پاکستانی افسر شاہی اور پانی کا خوف


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"

کہتے ہیں کہ عیش کوش بابر نے اپنی تزک میں نہایت افسوس کیا تھا کہ اس کی سپاہ کے ہندوستانی فوجی ٹورسٹ نہیں ہیں۔ یعنی مناظر فطرت سے لطف اندوز ہونے سے اس حد تک انکاری ہیں کہ جب کہیں پڑاؤ ڈالا جاتا ہے تو ہندوستانی سپاہی اپنے خیموں کا رخ دریا کی سمت رکھنے کی بجائے اس کے مخالف سمت رکھتے ہیں کہ خدانخواستہ کہیں کوئی اچھا منظر نظر نہ آ جائے۔

بابر کی سپاہ تو ختم ہوئی، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ہندوستانی سپاہی ہماری بیوروکریسی میں بھرتی ہو گئے ہیں اور پانی سے ان کا خوف اسی طرح برقرار ہے جس طرح بابر کے زمانے میں ہوا کرتا تھا۔ دنیا کا کوئی شہر اٹھا لیں جس کے بیچ سے نہر بہتی ہے۔ نہر کے اردگرد ماحول بنا ہوتا ہے۔ بہترین فٹ پاتھ ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے کیفے جو فٹ پاتھ پر میز کرسیاں لگائے ہوتے ہیں۔ شہر کے لوگ فارغ وقت میں وہاں چہل قدمی کرتے ہیں۔ تھک جاتے ہیں تو کسی بھی کیفے پر بیٹھ کر چائے پانی پیتے ہیں، سیر دریا بھی کرتے ہیں اور خلق خدا کا تماشا بھی دیکھتے ہیں۔

\"paris-river-seine-cafe2\"

اور اگر شہر کسی دریا کے کنارے پر واقع ہو تو کیا کہنے۔ پھر تو ان فٹ پاتھی کیفوں کے علاوہ وہاں بیچ دریا میں بجرے بھی تیرتے پھرتے ہیں اور آبی کھیلوں کا بھی لطف لیا جاتا ہے۔ دریائے نیل کے مصری بجرے تو افسانوی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ ملک ملک سے سیاح ان کشتیوں کی سیر کرنے آتے ہیں۔ وہیں ان کو دریا سے پکڑی مچھلی بھون کر کھلائی جاتی ہے۔ موسیقی کی محفلیں سجتی ہیں۔ ایک یادگار شام مقدر بنتی ہے۔ لندن کا ٹیمز اور پیرس کا سین بھی ملکی و غیر ملکی سیاحوں، اور اپنے شہر کے باشندوں کے لیے سکون و خوشی کے بے شمار لمحات لاتے ہیں۔

اور اس لندن پیرس کی دنیا کے پرلے کنارے پر ہمارا لاہور ہے جس میں نہر بھِی ہے اور دریا بھی۔ لیکن ضلعی انتظامیہ میں بھرتی ہونے والے بابر کے سپاہیوں کا ستیاناس ہو، اس شہر و دریا کو شہریوں کی تفریح کا مقام بنانے کی بجائے ان دونوں کا جو مصرف ڈھونڈا ہے، وہ یہ ہے کہ نزدیکی آبادیوں کا سیوریج کا پانی ان میں ڈال دیا جائے۔ بابر کے لاڈلے شہزادے کامران مرزا نے راوی میں سیر دریا دیکھنے کو بارہ دری بنائی تھی، وہ آج وہاں آ جائے تو بارہ دری کے چاروں طرف بہنے والے گندے نالوں کے پانی کی بے پناہ بدبو سے انتقال فرما جائے یا واپس فرغانہ جا کر شیبانی خان ازبک کے ہاتھوں قتل ہونا قبول کر لے۔ ایسے میں بجروں اور واٹر سپورٹس کو تو آپ بھول ہی جائیں۔

\"river-ravi\"

کراچی دنیا کا ایک منفرد شہر ہے۔ بہترین ریتلے ساحلوں والا شہر۔ ایک میگا سٹی۔ اورغالباً دنیا کا واحد سمندری شہر جس کے فائیو سٹار ہوٹل ساحل سمندر کی بجائے اندرون شہر واقع ہیں۔ پچاس ساٹھ سال پہلے ایک بیچ لگژری نامی ہوٹل اسی شہر میں سمندر کے کنارے بنا تھا۔ خداوندان شہر کو یہ گستاخی پسند نہیں آئی۔ اس کے پہلو سے گزار کا شہر کا ایک بڑا گندا نالہ سمندر میں ڈالا گیا ہے اور سمندر کا یہ تین طرف سے خشکی سے گھرا ٹکڑا اب ایک بدبودار جوہڑ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

دنیا میں دریاؤں سے دل بہلانے کے علاوہ بھی ایک کام لیا جاتا ہے۔ اور وہ ہے ٹرانسپورٹیشن کا۔ پانی سے نقل و حمل اور باربرداری سستا ترین طریقہ ہے۔ سنا ہے کہ جب واپڈا کا قیام عمل میں لایا گیا، تو اس کے چارٹر میں آبی گزرگاہوں کو ترقی دینا بھی شامل تھا۔ کاغذی طور پر تو ابھی بھی شامل ہے، لیکن عملی طور پر یہ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بعد یہ ایک کاغذی کاروائی ہی رہ گئی ہے۔ بنگال میں دریاؤں سے نقل و حمل کا کام لیا جاتا تھا، موجودہ پاکستان میں اس کا رواج ہی نہیں ہے۔

پتہ نہیں یہ آب گزیدہ بابری سپاہ کب پانی کے خوف سے آزاد ہو گی۔ پتہ نہیں ان افسروں کو کس سبب سے پانی سے خوف آتا ہے۔


 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1012 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar