دھمکیاں ، ہلاکتیں اور زخم زخم پی آئی اے


mujahid aliوزیراعظم نواز شریف نے لازمی سروس ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے پی آئی اے کے ملازمین کو ملازمت سے برطرف کرنے اور قانون کے مطابق ایک سال تک سزا دلوانے کی دھمکی دی ہے۔ عین اسی وقت جب وزیراعظم پی آئی اے کے ناراض ملازمین کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کر رہے تھے، کراچی میں پی آئی اے کے احتجاجی ملازمین نے ائر پورٹ ٹرمینل میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ پولیس اور رینجرز کے ساتھ ملازمین کی مڈبھیڑ میں پی آئی اے کے دو ملازمین جاں بحق ہو گئے۔ دس افراد زخمی حالت میں اسپتال میں داخل ہیں۔ اس تصادم میں دو صحافی بھی زخمی ہوئے ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ہڑتال نہ کرنے والے ملازمین کے تعاون سے اگرچہ پی آئی اے کی پروازیں اڑان بھر رہی تھیں لیکن کراچی میں دو ہلاکتوں کے بعد ملک بھر میں فلائٹ آپریشن معطل کر دیا گیا تھا۔ کئی شہروں میں پی آئی اے ملازمین نے مظاہرے بھی کئے ہیں۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے پی آئی اے کے سوال پر 6 فروری کو ملک گیر ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

قومی ائر لائن گزشتہ کئی برس سے بیمار ہاتھی کی طرح قومی خزانے پر بوجھ بنی ہوئی تھی۔ اس کی اصلاح اور اخراجات میں کمی کی کئی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ دنیا کے متعدد مقامات پر پی آئی اے کی پروازیں بند ہو چکی ہیں یا شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ قومی ائر لائنز کی زیادہ تر آمدنی اندرون ملک پروازوں اور حج کے دوران پروازوں سے حاصل ہوتی ہے۔ تاہم اس ادارے کی آمدنی مسلسل کم ہو رہی ہے، سروس انحطاط کا شکار ہے اور اخراجات میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک کی سیاسی حکومتوں نے قومی ادارہ سمجھتے ہوئے ہر دور میں سیاسی طور پر لوگ بھرتی کئے ہیں۔ یہ لوگ نہ تو اس کام کے اہل ہوتے ہیں جس کے لئے انہیں ملازم رکھا جاتا ہے اور نہ وہ کام کرنے یا سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ سیاسی تعلق کی بنیاد پر پی آئی اے میں ملازمت حاصل کرتے ہیں، اس لئے انہیں اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ کوئی انہیں ملازمت سے نہیں نکال سکتا۔ اس صورتحال کی وجہ سے پی آئی اے جو کبھی دنیا کی نمبر ایک ائر لائن شمار ہوتی ہے، اس وقت اپنے ہی ملازمین کی تعداد اور نااہلی کے بوجھ تلے دبی ہوئی سسک رہی ہے۔ ان ملازمین کو تنخواہوں کے علاوہ مفت سفر اور دیگر مدات میں بے شمار مراعات بھی حاصل ہیں۔ ان حالات نے ائر لائن میں کام کرنے والوں کی صلاحیت اور جذبہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ ضرورت سے زیادہ بھرتیاں کرنے کی وجہ سے پی آئی اے اپنے ملازمین کا خرچہ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔

مسلم لیگ (ن) نے برسر اقتدار آنے سے پہلے ہی پی آئی اے کو نجی ملکیت میں دینے کا ہدف مقرر کیا ہوا تھا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود حکومت نے 21 جنوری کو اس حوالے سے قانون منظور کروا لیا۔ منصوبہ کے تحت پی آئی اے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اس کے آپریشنز کا حصہ کسی بین الاقوامی ائر لائن کو فروخت کر دیا جائے گا تا کہ پی آئی اے کی پروازیں بہتر ہو سکیں اور یہ عالمی ایوی ایشن مارکیٹ میں اپنا مقام حاصل کر سکے۔ گراﺅنڈ سروسز اور دیگر شعبوں کو ائر آپریشن سے علیحدہ کر کے ایک کمپنی بنا دی جائے گی۔ اگرچہ حکومت گزشتہ ہفتے تک یہ اعلان کرتی رہی ہے کہ اس منصوبہ پر عملدرآمد چھ ماہ کے لئے مو¿خر کر دیا جائے گا اور اس سے قبل وزیر خزانہ اسحاق ڈار اپوزیشن کو یقین دلاتے رہے ہیں کہ پی آئی اے کو نجی ہاتھوں میں دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لیکن ان اعلانات اور یقین دہانیوں کے باوجود کل وزیراعظم نے پی آئی اے پر لازمی سروس ایکٹ کا اطلاق کرتے ہوئے اس قومی ائر لائن کے بارے میں حکومتی منصوبہ پر عمل کرنے کا آغاز کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی ملازمین کی یونین نے حکومت کے منصوبہ کو مسترد کرتے ہوئے ہڑتال کرنے اور آپریشن مکمل طور سے بند کرنے کا اعلان کیا۔ جبکہ وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کل رات متنبہ کیا تھا کہ حکومت کسی قیمت پر پی آئی اے کی پروازوں کو رکنے نہیں دے گی۔ جو بھی اس سلسلہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا، دشمن سمجھ کر اس سے نمٹا جائے گا۔

ملک کے ایک بڑے ادارے کے 20 ہزار ملازمین کے ساتھ اس قدر تند و تیز لہجے میں بات کرنا کسی جمہوری حکومت کو زیب نہیں دیتا۔ آج وزیراعظم نے ساہیوال کے دورے کے دوران پرویز رشید کے بیان کو دہراتے ہوئے دھمکی دی کہ ہڑتال کرنے والے ملازمین کو نوکری سے نکال دیا جائے گا اور ان کے خلاف لازمی سروس ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمے بھی چلائے جائیں گے۔ یہ بات غیر واضح ہے کہ یہ بیان کراچی میں سکیورٹی فورسز اور پی آئی اے کے ملازمین کے درمیان تصادم سے پہلے دیا گیا یا بعد میں لیکن وزیراعظم نے نہایت درشت لہجے میں ملازمین کے احتجاج اور مطالبات کو مسترد کیا ہے۔ اسی طرح کراچی میں پی آئی اے کے ملازمین نے لازمی سروس ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹرمینل پر دھاوا بولنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں پولیس نے لاٹھی چارج ، آنسو گیس اور پانی کے چھڑکاﺅ سے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ اس تصادم میں البتہ دو افراد گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوئے ہیں۔ رینجرز اور پولیس کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے گولی نہیں چلائی۔ اب ان گولیوں کے خول حاصل کر لئے گئے ہیں جن کے لگنے سے دو افراد کو جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ تاہم ان ہلاکتوں کے سبب صورتحال نہایت سنگین ہو چکی ہے۔ اپوزیشن نے اس صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تحریک انصاف نے احتجاج کرنے کے لئے 6 فروری کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان بھی کیا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ قومی ائر لائن کا خسارہ 10 کروڑ روپے یومیہ تک پہنچ چکا ہے۔ پی آئی اے کے پاس کل 30 طیارے ہیں جن میں سے نصف سے زائد پرانے اور اکثر ناقابل استعمال ہوتے ہیں۔ جبکہ اس کے ملازمین کی تعداد 20 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ اس لئے یہ صورتحال غیر متوقع نہیں ہے اور نہ ہی اس کی اصلاح کرنا غلط بات ہے۔ لیکن حکومت نے اس سوال پر سیاسی اپوزیشن یا پی آئی اے کے ملازمین کو اعتماد میں لینے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ ائر لائن کو دو کمپنیوں میں تقسیم کرنے کے منصوبہ کو بھی خفیہ رکھا گیا ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ حکومت آپریشنز کا شعبہ فروخت کر کے کچھ وسائل حاصل کر لے گی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ملازمین کی اکثریت کے ساتھ کیا معاملات کئے جائیں گے۔ ملازمین کو یہی اندیشہ احتجاج پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ نجکاری کی صورت میں اتنی چھوٹی ائر لائن کے لئے اتنی تعداد میں ملازمین کو کام پر بحال رکھنا سود مند نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ صورتحال واضح ہونے تک بھی اکثر ملازمین بیش قیمت مراعات سے محروم ہو جائیں گے۔ اس حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہی اصل تنازعہ کا سبب بن رہی ہے۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ تمام معاملات تفصیل کے ساتھ یونین کے سامنے رکھ کر ملازمین کی اکثریت کو دیگر سرکاری اداروں میں کھپانے کی کوشش کرتی یا انہیں گولڈن شیک ہینڈ کی اسکیم کے تحت ملازمت سے فارغ کیا جاتا۔ حکومت نے اس قسم کا فراخدلانہ رویہ اختیار کرنے سے گریز کیا ہے۔ نہ ہی منصوبے کی تفصیلات بتائی جا رہی ہیں اور ملازمین پر یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا۔ اس طرح حکومت نے ایک اہم معاملہ کو ذاتی انا کا سوال بنا کر ایک تکلیف دہ صورتحال پیدا کی ہے جس میں سے نکلنا آسان نہیں ہو گا۔

21 جنوری کو پی آئی اے کی نجکاری کا قانون منظور ہونے کے بعد سے پی آئی اے کے ملازمین کے نمائندے اس وقت تک انتظامیہ سے بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں جب تک یہ قانون واپس نہ لیا جائے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری ناقابل قبول ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ائر لائن کی حالت سدھارنے کے لئے اسے ملازمین کے حوالے کر دیا جائے۔ اگر وہ ناکام ہو جائیں تو حکومت جو چاہے اقدام کر سکتی ہے۔ اس مقصد کے لئے ملازمین اپنی مرضی کے ماہرین کی کمیٹی بنوانے پر اصرار کر رہے ہیں۔ پی آئی اے کی یونین کا یہ مطالبہ حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ کیونکہ یہ مسائل گزشتہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ قومی ائر لائن کے خسارے میں اضافہ اور سروسز کا انحطاط بڑھتا جا رہا ہے۔ حکومت یا کوئی نجی کمپنی ملازمین کا یہ مطالبہ قبول نہیں کر سکتی۔ دوسری طرف حکومت نے یک طرفہ طور سے لازمی سروس ایکٹ نافذ کر کے اشتعال انگیزی میں اضافہ کیا ہے۔ اس پر مستزاد وزیر اطلاعات اور وزیراعظم کے تند و تیز بیانات ہیں۔

اس کوتاہ اندیشی کی وجہ سے اب اگر حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے اور قومی ائر لائن اصلاح سے محروم رہتی ہے تو یہ حکومت کی حکمت عملی اور سیاست کے لئے بہت بڑا دھچکہ ہو گا۔ قومی خزانے کو ایک غیر ضروری اور غیر منفعت بخش ادارے کا بوجھ غیر معینہ مدت تک برداشت کرنا پڑے گا۔ فی الوقت اگر ملازمین حکومت کو مجبور کرنے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو بھی مسئلہ کے طویل المدت حل کے لئے یہ کوئی خوش آئند بات نہیں ہو گی۔ اس لئے حکومت اور ملازمین کو سخت گیر موقف سے گریز کرتے ہوئے مل بیٹھ کر اس مسئلہ کا ایسا حل تلاش کرنا چاہئے جو سب کے لئے قابل قبول ہو اور قومی خزانہ بھی ناروا نقصان برداشت کرنے سے محفوظ ہو سکے۔

بشکریہ کارواں (ناروے) www.karwan.no


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 416 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali