میاں صاحب نے جنرل باجوہ کو آرمی چیف کیوں بنایا؟


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"

روایت ہے کہ جب نیا بادشاہ تخت پر بیٹھتا ہے تو بڑے لوگ اس کی شان میں قصیدہ کہتے ہیں جو کہ نظم میں بھی ہو سکتا ہے اور نثر میں بھی۔ تو اس سے پہلے کہ کوئی دوسرا بڑھ کر قصیدہ کہے، اور ملک الشعرا کا عہدہ پا لے، ہم پہل کرتے ہیں۔ بعد میں آنے والے حضرات اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ تو ہم شروع ہوتے ہیں۔

میاں صاحب کو یہ علم ہو چکا تھا کہ ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ایک جانب دہشت گردی عروج پر تھی، طالبان کے بعد داعش کی توجہ بھی پاکستان پر مبذول ہو رہی تھی، دوجی جانب مودی نے سرحدوں کو گرم کر رکھا تھا، اور تیسری جانب امریکہ میں ڈانلڈ ٹرمپ کے صدر بن جانے کے بعد خیر کی کوئی امید باقی نہیں تھی۔

معاملہ بہت عجیب تھا۔ فیصلہ بہت مشکل تھا۔ چار جرنیل تھے جو کہ چیف بن سکتے تھے اور چاروں ایسے تھے جیسے چار انگلیاں اور چاروں چراغ۔ چاروں کے چاروں ہی پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 62 ویں لانگ کورس سے تھے اور چاروں نے ہی اگست 2017 میں ریٹائر ہونا تھا۔ آرمی چیف کے علاوہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا عہدہ بھی خالی ہو رہا تھا اس لئے چار میں سے دو کا انتخاب ہونا تھا۔

\"general-zubair-hayat\"

چیف آف جنرل سٹاف لیفٹننٹ جنرل زبیر حیات سینئیر ترین تھے۔

جنرل زبیر حیات کا تعلق بھِی جنرل مشرف کی طرح آرٹلری سے ہے۔ وہ جوہری اثاثوں کے کماندار بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی کمزوری یہ بتائی جاتی تھی کہ انہوں نے کبھی جنگ زدہ علاقے میں خدمات سرانجام نہیں دیں۔ ہماری رائے میں تو جس کے پاس ایٹم بم چلانے کا کنٹرول ہو، اس سے جنگی خدمات کا مطالبہ کیا جانا غلط ہے۔ ان کے دو بھائی بھی لیفٹننٹ جنرل ہیں۔

\"general-nadeem-taj\"

دوسرے نمبر پر کور کمانڈر ملتان لیفٹننٹ جنرل اشفاق ندیم تھے۔

جنرل اشفاق کو جنرل راحیل شریف نے کمان سنبھالتے ہی چیف آف جنرل سٹاف مقرر کیا تھا اور جنرل راحیل شریف کی کامیابی کا کریڈٹ کئی لوگ جنرل اشفاق کو دیتے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کا خاکہ جنرل اشفاق نے ہی تیار کیا تھا۔ وہ بطور میجر جنرل سوات آپریشن بھِی کر چکے ہیں۔ یعنی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان سے زیادہ تجربہ کار اور مہلک کسی دوسرے کو نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔

کور کمانڈر بہاولپور لیفٹننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے کا تیسرا نمبر تھا۔

\"general-javed-iqbal-ramday\"

جنرل رمدے سوات آپریشن کے دوران جنرل آفیسر کمانڈنگ رہ چکے ہیں اور اس مہم میں زخمی بھِی ہوئے تھے۔ ان کی فوجی صلاحیتوں کی تعریف کی جاتی ہے۔ ان کا تعلق ایک سیاسی پس منظر رکھنے والے خاندان سے بتایا جاتا ہے۔

انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایولیوایشن جنرل قمر جاوید باجوہ چوتھے نمبر پر تھے۔

کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں ان کا بہترین تجربہ بتایا جاتا ہے۔ جنرل باجوہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کشمیر میں بھارتیوں کی مسلسل یلغار کا مقابلہ کرنے کے باجود، یا شاید بھارتی فوجی صلاحیت سے واقف ہو جانے کے بعد، دہشت گردی کو پاکستان کے لئے ہندوستان سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ روایت بھی ہے کہ وہ دھرنے میں فوج کی دخل اندازی کے خلاف رائے رکھتے تھے۔

\"qamar-javed-bajwa2\"

لیفٹننٹ جنرل باجوہ اقوام متحدہ کے کانگو امن مشن میں سابقہ بھارتی آرمی چیف جنرک بکرم سنگھ کے ساتھ بطور بریگیڈ کمانڈر کام کر چکے ہیں۔ جنرل بکرم سنگھ وہاں ڈویژن کمانڈر تھے۔ وہ بلوچ رجمنٹ سے ہیں جس سے جنرل یحیی خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل کیانی کا تعلق بھی تھا۔

اب میاں صاحب کے لئے معاملہ بہت مشکل تھا۔ ہمارے ایک با اعتماد مخبر خلیفہ اے ڈی مقراض مالک جینٹل مین ہئیر کٹنگ سیلون نے ہمارے سر کی قسم کھا کر بتایا کہ آرمی چیف کی تقرری میں دیر کی وجہ یہ ہے کہ میاں صاحب ایک مہینہ مسلسل استخارہ کرتے رہے کہ کسے آرمی چیف بنایا جائے لیکن ان کا دل مطمئن نہ ہوا۔ سمجھ نہیں آتی تھی کہ کون ہے جو کہ ان کو انڈیا کی پالیسی چلانے دے گا، دہشت گردوں سے نمٹنے دے گا، اور دھرنے وغیرہ دینے والوں کی بے جا حمایت نہیں کرے گا۔ آخر تھک ہار گئے۔ سوچ سوچ کر ان کی عقل ماؤف ہو چکی تھی۔

\"nawaz-sharif-jail\"

اس سے پہلے وہ چار آرمی چیف مقرر کر چکے تھے اور محض ایک مرتبہ ان کا انتخاب کچھ خوشگوار رہا تھا۔ جنرل آصف نواز جنجوعہ اپنی مرضی کرنے کے قائل تھے اور ہمارے لاہور سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم کو گھاس نہیں ڈالتے تھے۔ جنرل وحید کاکڑ انصاف پسند نکلے اور مسئلے کا حل نہ نکلا تو جناب نواز شریف اور غلام اسحاق خان صاحب دونوں کو ہی گھر بھِیج کر معاملہ نمٹا دیا۔ جنرل پرویز مشرف نے میاں صاحب کو گھر نہیں بھیجا، بلکہ سمندر پار جدے بھیجا۔ جنرل راحیل شریف سے ان کا معاملہ کچھ بہتر رہا لیکن خارجہ پالیسی کو اپنے کنٹرول میں لینے کی میاں صاحب کی بہت خواہش ہے، وہ پوری نہ ہوئی۔

کسی بھی جمہوری پاکستانی وزیراعظم کا سب سے بڑا خوف تو یہی ہوتا ہے کہ کہیں اس کا منتخب کیا ہوا جنرل اس کا صدر نہ بن جائے۔ ہر ایک تو جنرل کیانی اور جنرل راحیل شریف نہیں ہوتا ہے، بعضے بعضے جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف بھی نکل آتے ہیں۔

\"general-dictators\"

خلیفہ اے ڈی مقراض نے بتایا کہ آخر میں میاں صاحب اپنے دفتر کے کمرے میں بند ہو گئے جس کی دیواروں پر پاکستان کے سب حکمرانوں کی تصویر لگی ہوئی۔ میاں صاحب صبح تک جاگتے رہے اور نوشتہ دیوار پڑھنے کی کوشش کرنے میں جتے رہے۔ معاملہ بہت نازک تھا، پاکستان حالت جنگ میں تھا، عمران خان ملک کے اندر میاں صاحب کو دق رہا تھا تو سرحد پر مودی توپیں چلا رہا تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آیا حتی کہ ان کا ناشتہ آ گیا۔ سری پائے اور کھوئے والی میٹھی لسی پی کر وہ کیفیت حال میں پہنچے تو سرور کے عالم میں یکایک ان کی الجھن حل ہو گئی۔ انہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام فائنل کر دیا۔

خلیفہ اے ڈی مقراض نے بتایا کہ بیچ کی بات یہ ہے کہ جنرل اشفاق اور جنرل زبیر حیات کی مونچھیں تھیں اس لئے وہ آرمی چیف بننے کے لئے میاں صاحب کو اہل دکھائی نہ دیے۔ میاں صاحب پچھلی رات دیواروں پر یہی دیکھتے رہے تھے کہ مارشل لا لگانے والے تمام جرنیل مونچھوں والے تھے۔ اب انتخاب جنرل رمدے اور جنرل باجوہ میں سے ہی کرنا تھا اور اس کا حل نہایت آسان تھا۔ میاں صاحب نے جیب سے سکہ نکال کر اچھالا اور یوں آج ہم سب یہ خوشخبری سن رہے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اب پاکستان کے نئے آرمی چیف ہیں۔

اس سکے کی سب سے بھاری قیمت نریندر دامودر مودی چکاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ طالبان کا زور تو بہت حد تک ٹوٹ چکا ہے۔ ملک کے اندر ان کے سیل کام کرتے رہیں گے کیونکہ وہ ایک نظریاتی جنگ ہے جو کہ حکومت نے شروع کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی ہے، مگر بحیثیت مجموعی طالبان اپنے زیر اثر علاقوں پر اپنا کنٹرول کھو چکے ہیں۔

اب یو پی اور دوسرے الیکشن جیتنے کے لئے نریندر مودی کی حکومت کو پاکستان دشمنی کا کارڈ کھیلنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لئے کشمیر کا محاذ گرم کیا جا رہا ہے۔ جنرل باجوہ امور کشمیر ہی کے ماہر ہیں، اور ظاہر یہی ہو رہا ہے کہ میاں صاحب نے اس تقرری کے ساتھ نریندر مودی کی مہم جوئی کو ہی لگام دی ہے۔ جنرل باجوہ کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ کشمیر کے سیاسی حل کے حامی ہیں، یعنی نواز شریف صاحب کو سیاسی طور پر بھارت کے ساتھ معاملات طے کرنے میں کھلا ہاتھ ملنے کا امکان ہے۔

سی پیک کے متعلق یہ کہا جاتا ہے، کہ مشرقی روٹ کا مقصد بھارت کو بھی سی پیک سے جوڑنا ہے۔ اگر دنیا کی پچاس فیصد آبادی، یعنی بھارت اور چین، پاکستان کے راستے تجارت کریں تو پاکستان کی معاشی ترقی کے امکانات بے تحاشا ہوں گے۔ غالباً اس معاملے پر اب سیاسی قیادت کو ہی امکانات کو حقیقت میں ڈھالنے کا موقع ملے گا۔ نریندر مودی کو ایک طرف تو فوجی جواب دیا جائے گا، اور دوسری جانب ان پر ان کے حامی بھارتی کارپوریٹ سیکٹر کا دباؤ ہو گا کہ پاکستان کے راستے تجارت کی جائے اور تعلقات کو بگاڑنے کی بجائے بہتر بنایا جائے۔

گیم آن ہے۔ ہم تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 694 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar