جنت کے طالب


عمران احمد راجپوت

\"imran-ahmad-rajput\"اگر آپ روح کی طمانیت اور دل کا اطمینان چاہتے ہیں تو مذہب اختیار کیجئے
اور اگر سچ کے پیروکار ہیں تو تحقیق کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔نتشے

قارئین یہ جملے جرمنی کے عظیم فلاسفر فریڈرک نتشے کے ہیں۔۔۔ کہنے کو یہ صرف دو جملے ہیں لیکن اِن دو جملوں نے میرے اندر ایک تلاطم برپا کر دیا میں اُس رات سو نہیں سکا جس دن یہ دو جملے میں نے ایک کتاب میں پڑھے۔ رات بھر اسی کے بارے میں سوچتا رہا، بنیادی طور پر اِن دو جملوں نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا تھا میں بار بار اِن جملوں کی تشریح کر رہا تھا۔ ساری رات اپنے مقصد اور مطلب کی تشریحات نکالنے کے باوجود کسی طرح بھی ان لفظوں کی حقیقت سے انکار نہیں کر پا رہا تھا۔ شاید میں سمجھ چکا تھا اِن جملوں میں کیا طوفان چھپاہے کیونکہ ایک طالب علم کی حیثیت سے میں انسان کی تاریخ پڑھ چکا تھا، میں مذاہب کی تاریخ بھی جانتا تھا۔ اس لئے میں سمجھنے لگا تھا اِن جملوں سے کیا نکلنے والا ہے لیکن ڈر رہا تھا۔ اُس رات میں نے اپنی 35 سالہ زندگی کی سب سے بے چین رات گزاری۔
قارئین میں ہمیشہ سچ کا متلاشی رہا ہوں، غیر جانب دارانہ حقیقت پسندی کی اِس جستجو میں مختلف مسلک اور افکار سے گزرا ہوں اور آگے مزید کتنا سفر طے کرنا باقی ہے کچھ کہا نہیں جاسکتا کیونکہ بحیثیت انسان ہونے کے ناطے میرے لئے سچ جاننا بہت ضروری ہے۔ اپنے رب کی حقانیت اور اُس کی وحدانیت کو پہنچاننا بہت ضروی ہے۔ میں خواہ مخواہ کی زندگی گزارنا نہیں چاہتا میں اپنے اور اپنے رب کے مقصد تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ میرے آنے کا اور اُس کے بھیجنے کا راز جاننا چاہتا ہوں، اِس لئے میں نے مذہب پرستوں کی اندھی تقلید کرنے کے بجائے حق پرستی کا راستہ چنا سچ کا راستہ چنا۔
قارئین یہ دنیا رب تعالیٰ کی جانب سے نوع انسان کو ایک عظیم انمول تحفہ ہے جسے ایسے ہی بے مقصد گزار دینا اِس عظیم تحفے کی بے توقیری اپنے رب کی ناشکری اور انسانیت کی توہین کے مترادف ہے۔ اکثر و بیشتر ہر جگہ آپ کو نوع انسان کی مختلف اقسام اسی جہالت گردی میں مبتلا نظر آئیں گی جو دنیاوی و مذہبی تعلیم سے آراستہ ہونے کے باوجود اپنی لا محدود سوچ کو مخصوص اور محدود حدوں میں ڈھال کر عقل پر تالے لگالیتے ہیں۔ اِس طرح ایک با مقصد زندگی کا مقصد فوت ہوجاتاہے بالکل اسی طرح جیسے کوئی خود کو ایک کمرے میں بند کرلے اور اپنی عرصہ حیات کو اُسی کمرے تک محدود رکھے ایسے انسان کا دنیا میں ہونا نہ ہونا ایک برابر سمجھا جاتا ہے، بِنا اس کی پرواہ کئے کہ یہ دنیا کیوں بنی، کس کے لیے بنی، کس طرح بنی، اللہ رب العزت کا انسان کو دنیا میں بھیجنے کا مقصد کیا ہے، انسان کے آنے کا مقصد کیا ہے، پیغمبران کے آنے کا مقصد کیا تھا، انھوں نے کیا کہا، اور ہم نے کیا کِیا، انھوں نے کیا سمجھایا اور ہم نے کیا سمجھا، دنیا میں کیا کرنا ہے، کیوں کرنا ہے، کس کے لئے کرنا ہے، کس طرح کرنا ہے، یہ سب باتیں اُس کی سمجھ سے بالاتر ہوتی ہیں کیوں کہ اِن سب کی سوجھ بوجھ کے لئے اُسے عقل کے گھوڑے دوڑانے کی ضرورت ہے اور یہ اُس کے لئے ناممکنات میں سے ہے کیوں کہ اُس کی عقل پر تو قُفل لگے ہیں جسے کھولنا وہ کفر سمجھتا ہے۔ تسخیرِ کائنات کے حوالے سے قرآن مجید میں سات سو سے زائد آیات موجود ہیں جن میں اللہ رب العزت اپنے بندوں سے فرما رہے ہیں تحقیق کرو اور باغور دیکھو اِس کائنات کو جو ہم نے تخلیق کی۔
اللہ رب العزت نے اپنے محبوب بندوں کو آزاد خودمختاراور باشعور بنا یا اور ہم نے اُس کی ان نعمتوں کو ناقص جان کر قدیم اور لا شعور انسان کی فطرت کو اپنا تے ہوئے خود کوکسی نہ کسی صورت میں غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لیا۔ یہی غلام زدہ ذہن اپنے دل میں حصولِ جنت کی خواہش لئے دنیا کو بے توقیر سمجھ کر جنت کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ جنت کا متلاشی یہ انسان جس کا اصل ہدف صرف وصرف جنت ہے اور سمجھتاہے خود سے جنت تو کیا دوزخ بھی نہ ملے گی اِس لئے سب سے پہلے وہ دنیا ہی میں کسی جنتی کو ڈھونڈتا ہے پھر اس کی مریدی اختیار کرکے اُس کے پیچھے قدم بہ قدم چل پڑتا ہے اور دنیا میں آنے کا اپنا اصل ہدف اور مقصد کھو بیٹھتا ہے۔ ایسے انسان سے دنیا کو سماجی طورپر کبھی کوئی فائدہ پہنچتا ہے اور نہ ہی اس میں بسنے والے لوگوں کو، بلکہ اس کے برعکس یہ دنیا میں بسنے والے کھلے ذہین کے مالک اور دنیا میں اپنی نسلی بقا و تحفظ کے لئے اپنی عقلی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنے والوں سے حسد میں مبتلا ہو کر اُن کا کھلا دشمن بن جاتا ہے اجتماعی طورپر دیکھا جائے تو ایسے تمام لوگ اپنی ساری توانائی خود کو جنتی اور باقی سب کو دوزخی ثابت کرنے میں لگا دیتے ہیں جو پورے معاشرے میں تباہی کا سبب بنتے ہیں جس سے دنیا میں فساد و انارکی جنم لیتی ہے۔
قارئین اس طرح کی سوچ آپ کو دنیا میں مروجہ رائج تمام مذاہب میں ملیں گی جو جنت کی تلاش میں دنیا کو جہنم بنا دیتیں ہے۔ اِن جنت کے متلاشیوں سے میرا صرف اتنا کہنا ہے کہ اگر آپ واقعی جنت کے متلاشی ہیں تو پہلے اس دنیا کو جنت بنائیں جو رب تعالیٰ کی جانب سے نوع انسان کو ایک عظیم انمول تحفہ ہے اور ثابت کریں کہ آپ واقعی کسی جنت کہ اہل ہیں۔ میں بھی جنت کا خواہاں ہوں لیکن میں اکیلا جنتی بننا نہیں چاہتا، میں اِس دنیا کو جنت اور اِس میں بسنے والے تمام انسانوں کو جنتی بنانا چاہتا ہوں اورجہاں تک میں سمجھ پایا ہوں بحیثیت انسان میرے آنے کا اور اُس کے بھیجنے کا مقصد بھی یہی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں