تبلیغی جماعت پر پابندی اور جماعت اسلامی کا احتجاج


farnood alamپنجاب کے تعلیمی اداروں میں تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں پہ پابندی عائد ہوئی تو احباب ہماری طرف متوجہ ہوگئے۔ نذرانہِ تبریک پیش کرتے رہے کہ
’مبارک ہو! ملک میں سیکولرازم کا آغاز ہوگیا‘
اس سے بھی زیادہ دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ ہمارے جماعت اسلامی کے دوستوں کو تبلیغی جماعت کے پرانے حساب بے باق کرنے کا موقع ہاتھ لگ گیا ہے۔ ہمیں مبارک باد دینے سے جب فرصت ملتی ہے تو تبلیغی جماعت کی طرف رخ کر کے کہتے ہیں کہ
’اچھا ہوا پابندی لگی۔ آپ کو بھی پتہ چلے کہ اسلامی ریاست کے لئے سیاسی سر گرمیاں کتنی اہمیت رکھتی ہیں‘
تبلیغی جماعت نے تو نہ اس پابندی کا برا مانے گی اور نہ ہی جماعت اسلامی کے دوستوں سے ملنے والے طعن آمیز طنز زیادہ محسوس کرے گی۔ ہم البتہ دوستوں کی محبتوں کا یہ قرض ضرور ادا کرنا چاہیں گے۔
عرض کروں کہ۔!!
اس وقت نہ تو عسکری اداروں پہ یہ تہمت باندھی جا سکتی ہے کہ وہ مذہب سے حاصل ہونے والے نفع سے دستبردار ہونے کی کوئی سوچ رکھتے ہیں اور نہ ہی مسلم لیگ کے حوالے سے یہ بدگمانی پالی جا سکتی ہے کہ وہ مذہب بیزار ہوگئے ہیں۔ گوکہ مسلم لیگ تقویٰ و طہارت میں جماعت اسلامی والے معیار پہ پورا نہیں اترتی مگر قمیص شلوار والی مذہب پسندی اور دوپٹے والی مشرقیت تو بہر حال ابھی ان میں زندہ ہے۔ اب یہ راتوں رات سیکولر ازم کہاں سے نمودار ہوگیا، بخدا مجھے تو کچھ سمجھائی نہیں دے رہا۔ یہی بات جب ہم نے جماعت اسلامی کے ایک دوست کے سامنے رکھی تو کہنے لگے حسینہ واجد والا سیکولرازم یونہی دبے پاو¿ں آتا ہے۔ اب انہیں کون بتائے کہ بزرگوار یہ تو حسینہ واجد والا سیکولرازم بھی نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو یونیورسٹیوں میں تبلیغی جماعت پر نہیں، اسلامی جمعیت طلبہ پر پابندی عائد ہوتی۔ کچھ غلط کہہ دیا کیا؟ اچھا چلیں، خود بتلا یئے کہ جب آپ ہی کے بقول آپ کی مذہبی سرگرمیاں ہی دراصل دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہیں تو پھر انہی سرگرمیوں پہ قدغن کیوں نہ لگا دی گئی۔ خدا را اب یہ مت کہئے گا کہ تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں پہ عائد ہونے والی بندشیں دراصل جمعیت کی طرف ہی ایک پیش قدمی ہے۔
تفنن برطرف۔!!
یہ غلط فہمی پھیلا کر کتنے نوافل کا ثواب حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ ملک میں تبلیغ پر پابندی عائد ہوگئی ہے۔ کوئی تو بتائے کہ تبلیغ پر پابندی کہاں عائد ہوئی ہے۔ کیا ہم تبلیغ اور تبلیغی جماعت کا فرق بھی سمجھنے سے عاجز ہوگئے ہیں؟ تجاہل عارفانہ ہی کہوں گا۔ بھائی میرے ! صرف اور صرف حفاظتی تدبیر کے طور پر ایک صوبے کے تعلیمی اداروں میں تبلیغی جماعت کی جزوی سرگرمیوں پہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ کیوں عائد کی گئی ہے، کیا یہ بھی اب مجھے ہی سمجھانا پڑے گا؟ ایسا تو مت کریں نا صاحب۔ ایک صالح بھائی نے یونہی گزرتے آواز کسی کہ دہشت گرد اتنے بھی عقل کے پیدل نہیں ہیں کہ بستروں میں بارود لے کر چالیس چالیس دن تک ہدف کی تلاش میں گلی گلی خاک چھانتے پھریں۔ اب کیسے سمجھایا جائے کہ ریاست بھی عقل کی اتنی اندھی نہیں کہ وہ خیال کرے کہ دہشت گرد چلے اور سہ روزے میں بارود لے کر ہدف کی تلاش میں رہتے ہوں گے۔ اگر چہ یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں، مگر حملے سے پہلے اور حملے کے بعد عشق کی کچھ اور آزمائشیں بھی ہوتی ہیں جن پر پورا اترنے کیلئے تبلیغی جماعت کا سایہِ ذوالجلال ہی نصرت ثابت ہوتا ہے۔ طالبان کو تو رکھیئے ایک طرف ہمارے کراچی کے مطلوب افراد کو بھی کم خرچ اور زیادہ منافع کی روپوشی اختیار کرنی ہو تو بعد نماز عصر تعلیم کے بعد چلے کا ارادہ لکھوا لیتے ہیں۔ واپس لوٹتے ہیں تو کانوں کے نرموں کو چھوتی زلفیں اور نستعلیق داڑھی سجائے ہوتے ہیں۔ عزیز و اقارب کو گمان ہوتا ہے کہ یہ کایا کلپ چھ نمبروں کا کرشمہ ہے مگر وہ درحقیقت دونمبری کا کرشمہ ہوتی ہے۔ بہروپ بھی بدل گیا اور ثواب بھی مل گیا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ اب یہی تبلیغی جماعت ”مجاہدین فری سبیل اللہ“ کیلئے عاطفیت کا کیسا گوشہ ثابت ہوتا ہوگا، اس کا اندازہ تو خیر آپ لگا ہی سکتے ہیں۔
کچھ مزید عرض ہوجائے۔!!
تبلیغی جماعت ایک پرامن اصلاحی جماعت ہے جس پر دنیا کے کسی بھی سیکولر و غیر سیکولر ریاست میں کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ تو ممکن ہے کہ اس جماعت کی سر گرمیوں پہ سعودی عرب اور ایران جیسے اسلامی ممالک میں پابندی ہو، امریکہ وبرطانیہ میں کوئی پابندی نہیں۔ برطانیہ آسٹریلیا اور کینیڈا میں اس جماعت کی دعوت پر مسلمان ہونے والے کسی مسیحی و یہودی شہری کی سماجی حیثیت پہ کبھی کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ ریاست آپ کو بات کہنے کا حق دیتی ہے اور اپنے شہری کو بات سننے کا حق دیتی ہے۔ شہری اگر آپ کی بات کو اختیار کرنا چاہے تو ریاست مداخلت نہیں کرتی۔ کوئی بھی مذہب اختیار کرنے کا مکمل حق دیتی ہے۔ تبلیغی جماعت کے وابستگان یہاں ہمیں اپنی محنت کے جو بیرون ملک ثمرات گنواتے ہیں ان ثمرات سے لطف اٹھانے کے مواقع سیکولرازم نے ہی مہیا کر رکھے ہیں۔ سیکولرازم بقائے باہمی کے لیئے یکساں سہولیات کی فراہمی پہ یقین رکھنے والی دستاویز ہے۔ یقین نہ آئے تو کبھی برطانیہ کے مساجد میں اپنے اپنے مسلک کے آئمہ و خطبا سے پوچھ لیجئے گا۔ یہ تو آپ کا تربیت یافتہ سماج ہے کہ جہاں فیضانِ سنت والی مسجد میں فضائل اعمال کی تبلیغ پر پابندی ہے اور فضائل اعمال والی مسجد میں فیضان سنت کے داخلے پر پابندی ہے۔ تبلیغی جماعت کو لگنے والے حالیہ دھجکے کی وجہ خود تبلیغی جماعت کی کوئی پالیسی یا نظریہ نہیں ہے۔ یہ دراصل تشدد پسند عناصر کے مذہبی جرائم ہیں جس کی سزا تبلیغی جماعت بھگت رہی ہے۔ جب تک اس ملک میں تشدد پسند ذہنیت باقی ہے تبلیغی جماعت کو رسوا کر نے کیلئے کسی حسینہ واجد کی کیا ضرورت؟ تبلیغ پر پابندی کا واویلا کر کے آپ تبلیغی جماعت کیلئے دانستہ ایک نادان دوست کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
آخری تجزیئے میں۔!!
اگر ایک صوبے کے تعلیمی اداروں میں تبلیغی جماعت پر پابندی عائد ہو ہی گئی ہے تو گریہ وزاری سے کیا حاصل؟ انہی تعلیمی اداروں میں موجود اسلامی جمعیت طلبہ کس مرض کی دوا ہے۔؟ جمعیت کا وظیفہ بھی تو وہی ہے جس کا بیڑہ تبلیغی جماعت نے اٹھا رکھا ہے۔ جو کام تبلیغی جماعت سے ادھورا رہ گیا ہے، اسے آپ پایہ تکمیل تک پہنچا کر ثواب دارین کیوں حاصل نہیں کر لیتے؟ نیکی کا موقع ہے، قدم بڑھایئے۔


Comments

FB Login Required - comments