چارسدہ حملے کا مرکزی سہولت کار گرفتار


bachaحساس اداروں نے باچا خان یونیورسٹی کے چار سدہ کیمپس میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے مرکزی سہولت کار کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، اس حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں طلبہ، اساتذہ اور اسٹاف کے دیگر افراد شامل تھے۔اہم ذرائع کے مطابق وحید علی عرف ارشد کو گزشتہ ہفتے نوشہرہ سے گرفتار کیا گیا تھا، جسے ‘دہشت گرد اے’ کی درجہ بندی میں شامل کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ‘مرکزی سہولت کار نے افغانستان فرار ہونے کے لیے تمام انتظامات مکمل کررکھے تھے اور تورخم کے مقام سے پاک-افغان سرحد عبور کرنے کے لیے ایک ٹیکسی بھی کرائے پر لے رکھی تھی۔ اگر اس کی گرفتاری میں کچھ دیر ہوجاتی تو وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتا’۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع نے بتایا کہ ‘مذکورہ سہولت کار نے داڑھی شیو کرلی تھی اور سامان پیک کرچکا تھا۔ اس کی ٹیکسی کو راستے میں روکا گیا اور شناخت کی تصدیق کے بعد گرفتار کرلیا گیا’۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مرکزی سہولت کار وحید، جس کی عمر تقریبا 30 سال ہے، نے اپنے ابتدائی بیان میں بتایا کہ یونیورسٹی پر حملے کی منصوبہ بندی 6 ماہ قبل افغانستان کے ضلع آچن میں کی گئی تھی، جو دہشت گرد کمانڈر خلیفہ عمر منصور عرف عمر نارے کا بیس کیمپ ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ اس نے خفیہ طور پر پنجاب رجمنٹ سینٹر اور مردان پولیس اسٹیشن کی ویڈیوز بنائی تھیں، جو مطلوبہ ٹارگٹ ہوسکتے تھے اور یہ تصاویر عمر نارے کو بھیج دی تھیں تاہم ان دونوں مقامات پر بہتر سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے منصوبے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
حملے کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ ساز وحید نے بتایا کہ اس کے بعد مردان میں قائم عبدالولی خان یونیورسٹی کو حملے کے لیے چنا گیا اور اس کے لیے 4 افراد پر مشتمل ایک گروپ کو تیار کیا گیا۔
اس کا کہنا تھا کہ وہ ان افراد میں شامل ہیں، جنھوں نے ان 4 حملہ آوروں کی عمر نارے کے ساتھ ویڈیو بنائی اور اسی وجہ سے ویڈیو میں عبدالولی خان یونیورسٹی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ملزم کا کہنا تھا کہ اسے خلیفہ عمر منصور نے حملے کے لیے ہتھیار اور بارود کی خریداری کی غرض سے 10 لاکھ روپے بھی دیئے تھے۔
عبدالولی خان یونیورسٹی پر حملے کے منصوبے کو یہاں موجود بہتر سیکیورٹی انتظامات کے باعث منسوخ کردیا گیا اور ماسٹر مائنڈ کو چار سدہ میں نئے ٹارگٹ سے آگاہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ملزم نے کہا کہ اس کے ساتھ دو حملہ آور آئے تھے جبکہ دیگر دو حملہ آور ایک اور سہولت کار ریاض کے ساتھ پہلے سے ہی چار سدہ میں موجود تھے۔ملزم نے حملہ آوروں کی شناخت مختلف قبائل سے بتائی، جس میں آفریدی، اورکزئی، سوات اور جنوبی وزیرستان کے حملہ آور شامل تھے۔
خیال رہے کہ وحید نے 2008 میں بیت اللہ محسود سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد سے وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ منسلک ہوگیا تھا۔اس کے بعد وہ کراچی منتقل ہوا جہاں اس نے بھتہ وصول کرنے کا آغاز کیا۔اس سے قبل وحید نے کراچی سے اپنی میٹرک کی تعلیم مکمل کی تھی اور وہ یہاں ماضی میں رہائش پذیر بھی رہا تھا، وحید اردو زبان روانی سے بولتا ہے۔ذرائع کے مطابق وحید 9 ماہ قبل نوشہرہ میں اپنے آبائی گاو¿ں امان کوٹ گیا اور خلیفہ عمر منصور سے رابطہ کیا۔ وہ مذکورہ حملے میں مدد کے لیے کچھ عرصہ افغانستان میں بھی مقیم رہا۔اس کے علاوہ مبینہ سہولت کار نے اس حملے کے لیے اسلحہ بیچنے والوں کے نام بھی بتائے ہیں۔
یاد رہے کہ باچا خان یونیورسٹی حملے کے دیگر 3 مرکزی سہولت کار پہلے سے ہی سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں جبکہ سہولت کاری کے الزام میں دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔


Comments

FB Login Required - comments