اوریا مقبول جان صاحب کی درخواست پر ایک تحریر


اوریا مقبول جان صاحب اپنے 25 نومبر والے کالم کے سلسلے میں بڑے پریشان تھے تو اس بارے میں انہوں نے مجھے فون کیا۔ دوستوں کو بتاتا چلوں کہ یہ\"saleem-malik\" ایک روٹین کی بات ہے جب وہ کسی چیز پر پریشان ہوتے ہیں تو مجھے ہی فون کرتے ہیں اور اپنی پریشانی بتاتے ہیں۔ میں ان کی کچھ کونسلنگ وغیرہ کر دیتا ہوں تو وہ مطمئن ہو جاتے ہیں۔ اس دفعہ کچھ زیادہ ہی پریشان تھے۔ میں نے حسب معمول کونسلنگ کی اور وہ مطمئن تو ہو گئے لیکن ایک مدد اور بھی مانگ لی۔ کہنے لگے کہ مجھ سے بات کر کے انہیں اپنے کالم کے نقائص اور ان کے حل کا پتا تو چل گیا ہے لیکن پھر بھی انہیں لگتا کہ وہ اپنے قارئین کو یہ باتیں اچھی طرح سمجھا نہ پائیں گے۔ مزید درخواست کرنے لگے کہ چونکہ میں نے ان کی یہ الجھن دور کی ہے تو میں ہی ان باتوں کو ایک بلاگ کی شکل میں لکھ کر \”ہم سب\” پر چھپوا دوں تو وہ احسان مند ہوں گے۔ ان کی نفسیاتی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے حامی بھر لی۔ وعدے کے مطابق اوریا مقبول جان صاحب کی کالم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی الجھن اور اس کا حل پیش خدمت ہے۔

کالم چھپنے کے بعد ان کو خوشی یہ تھی کہ کشمیریوں کی آزادی کی تحریک تو دو قومی نظریے پر خوب فٹ آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جن مسلمان نے پاکستان بنتے وقت ہجرت نہیں کی تھی اور بھارت میں رہ گئے تھے ان کا حل بھی انہوں نے نکال لیا ہے کہ وہ تو محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے کے ساتھ ہی طے ہو گیا تھا کہ دو قومی نظریے کی مخالفت کرتے ہوئے جو دو چار کروڑ مسلمان پاکستان ہجرت نہیں کریں گے اور انڈیا میں رہ جائیں گے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائیں گے۔ لہٰذا یہ تو طے ہوا کہ انڈیا کی تقسیم پر جن لوگوں نے ہجرت نہیں کی وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔ اس بات سے متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کے اعدادوشمار پر کچھ فرق ضرور پڑا مگر وہ تو پہلے ہی  انہوں نے اپنے کالم میں درست کر دیے ہیں۔

اب الجھن یہ تھی کہ 1947 میں جب پاکستان بنا تھا تو کوئی تین چار کروڑ کے لگ بھگ بنگالی مسلمان بھی دو قومی نظریے کے تحت ہی پاکستان کا حصہ بنے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بات کو انہوں نے اپنے کالم سے مکمل طور پر حذف تو کیا ہے لیکن ان کے اندر کچھ پریشانی ہے۔ انہیں شک ہے کہ کافی لوگوں کو یہ بات ابھی تک یاد ہے کہ آج کا بنگلہ دیش 1971 تک پاکستان تھا۔ تو 1971 میں ان کا ایک دفعہ پھر تحریک آزادی چلانا اور علیحدہ ملک بنا لینا دو قومی نظریے میں کیسے فٹ کروں۔ تو میں نے ان کی توجہ حجاج بن یوسف کی اس نصیحت کی طرف دلائی جو اس نے عظیم جرنیل سترہ سالہ نوجوان محمد بن قاسم کو ہندوستان بھیجتے ہوئے کی تھی۔ اس نصیحت میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ مسلمانوں کا قلعہ صرف اسی حصے کو تصور کیا جائے گا جو مغربی پاکستان کے چار صوبوں اور کشمیر پر مشتمل ہو گا۔ اس کے علاوہ جو علاقے یا لوگ پاکستان میں شمولیت کریں گے وہ عارضی ہو گا اور ان کی غداری جلد ہی سامنے آ جائے گی۔ وہی ہوا۔ بنگالی غدار نکلے۔ اصل میں انڈیا میں رہ جانے والے مسلمانوں کی طرح بنگالی مسلمان بھی کافر ہی تھے۔

مشرقی پاکستان کا بننا دراصل اصلی پاکستان کے خلاف ایک سازش تھی تاکہ پاکستان اپنی پہلی سلور جوبلی منانے سے پہلے ہی ٹوٹ جائے اور ہماری بدنامی ہو۔ اس \"orya-maqbool-jan\"سازش کے سرغنہ مولانا ابوالکلام آزاد تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان کے بارے میں ان کی پیشن گوئیاں حرف بحرف ٹھیک ہوں۔ اور آپ نے دیکھ لیا کہ ان کی سازش کامیاب ہوئی۔ ان کا کہا ہمارے سامنے آتا گیا۔ یہ تو ہمارا ڈھیٹ پنا ہے کہ ہم نے اپنی رٹ لگائی ہوئی ہے ورنہ وہ پیشن گوئیاں تو بہت بری طرح ہمارا منہ چڑاتی ہیں۔

اوریا صاحب کی یہ الجھن دور ہوئی تو وہ بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے ساتھ ہی نعرہ لگا دیا کہ بڑی جنگ میں ان بزدل غدار بنگالیوں کو بھی کافر ہی ٹریٹ کیا جائے گا اور ان کو فاتح نہیں بلکہ مفتوح کا درجہ ملے گا۔

ان کی دوسری الجھن یہ تھی کہ انہوں نے اپنے اس تازہ کالم میں انڈیا میں رہ جانے والے مسلم ناموں والے کافروں کے کافر ہونے کی ایک دلیل یہ دے دی کہ وہ اپنے چوائس پر کافروں میں گھل مل کر رہتے ہیں اس لئے بھی وہ کافر ہیں اور یہ کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہی ہو گا۔ (انہوں نے اپنے لئے دلیل گھڑنے کے الفاظ استعمال کیے لیکن میں نے انہیں سہارا دیا کہ وہ ایک عالم ہیں اگر وہ کوئی دلیل گھڑتے بھی ہیں تو اسے دلیل دینا ہی لکھا اور پڑھا جائے گا)۔ بہرحال انہیں پریشانی یہ لاحق ہو گئی کہ یہ جو لاکھوں پاکستانی مسلمان دوبارہ ہجرتیں کر کے یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں رہتے ہیں وہ بھی ان کافروں کے ساتھ کافی گھل مل کر رہتے ہیں لیکن انہیں دائرہ اسلام کے اندر رکھنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ وہ سارے لوگ بہت اچھے ہیں۔ جب وہ (اوریا صاحب) ان ملکوں کے دورے پر جاتے ہیں تو وہ لوگ اوریا صاحب کی باتوں پر واہ واہ کرتے ہیں۔ اس لئے ان لوگوں کا کافروں کے ساتھ گھل مل کر رہنا درگزر کرنا ہے اور وہ بھی ایسے کہ دو قومی نظریہ پر کوئی آنچ نہ آئے۔ تو اس پر میں نے انہیں بتایا کہ یہ چونکہ وطن عزیز کی عزت کا مسئلہ جو مسلمانوں کا قلعہ بھی ہے اس لئے تھوڑے سے دوہرے معیار قائم کرنے کی ضرورت اور اجازت ہے۔ یہ بات جلد ہی کلیئر ہو گئی کیونکہ ان کے اپنے ذہن میں بھی یہی حل تھا۔ بس مجھ سے تصدیق کروانا چاہتے تھے۔ اس بات پر ہمارا اتفاق ہو گیا کہ معیار تو دوہرا ہی ہو گا لیکن اس کے متعلق سوال اٹھانے والے کو فورا غدار کہہ کر چپ کرا دیا جائے گا۔

جناب اوریا مقبول جان صاحب کے تمام قارئین کی خدمت میں آداب۔ میں نے ان سے کیا ہو وعدہ پورا کر دیا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 193 posts and counting.See all posts by salim-malik

2 thoughts on “اوریا مقبول جان صاحب کی درخواست پر ایک تحریر

  • 29/11/2016 at 9:29 pm
    Permalink

    Marny ke ba’ad jab fareshty sawal wa jawab ke liye oria maqbol jan ke pass ayengy. tho unn ka sawal direct nahi hoga.faresh kabeyga mein tum se aik aisa sawal pooch raha hon ke tuhary rongty kary ho ja’engy.mazeed malomat ke liye news tody par click karo.
    Sub sabafiyon ke blogs mein dhons hota hae.ye log barzakh mein balance kahan sy la’engy.
    Jaisa karogy waisa bharogy.
    Sahafi 3 sawalon ka jawab 3 hazar saal mein daiga.
    Dunya mein jiss sahafi ke blog mein dhons nahi hoga wo 3 mint mein jawab dy sakega.

  • 02/12/2016 at 9:56 am
    Permalink

    Dear Malik Sahib, very good write up, light style but very organize and logical arguments. I enjoy your writing and it reminds me Colonel Muhammad Khan’s writing style.

Comments are closed.