ہندوستان، مہمان اور پانی


ہندوستان میں رہتے ہوئے ایک اچھی بات یہ دیکھی کہ مہمان کو آتے ہی سب سے پہلے بغیر پوچھے پانی پیش کیا جاتا ہے۔ ہم نے اس انداز میزبانی کو فوراً اپنا لیا اور اب ہمارے ہاں کوئی بھی مہمان آئے، سب سے پہلے اسے پانی کا گلاس پیش کرتے ہیں۔ اس کے برعکس عام طور سے ہمارے گھروں میں مہمان سے پہلے تو بیس پچیس منٹ ادھر ادھر کی گپیں ہانکی جاتی ہیں، اس کے بعد اس سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا پسند کریں گے، ٹھنڈا یا گرم۔ اب جو کچھ بھی وہ مانگے اس کے انتظام میں دس پندرہ منٹ اور لگ جاتے ہیں، گویا مہمان کی آمد کے آدھے گھنٹے بعد اس کی تواضع شروع ہوتی ہے۔ اگر مہمان ذرا بے تکلف ہے تو خود کہہ کر پانی مانگ لیتا ہے ورنہ آپ کی طرف سے دعوت کے انتظار میں رہتا ہے کہ آپ پانی کا پوچھیں تو وہ بے چارہ سادہ پانی مانگے۔

ایک اور غلط رسم یہ ہے کہ اگر آپ مہمان سے چائے ٹھنڈا پوچھیں تو وہ اٹھ کر جانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے، گویا تواضع کے لیے پوچھنا روانگی کا سگنل بن جاتا ہے۔ اگر آپ مہمان کے آنے پر موسم کے اعتبار سے ٹھنڈا یا سادہ پانی صاف ستھرے نفیس سے گلاس میں پیش کرتے ہیں تو وہ پانی پی کر آرام سے بیٹھ جائے گا اور آپ کو بھی ٹینشن نہیں ہو گی کہ جلدی سے چائے یا ٹھنڈے کا پوچھیں۔ آزما کر دیکھیں، ہمیں تو بہت اچھا لگا۔

اس کے علاوہ گھر میں کوئی بھی سبزی والا، دودھ والا، کوڑا اٹھانے والا آتا ہے، یا کوئی ریڑھی والا ہے جو آپ کا قالین، فریج، فرنیچر یا کچھ بھی لایا ہے، اسے پانی پوچھنا نہ بھولیں۔ گرمی کے موسم میں تو ویسے بھی پیاس ہر ایک کو لگی ہوتی ہے مگرسردیوں میں بھی ان کو ایسے سخت کام کی مناسبت سے پیاس لگ سکتی ہے۔ ہم تو جس رکشا پر آئیں اس رکشا والے سے بھی پانی کا ضرور پوچھتے ہیں۔ یہ بہت معمولی سا کام ہے مگر اس سے خلق خدا کو بہت آرام ملتا ہے۔

شاگرد پیشہ لوگ، از قسم مالی، پلمبر، بڑھئی، رنگ ساز، وغیرہ اگر گھر پر کام کرنے آئے ہوئے ہیں تو انہیں ایک کپ چائے پلانا نہ بھولیں۔

ہم صرف انسانیت کے حوالے سے بات کر رہے ہیں، مذہب کا ذکر اس لیے نہیں کرتے کہ اس میں گناہ ثواب، نیکی بدی، جنت دوزخ وغیرہ کی غیر ضروری بحث شروع ہو جاتی ہے اور بات کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔

یہ تو بات ہوئی ان لوگوں کی جو گھر پر چل کر خود ہی آ گئے۔ اور آپ کو اپنے ہاتھ سے پانی پیش کرنا پڑا۔ ذرا آفس کی بات بھی ہو جائے۔ جو سائل وہاں آپ کے پاس کسی کام سے آئے، اسے بھی سادہ پانی کا ضرور پوچھیں۔ دفتر میں تو کرسی سے اٹھنا بھی نہیں پڑتا۔ آفس بوائے کو آواز لگائیں کہ ان صاحب کو پانی پیش کرو۔ آج کل نوے فیصد دفاتر میں ڈسپینسر لگے ہوئے ہیں، اس لیے پانی کا حصول نہایت آسان ہو چکا ہے۔

یہ چند سطور مہمان نوازی کے کلچر میں تبدیلی کی ایک ادنی سی کوشش کہی جا سکتی ہیں، آپ ساتھ دیں گے تو انشاللہ آہستہ آہستہ تبدیلی آ جائے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں