آؤ ’’بوٹا‘‘ لگائیں


\"maimoona-saeed\"خواجہ سراؤں کے قتل اور ان پر حالیہ تشدد کے واقعات جیسے ماحول میں جھنگ کے صوبائی حلقہ 78 میں عارف عرف میڈم بوٹا کا یکم دسمبر کو ضمنی انتخاب کے لئے کھڑے ہونا ہی دراصل اس کی جیت ہے۔ جھنگ وہ شہر ہے جہاں مذہبی انتہا پسندوں کی نرسریاں لگی ہیں اور اسے مخصوص فرقے کے لئے انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ اخبار میں بوٹا کے حوالے سے خبر پڑھی تو اس کا نمبر تلاش کیا۔ وقت ملتے ہی بوٹا کو فون ملایا۔ ابھی میں نے رسمی تعارف کروایا ہی تھا کہ بوٹا نے بغیر کچھ پوچھے سادگی سے سب بتا دیا۔

باجی سارے دن کی بھوکی تھی ابھی پیسے مانگ کر کھانا لایا ہوں اپنے لئے کھا کر فارغ ہوا ہی تھی کہ آپ کا فون آ گیا شوگر کی مریض ہوں نہ میں۔ اوپر سے آج کل سارا سارا دن ووٹ مانگ کر اپنے حلقہ میں تھک جاتی ہوں۔ ایسے تو نہیں میں نے اتنا بڑا قدم اٹھایا منتیں کر کر اب بس ہو گئی۔ سڑکیں ٹوٹی ہیں عرصہ سے، انہیں پکا کروانا ہے مجھے، خود تو میں کرایے کے کمرے میں رہتا ہوں محلہ کا نام تک نہیں، بس غریبوں کا محلہ ہے تکیہ تکیہ کہتے ہیں اسے شاید۔ الیکشن جیت گئی تو لوگوں کو صاف پانی ملے گا اور یہ جو جگہ جگہ گندے نالے بہتے ہیں وہاں سیوریج لائن بچھانی ہے۔ اسکولوں میں بچوں کے پڑھنے کے لئے فرنیچر تک نہیں، ماؤں نے کیا ساری زندگی بچوں کے گندے کپڑے ہی دھونے ہیں؟ انہیں اور بہت کام ہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ بچے خراب ہو گئے ہیں۔ خراب کیسے نہ ہوں، نہ کھیلنے کے لئے گراونڈ ہیں نہ ہی جھولے۔ بس یہ سب کام مجھے کرنے ہیں۔ بوٹے کی باتوں میں مجھے محسوس ہوا کہ جب کچھ کر دکھانے کے عزم سے وہ بات کرتی ہے تو اپنا بیانیہ مذکر کر لیتی ہے اور جب اسے تھکاوٹ، بے بسی کا احساس ہوتا ہے تو وہ خود کو مونث سمجھ کر بات کرنے لگتی ہے۔ بوٹا مسلسل اپنا منشور مجھے بتا رہا تھا۔ جن اسکولوں میں بچیاں پڑھتی ہیں وہاں کی چار دیواری اونچی ہونی چاہیے۔ کیا ہمیں صرف دہشت گردوں کا ہی خوف ہے۔ میں نے پوچھا ’’عارف، آپ کو انتخابی مہم میں کوئی مشکل پیش آئی ہو؟‘‘ نہیں باجی نہیں، سب بڑی عزت کرتے ہیں۔ میرے ساتھ انتخابی مہم میں اور بھی خواجہ سرا ساتھ جاتے ہیں۔ آج ایک گھر گئی، وہاں ان کی 7 بیٹیاں تھیں۔، انہوں نے اپنے گھر بلا کر بٹھایا اور کہا بوٹے تو ہمارے گھر چل کر آیا ہے، سارے گھر کے ووٹ تیرے۔ ہمارے لئے اتنی عزت کم ہے کیا؟ ورنہ تو لوگ ہمیں در فٹے منہ کہتے ہیں۔

میں نے پوچھا ’’عارف آپ کھانے کے پیسے بھی مانگ کر آئے ہو، ذریعہ معاش کیا ہے۔ حالات اتنے خراب ہیں تو یہ انتخابی مہم کیسے چل رہی ہے؟‘‘ کہنے لگی، جب سے پیدا ہوئی ناچ رہی ہوں۔ آج 45 سال کی ہوں۔ کچھ پیسے تھے اس سے الیکشن کے دفتر میں فیس بھری باقی پرسوں ایک گھر میں بیٹا پیدا ہوا وہاں جا کے ناچی، تو 7 سو روپے ملے تھے۔ آج انتخابی مہم کے لئے نکلی تو سارے رکشے والے نے لے لئے۔ اب تو دعا ہے جب تک الیکشن نہ ہو جائے ہر گھر میں بیٹا پیدا ہو۔ ’’عارف آپ کے گھر میں کتنے افراد ہیں؟‘‘، میں نے پوچھا تو اس کی آواز روہانسی ہو گئی۔ کہنے لگی خود تو میں ہمیشہ سے اکیلی رہتی ہوں۔ ماں باپ مر گئے۔ ایک بہن تھی وہ بھی محرم میں مر گئی، سوا مہینہ گزرا تھا بہنوئی بھی مر گیا۔ اب ایک بھائی ہے کبھی کبھی اس کے گھر چلی جاتی ہوں۔ بچے خوش ہو کے کہتے ہیں تایا ابو آ گئے۔ انہیں بھی ناچ دکھا کر 5، 5 روپے دے کر آ جاتی ہوں۔ ’’عارف آپ کے علاقے میں تو مذہبی انتہا پسند رہتے ہیں کوئی دباؤ ہو آپ پر؟‘‘، میرے پوچھنے پر وہ کہنے لگی ہاں وہ کھڑا ہے نا مقابلے میں جھنگوی کا بیٹا، مسرور نواز جھنگوی؟ ہاں ہاں حق نواز کا بیٹا ہے نا۔ لوگوں نے بہت کہا، پیسے دلوا کر تجھے بٹھا دیتے ہیں پر میں جن کے لئے کھڑی ہوئی ہوں ان کو کیا منہ دکھاؤں گی۔ اب جیتوں یا ہاروں، مروں یا زندہ رہوں، ڈرنے والا نہیں کسی سے۔ باجی یہ ضرور لکھنا مجھے لوگ بٹھانا چاہتے ہیں الیکشن میں، پر میں نہیں بیٹھوں گا۔ میں نے پوچھا ’’عارف آپ کا نام بوٹا گھر والوں نے رکھا ؟‘‘ کہنے لگی نہیں، میں ڈانس میں پھدکتی بہت ہوں، یہ کہتے ہوئے عارف کو خود پر بے ساختہ ہنسی بھی آئی، بتانے لگا کہ اس لئے لوگ مجھے بوٹا کہتے ہیں جیسے بوٹا ہوا سے، ادھر ادھر ہوتا ہے۔ انتخابی نشان بھی فوجی ڈرم ہی دیا ہے مجھے۔ ’’ابھی تو آپ آزاد حثیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں، جتینے کے بعد کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کریں گی؟‘‘، کہنے لگی ساری زندگی آزادی سے گزاری ہے آزاد ہی رہوں گی۔

’’اچھا آپ منتخب ہو کر پنجاب اسمبلی کے ایوان میں بیٹھ کر اپنی کمیونٹی کے افراد کے لئے کیا کریں گی؟‘‘، میرے پوچھنے پر کہنے لگی جب مرد اور خواتین ایم۔ پی۔ ایز کے ساتھ بیٹھوں گی نا تو انہیں خود شرم آئے گی شاید پھر کچھ حقوق مل جائیں ہمیں۔ میرا اسمبلی میں جانا بہت ضروری ہے، جو خواجہ سرا ان پڑھ ہیں ان کے لئے الگ تعلیمی ادارے بنوانے ہیں اور جو پڑھے لکھے ہیں ان کی نوکریاں کروانی ہیں۔

عارف نے اپنے تعارف میں خود کو انگوٹھا چھاپ کہا تھا لیکن پھر بھی وہ تعلیم کی اہمیت کو محسوس کرتی ہے۔ آکر میں میں نے کہا کہ ’’عارف میری دعا ہے آپ اس الیکشن میں جیتیں اور ہم آپ کو اسمبلی میں دیکھیں‘‘، تو کہنے لگی تیرے منہ میں گھی شکر باجی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

میمونہ سعید

میمونہ سعید جیو نیوز سے وابستہ ہیں۔ وہ ملتان میں صحافت کے فرائص سرانجام دیتی ہیں ۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف اوکلوہوما کی فیلو بھی رہ چکی ہیں ۔

maimoona-saeed has 9 posts and counting.See all posts by maimoona-saeed