منظر ہے اس طرح کا کہ دیکھا نہیں ہوا


منیر نیازی نے مجھے اپنی ’’کلیات منیر‘‘ عنایت کرتے ہوئے میری حیات کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا۔ مستنصر کے لئے۔ ’ ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفرنہیں، منظر ہے اس طرح کا کہ دیکھا نہیں ہوا‘۔ 19 فروری 98ء کی شام۔

میں نے اکثر تنہا سفر کیا جس میں کوئی ہم سفر نہ تھا اور ایسے منظر دیکھے جس طرح کے منظر کبھی دیکھے نہ تھے۔ اس جنوں خیز آوارگی کی شام ہو رہی ہے اور مجھے درجنوں نہیں سینکڑوں منظریاد آتے ہیں، جیسے کعبے میں بچھڑے ہوئے صنم آتے ہیں، جو لوحِ دل پر نقش ہو کر رہ گئے۔ سب کا تذکرہ تو ناممکن اور محال ہے لیکن اُن میں سے کچھ کو یاد کر لیتے ہیں کہ اُنہیں دوبارہ دیکھنے اور محسوس کرنے کا امکان اب کم کم ہے۔ میں ایران کی سرحد بازرگان پار کرکے ترکی میں داخل ہوتا ہوں۔ ہم ایک ویران اور دُھول آمیز کچے راستے پر چلے جا رہے ہیں اور یکدم منظر وسیع ہونے لگتا ہے۔ بائیں جانب گھاس بھرے میدانوں کے آخر میں ایک شاندار برف پوش پہاڑ اُن میدانوں پر اپنی برف کی سفیدی بکھیرنے لگتا ہے۔ کوہِ آرارات۔ جہاں ایک روایت کے مطابق طوفان کے بعد حضرت نُوحؑ کی کشتی لنگر انداز ہوتی تھی اور اس مناسبت سے اسے ’’نوحؑ کا پہاڑ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ آرارات کے دامن میں ایک گاؤں ہے اور اُس کے کسی مکان میں سے کسی چولہے کا دھواں اٹھ رہا ہے۔

میں اور سکھدیپ سنگھ رانگی اُس کی سرخ سپورٹ کار پر گئی رات کیسپئن سمندر کی جانب اُڑے جاتے ہیں اور شاہراہ کے کناروں پر تاریکی میں بھیڑیوں کی آنکھیں روشن ہوتی ہیں۔

آبی شہر وینس کی ایک شب میں ایک سیاہ تابوت پانیوں پر تیرتا ہے، ایک جنازہ ہے جو کشتیوں پر قبرستان کی جانب رواں ہے اور کچھ سیاہ پوش عورتیں ہیں جو رو رہی ہیں۔

افغانستان کے شہر ہرات میں ایک لڑکی ایک پوستیں پر مرمٹتی ہے اور اپنا بدن داؤ پر لگا دیتی ہے۔ اگلی سویر تیمور کی ملکہ گوہر شاد کے مقبرے سے پرے میں ایک چرسی گورے کے ساتھ ایک بلندی پر بیٹھا ہرات پر طلوع ہوتے سورج کا یوں نظارہ کرتا ہوں کہ اُس کی زرد کرنیں تیروں کی مانند میرے بدن میں کُھبتی جاتی ہیں۔

میں جرمنی کے بلیک فارسٹ میں داخل ہوتا ہوں اور وہاں شجر اتنے گھنے اور اِک دوجے کے ساتھ پیوستہ ہیں کہ دن کی روشنی اُن کے اندر سرایت نہیں کرسکتی اور پورا جنگل سیاہ ہو رہا ہے۔

انگریز لڑکی جینس، ساؤتھ اینڈ آن سِی کے ساحلی قصبے میں کچھ شبہ نہیں سب سے دل کش لڑکی، سمور کا کوٹ پہنے ایک فٹ پاتھ پر میری جانب چلی آرہی ہے۔ اور میں شاید اُس کے ساتھ شادی کرسکتا تھا۔

سوئٹزر لینڈ کی جھیل جنیوا کے کنارے ’’شاتو دی شِی آں‘‘ نام کا قدیم قلعہ ہے جس کی ایک کوٹھڑی میں لارڈ بائرن نے اپنا نام کھودا تھا۔ جپسی میرے ساتھ ہے، وہ کہتی ہے ’’بائرن کے نام پر ہاتھ رکھو۔ ہم کبھی جدا نہ ہوں گے‘‘

شاتو دی شِی آں

کینیڈا کی دورافتادہ وادی یوکان سے الاسکا کی جانب خزاں آلود سرخ منظروں والی ’’ٹاپ آف دے ورلڈ روڈ‘‘ ہے اور وہاں دور دور تک خزاں کے سرخی اور اداسی ہے اور ہم ہیں۔

اسی یوکان وادی کے ایک گاؤں کی شب میں، مجھے ایک منظر دکھایا گیا جو دیکھا نہیں ہوا تھا۔ شب کی تاریکی میں یوکان کے آسمان پر ’’شمالی روشنیوں‘‘ کے رنگین لہریئے سانپ بل کھاتے ایک جادوئی تصویر پینٹ کرتے تھے۔

الاسکا کے وسیع ویرانے ہیں اور جنگل ہیں اور ایک بہت بڑا گرزلی بیئر۔ ایک ریچھ سڑک پر آجاتا ہے۔

Top of the World – Fall

ہم منیٰ سے لاکھوں کی تعداد میں سوئے عرفات جاتے ہیں، اور ایک گونج ہے۔ لبیک لبیک کی ایک گونج ہے جو کائناتوں پر حاوی ہو رہی ہے اور ریت کے ایک ٹیلے کے عقب سے ایک احرام پوش خاندان نمودار ہوتا ہے، تیز ہوا سے اُن کے سفید لبادے پھڑپھڑاتے ہیں اور وہ پیدل عرفات کے میدان کا سفر کرتے ہیں۔ میں نیم اندھیرے میں جنت البقیع کے قبرستان میں ہر پتھر کو آنکھوں سے لگاتا ہوں اور تب روضہ رسولؐ کے سبز گنبد کی اوٹ سے ہولے ہولے آفتاب ابھرتا ہے۔

غار حرا کی رات میں غار کے شگافوں میں سے داخل ہونے والی چاندنی کے جزیرے ہیں جو میرے بدن پر بچھتے ہیں اور ایک موجودگی محسوس ہوتی ہے۔ میں قرطبہ کی شب میں لبنانی ناژلا کے ساتھ بھٹکتا پھرتا ہوں اور مسجد قرطبہ کا ہجومِ نخیل مجھ پر سایہ کرتا ہے۔

میں شام کے اجڑ چکے شہر قنیطرہ کے کھنڈروں میں ہوں اور گولان پہاڑیاں میرے سامنے ہیں اور اُن کے پار اسرائیل ہے۔ مجھے ابھی بیروت جانا تھا اور خانہ جنگی سے بمشکل فرار ہو کر ایک ترک جہاز پر سوار ہو کر قدیم یونانی جزیروں تک جانا تھا۔ میں ان لوحِ دل پہ نقش مناظر میں پاکستانی شمال کے منظر بیان نہیں کروں گا کہ اُن کا تذکرہ بہت طویل ہو جائے گا۔

مجھے ’’الحمرا کی کہانیاں‘‘ کے مصنف واشنگٹن ارونگ کا دریائے ہڈسن پر واقع گھر یاد آتا ہے۔ شاعر والٹ وہٹ مین اور ارنسٹ ہیمنگوے کے گھر یاد آتے ہیں۔

Washington-Irving-s-House

امریکہ کے آخری جنوبی کونے کی ویسٹ کا وہ شہر یاد آتا ہے جس کی سڑکوں اور گلیوں میں ہزاروں مرغ اور مرغیاں آوارہ پھرتے ہیں اور وہاں جب رات ہوتی ہے تو سمندر پار صرف نوے کلو میٹر کے فاصلے پر کاسٹرو کے کیوبا کی روشنیاں نظر آتی ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں یو این او کے اجلاس میں ہمارے وزیراعظم کے علاوہ درجنوں سربراہان مملکت نے شرکت کی اور اس دوران ایک تصویر ہے جس میں میرا بیٹا سلجوق جو ان دنوں یو این او میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہے، کیوبا کے صدر راہول کاسٹرو کا ہاتھ تھامے مسکراتا ہے۔

چلئے اس تصویر میں اُداسی کو کم کرتے ہیں۔ درجنوں تصویروں کو پھر کبھی بیان کر لیں گے۔ ایک آخری تصویر میں کچھ الفت کے رنگ بھرتے ہیں۔ میں ایک مرتبہ پھر ایک طویل مسافت کے بعد پاکستان واپس آرہا ہوں۔ افغانستان کے راستے طورخم بارڈر عبور کرکے پاکستان میں داخل ہوتا ہوں اور جونہی میرے پاؤں تلے اپنی سرزمین آتی ہے تو میں جھک کر اسے چومتا ہوں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اپنے وطن میں داخل ہو کر میں نے اپنی مٹی کونہ چوما ہو۔

’اے وطن، پیارے وطن، پاک وطن‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مستنصر حسین تارڑ

بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز

mustansar-hussain-tarar has 108 posts and counting.See all posts by mustansar-hussain-tarar