تلور، خط والا قطری شہزادہ اور نرالی خارجہ پالیسی


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"

تلور ایک ایسا پرندہ ہے جو کہ معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔ عالمی قوانین کے تحت اس کے شکار پر پابندی ہے۔ ادھر عرب شریف میں بھی یہ کافی تعداد میں پایا جاتا تھا مگر ادھر کے حکما نے یہ حکم لگایا کہ چار شادیاں کرنے کے لئے مال و دولت کے علاوہ اس پرندے کا گوشت بھی اہم ہے تو عرب اس پر ٹوٹ پڑے۔ وہاں تلور تقریباً ختم ہو گئے تو ادھر کے بادشاہوں نے اس کے شکار پر پابندی لگا دی لیکن خوش قسمتی سے پاکستان میں تلور پایا جاتا تھا جو کہ سردیوں میں ادھر سائبیریا سے پاکستان کا رخ کرتا تھا۔ یوں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تلور ایک اہم حیثیت اختیار کر گیا۔ کون سوچ سکتا تھا کہ ڈیڑھ دو کلو وزن کے ایک عام سے پرندے کے ذریعے تیل والے عربوں کو پاکستان کا بندۂ بے دام بنایا جا سکتا تھا۔

بدقسمتی سے پچھلے برسوں میں ملحد یہودی خفیہ تنظیم ایلومیناٹی نے برادر اسلامی ملکوں سے تعلقات خراب کرنے کے لئے یہ مشہور کر دیا کہ دنیا میں تلور ختم ہونے کے قریب ہیں اور ان کی کل تعداد اب تینتیس سے سڑسٹھ ہزار کے درمیان ہے۔ تلور کے شکار پر پابندی عائد کر دی گئی۔ برادر ملکوں سے تعلقات اس حد تک بگڑنے لگے کہ حکومت پاکستان کی اپنی رپورٹ میں کہا گیا کہ سنہ 2012 سے سنہ 2015 تک کے تین سال کے مختصر عرصے کے دوران تقربیاً ڈھائی لاکھ پاکستانی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران سمیت دنیا کے مختلف ملکوں سے نکالے جانے کے بعد وطن واپس پہنچے ہیں۔

\"houbara-bustard-tilor-2\"

ادھر پاکستانی عدالتوں میں بھی مقدمے کر دیے گئے کہ عظیم تر ملکی مفاد کو نظرانداز کرتے ہوئے تلور کے شکار پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔ عدالت نے پابندی لگا دی مگر بعد میں جب حکومت پاکستان نے یہ بتایا کہ تلور کا پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کیا رول ہے، اور یہ کہ تلور ختم ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ عرب شہزادے تلور کو مارتے ہی نہیں ہیں، بلکہ ان کی افزائش نسل بھی کرتے ہیں، تو عدالت نے دلائل سے قائل ہو کر تلور کے شکار کی محدود اجازت دے دی یعنی ایک شہزادے کو سو تلور مارنے کا لائسنس ملنے لگا۔

وزیراعلی بلوچستان کے مشیر برائے جنگلی حیات کے مطابق 2014 میں عرب شہزادے علاقے میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لے رہے تھے۔ ہمارے خفیہ صحافتی ذرائع کے مطابق اسی اثنا میں ان کے قافلے پر کالعدم حیوانی تنظیم سے تعلق رکھنے والے 2100 تلوروں نے خوفناک جان لیوا حملہ کر دیا لیکن شہزادے نے بہادری سے مقابلہ کیا اور سرفروشی کی عظیم مثال قائم کرتے ہوئے سارے حملہ آور مار دیے۔ اس پر یہودی ملحد تنظیم ایلومیناٹی نے غل مچا دیا کہ تلوروں کا غیر قانونی شکار ہوا ہے اور سو کی بجائے اکیس سو تلور مار دیے گئے ہیں۔ سیلف ڈیفینس کا حق تو ساری دنیا مانتی ہے مگر یہ ایلومیناٹی بھلا کب حق بات مانتے ہیں؟

\"modi-receives-civilian-award-in-saudi\"

بہرحال تلوروں کو بین الاقوامی تعلقات کا مرکزی نقطہ بنانے والی اس خارجہ پالیسی کی اس عظیم کامیابی کے بعد سعودی عرب میں نریندر مودی کا زبردست استقبال ہوا اور ان کے ساتھ کئی بڑے معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے۔ آپ حیران ہوں گے کہ تلور تو عربوں نے پاکستان میں کھائے ہیں مگر معاہدہ بھارت سے کیوں کر دیا ہے؟ درحقیقت ملحد یہودی تنظیم ایلومیناٹی نے برادر عرب شہزادوں کو یہ دھوکہ دے دیا تھا کہ نریندر مودی پاکستان کے وزیراعظم ہیں اور تلور ان کی وزارت خارجہ کے لئے ہی کام کرتے ہیں۔

عرب بھی بھولے بھالے ہیں، پائجامے کرتے میں ملبوس نریندر مودی کی داڑھی دیکھ کر یہی سمجھے کہ وہ پاکستانی وزیراعظم ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے معاہدے ہندوستان سے کر لئے اور نکال بے شمار پاکستانیوں کو دیا۔ بعض مبصرین اس کی یہ غلط وجہ بھی بتاتے ہیں کہ بھارت اب مشرق وسطی کے تیل کی بہت بڑی منڈی ہے، اور ٹیکنالوجی ایکسپورٹ کرتا ہے، اس لئے برادر عرب شہزادوں نے ہماری بجائے بھارت سے معاہدے کیے ہیں۔ ہماری رائے میں یہ توجیہہ سراسر غلط ہے۔ ڈالر والی دولت ان شہزادوں کے پاس پہلے ہی بہت ہے، انہوں نے مزید دولت کا کیا کرنا ہے، اصل دولت تو صحت ہوتی ہے اور وہ تلور کے گوشت سے ہی ملتی ہے۔ ہمارے پاس تلور ہیں، بھارتیوں کے پاس صرف کترینہ، کرینہ اور معیشت ہیں۔ شہزادوں کو ہمارے حق میں ہی فیصلہ کرنا چاہیے۔

\"sheikh_hamad_bin_jassim\"

ابھی کل پرسوں ہی خبر آئی ہے کہ وفاقی حکومت نے’تلور‘ کے شکار کے لیے خصوصی اجازت نامے جاری کردیے ہیں۔ ایک خاص اجازت نامہ خط و کتابت کے ہنر میں نام پانے والے قطری شہزادے شیخ حماد بن جاسم بن جبر الثانی کو دیا گیا ہے اور پنجاب کے ضلع بھکر اور جھنگ کے علاقے ان کے لئے مختص کردیے گئے۔ یوں ایک تیر سے کئی شکار ہو گئے ہیں۔ ایک تو قطر سے خارجہ تعلقات خوب مضبوط ہو جائیں گے اور دوسرے اگر سپریم کورٹ نے حکم دیا تو ہز ہائی نس شکار سے ایک دن کی چھٹی کر کے پاناما کیس میں گواہی بھی دے دیں گے۔ فکر بس ایک ہی ہے، کہیں ملحد یہودی ایلومیناٹی قطری شہزادے کو بھی نہ بہکا دیں۔ وزارت خارجہ کے تلوروں کو اس بات کی خاص ٹریننگ دی جانی چاہیے کہ وہ ہز ہائی نس کو بار بار ہمارے ہردلعزیز وزیراعظم کی تصویر دکھا کر ان کی شکل خوب یاد کرا دیں ورنہ عیار نریندر مودی سے کچھ بعید نہیں ہے کہ قطر میں بھی ہاتھ دکھا دے۔

\"nawaz-erdogan\"

کچھ قنوطیت پسند یہ سوچ رہے ہوں گے کہ تلور ختم ہو گئے تو پاکستان عالمی تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔ ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہماری دوراندیش وزارت خارجہ اب میٹرو والے ترکوں سے تعلقات بنا رہی ہے جو کہ تلور کی رتی برابر پروا نہیں کرتے ہیں۔ وہ ہمیں میٹرو بیچ کر اور اپنے استاد نکلوا کر ہی راضی ہیں۔ بلکہ سنا ہے کہ چند شریر لوگوں کو نکالنے کے بدلے اب انہوں نے پاکستانی اشیا پر سے وہ اضافی ڈیوٹیاں ہٹانے کے اشارے دیے ہیں جو کہ پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے ملک کی اشیا پر نہیں ہیں۔ اس وقت پاکستان اور ترکی کی باہمی تجارت تقریباً 650 ملین ڈالر کی ہے جبکہ بھارت اور ترکی کی باہمی تجارت 2014 میں ساڑھے سات ارب ڈالر کی تھی جسے اگلے 2021 تک بائیس ارب ڈالر تک لے جانے کی امید ترکوں نے ظاہر کی ہے۔ اگر ترکوں کو بھی تلور پر لگا دیا جائے تو ترکوں کو بھارت کی بجائے پاکستان سے اتنی باہمی تجارت پر راضی کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ہمیں یہ شبہ بھی ہو رہا ہے کہ نریندر مودی ادھر راجھستان میں تلور کی فارمنگ کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے عرب اور ترک اب پاکستان کی بجائے بھارت کو زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔ ہماری رائے میں تلور ہی خارجہ تعلقات میں اہم ہوتے ہیں ورنہ ہماری دانش مند حکومت تلور کی بجائے معیشت کو اپنی داخلہ اور خارجہ پالیسی کا اہم جزو قرار دیتی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 667 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar