس خطرے کو دیکھتے ہوئے کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وقت خط مستقیم پر آگے بڑھ رہا ہے اور ارتقا کا ہر قدم بد سے بہتر اور بہتر سے بہترین کی طرف اٹھ رہا ہے ؟ اگر انسان اپنے تباہ کن جذبات کے تعمیری و تخلیقی نکاس (outlets) تلاش کرنے میں ناکام رہتا ہے تو یہ مخلوق اپنے ساتھ اُس مخلوق کو بھی لے ڈوبی گی جو فطرت کے لاکھوں سالہ ارتقائی سفر میں ہم قدم ہے ۔ اگر انسان اپنے تباہ کن تصورات اور جذبات کی غلامی ترک نہیں کرپاتا تو وہ ارتقا کی آخری کڑی نہیں بلکہ ارتقا کی بساط لپیٹنے والا ملک الموت ہے ۔

اس مایوس کن صورتِ حال میں روشنی کی ایک کرن اب بھی دکھائی دیتی ہے ۔ انسان کے ساتھ عالمِ رنگ و بو بھی تباہی کے دھانے پر سہی لیکن پہلے بقا اور پھر ارتقا کا راستہ اب بھی کھلا ہے۔ شرط یہ ہے کہ انسان گذشتہ کل اپنے چمپنزی ہونے پر ہنسنے یا شرمندہ ہونے کی بجائے موجودہ کرتوتوں پر رونا شروع کردے ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں