پی آئی اے کے احتجاجی ملازمین پر پولیس کی شیلنگ: 2 جاں بحق


pia ralingrجناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پی آئی اے کے احتجاجی ملازمین پر پولیس اور رینجرز کے لاٹھی چارج اور شیلنگ سے 2 افراد جاں بحق جب کہ 4 زخمی ہوگئے ہیں۔
پی آئی اے کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے آج سے ملک بھر میں فلائٹ آپریشن معطل کرنے کے اعلان کے بعد حکومت نے قومی ادارے میں لازمی سروس ایکٹ نافذ کردیا تھا جس کے نتیجے میں ملک بھر کے ایئر پورٹس نے قومی ایئر لائن کا نہ صرف فلائٹ آپریشن بحال رہا بلکہ کئی شہروں میں عملہ بھی احتجاج چھوڑ کر واپس اپنی ذمہ داریاں نبھاتا نظر آیا۔
صورت حال اس وقت خراب ہوئی جب کراچی میں پی آئی اے کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے ملازمین اپنے شعبے بند کرکے جمع ہونا شروع ہوئے، ملازمین کو ریلی کی شکل میں دھرنا دینے کے لئے جناح ٹرمینل جانا تھا تاہم گیٹ نمبر 3 پر پولیس رینجرز کی جانب سے انہیں آگے جانے سے روکا گیا۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد پولیس اور رینجرز نے پہلے ملازمین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
شیلنگ اور واٹر کینن کے استعمال کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے لیکن کچھ ہی دیر بعد مظاہرین ایک مرتبہ پھر منظم یوئے تو رینجرز اور پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لئے ربڑ کی گولیاں برسائیں اور ہوائی فائرنگ کی۔ فائرنگ کی زد میں آکر متعدد ملازمین زخمی ہوگئے جن کو جناح ہسپتال جب کہ ایک کو نجی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ پی آئی اے ملازمین کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے زخمی ہونے دو افراد جاں بحق ہوگئے۔ جن میں سے ایک کی شناخت عنایت رضا کے نام سے ہوئی ہے جو کمیونی کیشن ڈپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ مینیجر کے عہدے پر فرائض سرانجام دے رہے تھے جب کہ دوسرے جاں بحق ہونے والے شخص سلیم رضا ایئر کرافٹ انجینئر تھے۔
جناح ہسپتال کے شعبہ حادثات ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ اسپتال میں 4 زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں سے دو کو پیٹ اور کمر جب کہ تیسرے کو بازو میں گولی لگی ہے۔
ڈی آئی جی کراچی شرقی کامران فضل نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین سے معاملات طے ہوئے تھے کہ وہ جناح ٹرمینل پرنہیں آئیں گے انہوں نے نے طے شدہ حدود سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ گولیاں کس نے چلائیں، جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول اکٹھے کئے جارہے ہیں، گولیوں کے خول ملنے کے بعد پتہ چلے گا کہ فائرنگ کس کی طرف سے ہوئی۔ دوسری جانب ترجمان سندھ رینجرز کی جانب سے جاری بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ جناح ٹرمینل پر مظاہرین کو روکنے کے لئے رینجرز کی جانب سے فائرنگ نہیں کی گئی۔
کراچی ایئر پورٹ پر پیش آنے والے واقعے کے بعد ملک کے دیگر ہوائی اڈوں میں بھی فرائض سرانجام دینے والے ملازمین میں بھی غم و غصہ پیدا ہوگیا ہے، لاہور ایئرپورٹ پر موجود عملے کی نقل و حرکت کو محدود کردیا گیا ہے جب کہ ملتان اور پشاور ایئرپورٹ پر ملازمین نے احتجاج شروع کردیا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments