استاد شومن کے گلے میں طوق


zafar kakarلکھنے کو کتنے پامال موضوعات دستیاب ہیں پر یہ دل دیکھو، خس خانہ و برفاب کی حسرت میں اٹکا ہے۔ اسے دیوسائی کی کنواری جھیل کے کنارے بیٹھ کر فروری کے ابر آلود خنک صبحوں میں سورج کی تپش کی تلاش ہے۔ چارسدہ کے کسی حجرے میں منگئی اور رباب پر آدم خان اور درخانی کی داستان الفت کا گیت ایک بار پھر سننا ہے۔ تھر کی ریت پر وہ چاندنی رات اور وہ لوک گیت۔ ’ کدی آو نی رسیلا ماری دیس۔۔۔۔ جواں تاری بات گھنے‘۔ کانوں میں شہد گھولنے کو یہ نغمہ جانے کب سننے کو ملے کہ چارسدہ کے غم دوراں نے خون اگلا اورتھر میں پیاس نے گلے سکھا دئیے۔ دیس کے نوحوں سے آنکھیں کیسے چرائیں۔ عزیزی فرنود عالم نے تھر کا نوحہ لکھا تھا۔ اس نوحے میں کیون کارٹر کی وہ کرب انگیز تصویر تھی۔ وہ تصویر نہیں انسانیت کے منہ پھر ایک دردناک تھپڑ ہے۔ کیون کارٹر کی تصویر انسانیت تو نہ جگا سکی مگر کیون کارٹر کو مرنے پر مجبور کر دیا۔ ادھر وطن عزیز میں کچھ اور تصاویر کے قصے ہیں۔۔۔۔
وطن عزیز کی دانش پر عذیر بلوچ کی تصاویر سوار ہیں۔ کتنا پامال موضوع ہے مجرموں اور سیاست دانوں کے راز و نیاز۔ سائیں قائم علی شاہ کی لازوال شخصیت کی طرح ان کی لازوال معصومیت بھی دیکھیے کہ ویڈیو ثبوت کے باوجود بضد ہیں کہ وہ کسی عذیر کو نہیں جانتے اور نہ ہی کبھی ملے ہیں۔ ادی فریال بھی بضد ہیں کہ وہ کسی عذیر کو نہیں جانتیں۔ جو الزامات کے دوسری طرف کھڑے شور مچا رہے ہیں ان کا غوث علی شاہ بھی اسی در پر حاضری دینے پہنچا تھا۔ جو مظلومیت کا راگ الاپ رہے ہیں انہوں نے صولت مرزا کو پہچاننے سے انکار کر دیا تھا۔ ایک صوبائی وزیر پر اسی کے جماعت کے رہنما قاتل پالنے کا الزام لگاتے ہیں۔ اس منظرنامے میں جو معصوم عن الخطا بن کر داد دہش سمیٹ رہے ہیں ان کے دفتروں اور گھروں سے دہشت گردوں کی گرفتاریاں ابھی کل کی بات ہے۔ سیاست دانوں کے مجرموں سے تعلقات کوئی آج کی بات تو ہے نہیں ہے۔ ایک پوری تاریخ ہے۔ ایک زمانہ ہوا کرتا تھا جب مجرم سیاست دانوں کے ہاتھوں کھیلنے 01والے پیادے سمجھے جاتے تھے۔ اب پیادے اور شاہ کا کردار بدل چکا ہے۔ پھر ریاست کے ہاتھ کچھ انوکھی سوجھ بوجھ لگی۔ ریاست نے تشدد بطور پالیسی برآمد کرنا شروع کر دی۔ دشمن کا دشمن دوست ہوا۔ مرحوم حمید گل کی جلال الدین حقانی کے ساتھ تصاویر جلال آباد سے آنے لگیں۔ رونالڈ ریگن کے بغل میں مولوی یونس کھڑے ملے۔ اسامہ سے کتنے پاکستانی معصومین نے خلوت و جلوت کے نشست کئے۔ تب رمزی یوسف یہیں سے برآمد ہوا۔ احمد غلفان یہیں سے ملا۔ خالد شیخ محمد ادھر ہی تھا۔ اور بن لادن تو ابھی کل کی بات ہے۔ یہ داستان جرم اگرچہ لذیزتر نہیں ہے مگر مختصر بھی نہیں ہے۔ مصطفی زیدی نے لکھا تھا۔ ’ اب نہ تجدید وفا کا نہ شکایات کا وقت، لٹ گئی شہر حوادث میں متاع الفاظ۔ چھوڑ دیتے ہیں ان پامال موضوعات کو کہ لکھنے کو اور بہت سامان پڑا ہے۔
اب دیکھیے نا’ سامان پڑا ہے ‘سے کیا یادآیا۔ لکھنے کو گلزار کا یہ گیت ’میرا کچھ سامان پڑا تمہارے پاس پڑا ہے‘ کوبھی موضوع بنایا جا سکتا ہے۔
زندگی کی اداس آنگنوں میں جانے کتنی بار یہ جملے گونجے ہوں گے۔ ’ایک اکیلی چھتری میں جب…. آدھے آدھے بھیگ رہے تھے…. آدھے گیلے آدھے
سوکھے…. سوکھا تو میں لے آئی تھی…. گیلا من شاید بستر کے پاس پڑا ہو۔ ‘
سوکھا کہاں لے کر گئی تھی۔ سوکھا تو تھر میں پڑا ہے۔ اور من چارسدہ کے غم میں گیلا ہو رہا ہے۔ ایک تصویر کیون کارٹر نے اس سسکتے سوڈانی بچے کی 02لی تھی ایک تصویر مگر پیٹر لیبنگ نے کانریڈ شومن کی لی تھی۔ 1961 میںکانریڈ شومن سوویت یونین کے مقبوضہ مشرقی جرمنی کا ایک سپاہی تھا۔ اگست میں دیواربرلن کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ ابھی صرف خاردار تاریں بچھنا شروع ہوئی تھیں۔ دیوار کی تعمیر کا تیسرا دن تھا جب شومن کو دیوار کی پہرہ داری پر بھیجا گیا۔ شومن دیوار کی تعمیر سے پریشان تھا۔ اسے لگتا تھا جیسے اسے جبر میں قید کیا جا رہا ہے۔ دیوار کے پاس کھڑا انیس سالہ شومن سوچ رہا تھا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ اسے قید پسند نہیں تھی۔ اتنے میں مغربی جرمنی کی طرف سے چند سپاہیوں نے اسے آواز دی کہ بھاگ آو۔ شومن بھاگ پڑا۔ اس کے
کاندھے سے بندوق لٹک رہی تھی۔ وہ مشرقی جرمنی کی فوجی ووردی میں ملبوس تھا۔ اس نے دیوار برلن (خاردار تاروں والی) پر سے چھلانگ لگا دی۔ عین جس لمحے شومن نے چھلانگ لگائی اسی لمحے پیٹر لیبنگ نے اسے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا۔ برلن میں آج بھی شومن ایک مجسمہ ایسادہ ہے جو اس کی کہانی بیان کرتا ہے۔ یہ ایک چھلانگ نہیں تھی۔ یہ جبر سے آزادی کا سفر تھا۔ یہ خس خانہ و برفاب کی تلاش تھی۔ یہ فروری کے ابر آلود خنک صبحوں میں سورج کی تپش تھی۔ یہ انسانی آزادی اور انسانی خوشی کا سفر تھا۔
ایک سفر ہم نے بھی کاٹا۔ تشدد اور جبر کے خوگروں کے کاندھے تھپکا تھپکا کر ہم نے اپنے آنگن میں کانٹوں کی آبیاری کی۔ کچھ مخصوص علاقے کے 03محدود ذہنیت کے بونے خدا کو زمین پر حق حاکمیت دلانے کے لئے بچوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ جہل کے لشکرنے ایک بار پشاور اے پی ایس میں انسانیت کے خون کی ہولی کھیلی اور ایک بار باچا خان یونیورسٹی میں خون بہایا۔ ہم نے مگر کیا کیا۔ آنکھیں قبر نہ ہوں۔ سماعتیں لحد نہ ہوں۔ دل تربت نہ ہوں تو دیکھ لیجیے۔ ہم نے استاد نے ہاتھوں میں بندوق تھما دی۔ اب بچے استاد کے گلے میں لٹکتی بندوق دیکھ کر سیکھیں گے کہ علم روشنی ہے۔ علم سماج میں انسان کے لئے امن و سکون کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ ہاتھ جس نے قلم اٹھانا تھا اب بندوق اٹھا کر کھڑا ہے۔ یہ بندوق نہیں ہے علم کے گلے میں طوق رسوائی ہے۔
علم کے منہ پر طمانچہ ہے۔ میر ناصر علی بستر مرگ پر پڑے تھے۔ ان کے بیٹے نے دل بہلانے کے لئے کہا، ’ دیکھئے آپ کے بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں سب آپ کی خدمت کے لئے جمع ہیں۔ کیا انہیں دیکھ کر آپ کو خوشی نہیں ہوئی؟ میر کے چہر ے پر ایک تبسم آئی اور بولے۔ ’ہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کرے‘۔ قوم کے بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں علم سیکھنے جمع ہیں اور غم خوار نے استاد کے ہاتھوں میں بندوق تھما رکھی ہے۔ کانریڈ شومن کی تصویر اندھیرے سے روشنی کا سفر تھا۔ استاد شومن کی تصویر روشنی سے اندھیرے کا سفر ہے۔ راوی البتہ چین لکھ رہا ہے۔ عذیر بلوچ گرفتار ہو چکا ہے۔ الطاف حسین منی لانڈرنگ میں ملوث نہیں پایا گیا۔ مولوی عبدالعزیز صاحب کوئی شرانگیز خطاب نہ کریں اس لئے جمعہ کو آبپارہ اسلام آباد میں موبائل سگنل بند ہوتے ہیں۔ اب تو آلو بھی پانچ روپے کلو دستیاب ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 81 posts and counting.See all posts by zafarullah

6 thoughts on “استاد شومن کے گلے میں طوق

  • 02-02-2016 at 10:50 pm
    Permalink

    استاد جب بهی لکهتے ہیں کمال کرتے ہیں. وجاہت صاحب کی ادارت میں آنے کے بعد آپ کی تحریروں سے مزاح کم ہو گئی ہے اس کی وجہ ان کی پالیسی ہے یا آپ کا اپنا فیصلہ

    • 03-02-2016 at 10:33 pm
      Permalink

      ادارتی بندش تو کوئی نہیں ہے مزاح لکھنا البتہ مشکل صنف ہے۔

  • 02-02-2016 at 10:52 pm
    Permalink

    Wah wah aala zafar sb

    • 03-02-2016 at 10:36 pm
      Permalink

      وقار بھائی کو تحریر پسند آئے تو خوش ہونا چاہیے کہ کچھ اچھا ہی لکھا ہو گا۔ شکریہ

  • 03-02-2016 at 1:37 am
    Permalink

    حسب معمول دل پذیر۔ بہت خوب

    • 03-02-2016 at 10:37 pm
      Permalink

      بہت شکرگزار ہوں مرشد۔ آپ کی محبت ہے۔

Comments are closed.