پی آئی اے، تشدد اور جنگلوں کا دستور


husnain jamal (3)ایک روز ملا نصر الدین بازار سے گزر رہے تھے۔ ان کے پیچھے ان کے مریدین باصفا کا ایک ہجوم بھی چل رہا تھا۔ نصر الدین جو کرتے ان کے مرید فوراً اس کی تقلید کرتے۔ وہ چند قدم چلتے، رکتے، ہوا میں اپنے ہاتھ پھیلا کر انہیں زور زور سے ہلاتے پھر جھک کر اپنے پیروں کوچھوتے، جھٹکے سے سیدھا ہوتے اور زور سے چلاتے، “ہو ہو، ہا ہا۔“ ان کے مرید بھی ایسا ہی کرتے۔
بازار میں موجود سوداگروں میں سے ایک کا تعلق نصر الدین کے علاقے سے ہی تھا ، وہ ان کے پاس گیا اور سرگوشی کی؛ ” اے رفیق دیرینہ، یہ کیا ماجرا ہے، تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ اور یہ لوگ تمہاری نقل کیوں کر رہے ہیں ؟ “
” میں اب ’شیخ ‘ بن چکا ہوں،“ نصر الدین نے جواب دیا۔ ” یہ تمام لوگ میرے مرید ہیں۔ میری ہر ایک حرکت پر عمل کرکے یہ وجدان اور مکتی پانا چاہتے ہیں ، اور…. اور میں ان کی مدد کر رہا ہوں۔“
” لیکن تمہیں پتہ کیسے لگتا ہے کہ ان کو وجدان اور مکتی مل رہی ہے؟ “ سوداگر نے پوچھا۔
” دوست، یہ تو بہت ہی آسان ہے۔ میں ہر روز صبح ان کی گنتی کرتا ہوں۔ ان میں سے جو کم ہوتے ہیں ، وہ وجدان اور مکتی پا چکے ہوتے ہیں۔“
اس وقت حکومت اور ان کے حواریوں کے حالات دیکھ کر یہ حکایت بے طرح یاد آ گئی۔ عالمی ادارے آپ کے سر پر کھڑے ہیں لیکن آپ اورنج لائن ٹرین کو اپنی انا کا مسئلہ بنا چکے ہیں۔ وزیر داخلہ نے خارجی دنیا میں آپ کا مذاق بنایا ہوا ہے۔ اور سونے پر سہاگہ آج کا وہ ہنگامہ ہے جو پی آئی اے کے ملازمین کے ساتھ ہوا۔
پی آئی اے کی نجکاری ہونی چاہیے یا نہیں۔ جو ابھی تک ہوا اور جو نہیں ہوا، یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔ سب سے پہلے اس بیان کو دیکھیے جو نوے کی دہائی سے ہم لوگ سنتے آ رہے ہیں۔
“وزیر اعظم صاحب، اتنا ظلم کریں جتنا آپ برداشت کر سکیں۔”
آج کراچی ائیر پورٹ پر حکومت نے وہ قدم اٹھایا جو انتہائی حالات میں بھی جمہوری حکومتیں اٹھانے سے گریز کرتی ہیں۔ جب آپ دھرنے جیسی عفریت سے پرامن طریقے سے نمٹ لیے تو اس بار کیا ایسی بپتا آن پڑی تھی جو آپ کو فائرنگ، شیلنگ، ڈنڈے برسانے اور صحافیوں کو بھی نہ بخشنے پر مجبور کر دے؟ ایک بے قصور مارا گیا، کتنے ہی لوگ زخمی ہوئے، پولیس اور رینجرز حسب روایت انکاری ہیں کہ گولی انہوں نے نہیںچلائی۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرہ پر امن تھا۔ وہ ایسا پرتشدد کیسے ہوا کہ کیمرے تک توڑ دئیے گئے، سر پکڑ کر سوچنے کا مقام ہے!
جمہوری حکومتوں کے یہ اقدام عوام کو ان سے خائف کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ کل لازمی سروس ایکٹ نافذ کیا گیا، آج آپ ملازمین پر ڈنڈے برسا رہے ہیں اور پھر آپ یہ توقع کرتے ہیں کہ برے وقت میں عوام آپ کے ساتھ ہوں گے، تو یہ غلط فہمی ہے۔ جس منشور پر آپ الیکشن جیتے اس میں سب سے اہم بجلی کا مسئلہ حل کرنا تھا، بفضل خدا کتنے برس ہونے کو آئے، معاملہ وہیں کا وہیں ہے بلکہ بدترین ہو چکا ہے۔ لوگوں کا مسئلہ عزیر بلوچ کی گرفتاری نہیں ہے حضور، ان کا مسئلہ گیس، بجلی، پانی ہے۔ آپ اس سب میں تو ناکام ہوئے ہی، ساتھ میں آج جس وحشیانہ تشدد کا مظاہرہ کیا گیا ہے وہ ناقابل یقین ہے۔ ایک ایسی حکومت جو جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، اور اسی کا رونا رو رو کر برسراقتدار آئی ہے، آزادی اظہار رائے جیسے بنیادی حق کے ساتھ اس طرح نمٹتی ہے تو ہمیں کوئی بھی دوسرا کیا برا ہے! اب زہرہ نگاہ کی ایک مشہور حسب حال نظم ملاحظہ کیجیے اور ٹی وی دیکھتے رہیے؛
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے
تو وہ حملہ نہیںکرتا
سنا ہے جب
کسی ندی کے پانی میں
بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے
تو ندی کی روپہلی مچھلیاںاس کو پڑوسن مان لیتی ہیں
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں
تو مینا اپنے گھر کو بھول کر
کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے
سناہے گھونسلے سے جب کوئی بچہ گر ے تو
سارا جنگل جاگ جاتا ہے
ندی میں باڑ آجائے
کوئی پل ٹوٹ جائے تو
کسی لکڑی کے تختے پر
گلہری ، سانپ ، چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
خداوندِ جلیل و معتبر ، دانا و بینا منصف و اکبر
ہمارے شہر میں اب
جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر !!

(حکایت کا اقتباس چند الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ قیصر نذیر خاور صاحب کی زیر طبع کتاب سے لیا گیا ہے۔)


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 143 posts and counting.See all posts by husnain