جھنگوی صاحب اسمبلی میں خوش آمدید


\"wisi-baba\"پنجاب اسمبلی کی سیٹ پی پی اٹھتر کا ضمنی الیکشن مسلم لیگ نون ہار گئی ہے۔ مسلم لیگ نون کے امیدوار آزاد انصاری نے یہ الیکشن بارہ ہزار سے زائد ووٹوں سے ہارا ہے۔ جیتنے والے آزاد امیدوار ہیں۔ ان کا نام مولانا مسرور نواز جھنگوی ہے۔ اگر آپ کو ان کے نام سے سمجھ نہیں آئی تو جان لیں۔ مولانا مسرور نواز جھنگوی، سپاہ صحابہ پاکستان کے بانی امیر مولانا حق نواز جھنگوی کے صاحبزادے ہیں۔

پی پی اٹھتر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے نواسی میں شامل صوبائی حلقہ ہے۔ جھنگ شہر کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر شیخ برادری کا مستقل زور ہے۔ صوبائی اسمبلی کی سیٹ مستقل طور پر شیخ فیملی ہی جیتتی ہارتی رہی ہے۔ شیخ اکرم جھنگ کی شہری سیٹ سے منتخب ایم این اے ہیں۔ انہوں نے مولانا احمد لدھیانوی کو دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں شکست دی تھی۔ مولانا لدھیانوی کے ساتھ ان کا اسی سیٹ کے حوالے سے ایک قانونی معرکہ اعلی عدالتوں میں بھی چل رہا ہے۔

\"rashida-yaqoob-sheikh1\"مولانا احمد لدھیانوی نے قومی اسمبلی کی سیٹ پر شیخ اکرم سے شکست کھائی تھی۔ صوبائی سیٹ پر انہیں مسلم لیگ نون کی ہی امیدوار راشدہ یعقوب شیخ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ الیکشن ضابطوں کی خلاف ورزیوں کو لے کر مولانا لدھیانوی نے دونوں سیٹوں پر اپنی شکست کو عدالتوں میں چیلنج کر رکھا ہے۔ راشدہ یعقوب شیخ عدالت سے جب نااہل قرار پائیں تو اس صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر ضمنی الیکشن ہوا۔

صوبائی سیٹ پر الیکشن لڑنے کے لئے جب مولانا لدھیانوی نے کاغزات جمع کروائے تو انہیں راشدہ یعقوب نے چیلنج کر دیا تھا۔ مولانا لدھیانوی بھی ضمنی الیکشن لڑنے کے لئے نااہل قرار پا گئے۔ جتنی دیر میں وہ عدالتوں سے الیکشن لڑنے کی اجازت لے کر آئے ضمنی الیکشن کی تاریخ سر پر آ چکی تھی۔ اس صورتحال میں مولانا لدھیانوی الیکشن سے دستبردار ہو گئے۔ انہوں نے اپنی جماعت کی ساری سپورٹ مولانا مسرور نواز جھنگوی کے پلڑے میں ڈال دی۔ یوں مولانا مسرور نواز جھنگوی کے جیتنے کی راہ ہموار ہو گئی۔

یوں کافی مدت بعد سپاہ صحابہ سے متعلق کوئی شخص یہ سیٹ جیت سکا ہے۔ اس سیٹ پر پرامن الیکشن کروانا ایک سیکیورٹی چیلنج ہی رہتا ہے۔ سپاہ صحابہ کے ایک امیر مولانا ایثار الحق قاسمی یہیں ضمنی الیکشن کے دن مارے گئے تھے۔ تب بھی ان کا مقابلہ شیخ برادری کے ایک طاقتور امیدوار سے ہی تھا۔

\"masroor-nawaz-jhangvi\"

اس الیکشن کا ایک مزاحیہ پہلو بھی ہے۔ مولانا مسرور نواز جھنگوی کا تعلق جھنگ سے ہی ہے۔ وہ مولانا احمد لدھیانوی، جن کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریبی شہر کمالیہ سے ہے، کے جھنگ سے امیدوار بننے پر خوش نہیں تھے۔ جھنگ سے قومی اسمبلی کے ممبر شیخ اکرم اور ان کے گروپ کی اپنی صوبائی ممبر راشدہ شیخ گروپ کے ساتھ شدید لاگت بازی اور مخالفت مستقل چل رہی تھی۔

بلدیاتی الیکشن میں شیخ اکرم گروپ شہر اور ضلع کی چیئرمین شپ پر نطریں جمائے بیٹھا ہے۔ مولانا لدھیانوی اور ان کی جماعت نے اسی صوبائی امیدوار جس کو انہوں نے خود نااہل کروایا، کے گروپ کے ساتھ بلدیاتی اداروں میں اتحاد کر رکھا ہے۔ اس اتحاد کی جانب سے شیخ انصاری جھنگ کی شہری حکومت کی سربراہی کرنے کے لئے الیکشن لڑ رہے تھے۔

جب ضمنی الیکشن کا اعلان ہوا تو راشدہ شیخ کو اپنی صوبائی سیٹ بچانی تھی۔ جو بچتی دکھائی نہیں دیتی تھی اگر ان کی اپنی پارٹی کے ایم این اے ان کی حمایت نہ کرتے۔ ایم این اے شیخ اکرم نے اس حمایت کی یقین دہانی اس شرط پر کرائی کہ راشدہ شیخ مولانا لدھیانوی کے ساتھ مل کر جس آزاد انصاری کو بلدیہ کا سربراہ بنوانا چاہ رہی ہیں۔ انہیں ہی صوبائی اسمبلی کا امیدوار بنائیں اور بلدیہ کی سربراہی کے لئے شیخ اکرم کے بیٹے کی حمایت کریں۔

آزاد انصاری صاحب یوں مسلم لیگ نون کے امیدوار بنے۔ نتائج صاحب بتا رہے ہیں کہ انہیں ہروانے کے لئے ان کی اپنی پارٹی کے بڑے شیخ صاحب کی کتنی محنت شامل ہے۔ مسلم لیگ نون میں جو کھیر نما سیاسی دلیہ پکایا جا رہا تھا۔ ویسا سا کام ہی مولانا مسرور نواز جھنگوی اور ان کی جماعت اور اس کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی کے درمیان جاری تھا۔ مولانا لدھیانوی صرف مولانا ہی نہیں ہیں ایک ایسا جاٹ بھی ہیں جو برادری مقامی سیاست اور گروہ بندیوں کی سمجھ رکھتا ہے۔ انہوں نے الیکشن سے دستبردار ہو کر اپنی ساری حمایت مولانا مسرور نواز جھنگوی کے پلڑے میں ڈال دی۔

\"sheikh_muhammad_akram\"

مولانا مسرور نواز کا تعلق اسی علاقے سے ہے جہاں سے وہ الیکشن لڑ رہے تھے۔ انہی لوگوں کے درمیان رہے ہیں۔ اپنے والد کی نسبت سے ایک ہمدردی بھی رکھتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ سیاست کو ہم جتنا مرضی قومی یا عالمی تناظر میں دیکھیں یہ اپنی ساخت میں ہمیشہ مقامی ہی ہوتی ہے۔

مولانا مسرور نواز جھنگوی جیت گئے۔ ان کی سیاست جیت گئی لیکن ان کی انتہا پسندی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ان کو اپنے حلقے میں مضبوط شیخ فیملی کے امیدواروں سے مستقل سامنا رہے گا۔ شیخ فیملی کے یہ امیدوار صرف اپنے رابطوں اور لوگوں کے کاموں کی وجہ سے ہی شیخ ہیں۔ مولانا مسرور نواز اگر لوگوں کے کام نہیں کر پائیں گے تو ان کے نظریات انہیں سیاست میں بچا نہیں پائیں گے۔

سیاست میں انتہا پسندی اور شدت پسندی مستقل چلنے والا سکہ نہیں ہیں۔ مولانا مسرور نواز جھنگوی کو اسمبلی میں کھلے دل سے خوش آمدید کہنا چاہیے۔ قوم پرست انتہا پسند، مذہبی شدت پسند، حتی کے علیحدگی پسند بھی اگر پارلیمانی سیاست کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو اس کو خوشگوار تبدیلی ہی سمجھیں۔

مسلم لیگ نون کو البتہ یہ جان لینا چاہیے کہ آنے والا الیکشن اس کے لئے ہر گز آسان نہیں ہے۔ مقامی سیاست لوگوں کی توقعات اس کا حشر نشر کر دیں گی اگر وہ بروقت نہ سنبھل سکی تو۔ اگر آپ ووٹر کو بالکل ہی کدو سمجھ کر اس کے ساتھ اتنی چالاکیاں ہوشیاریاں کریں گے تو پھر وہ بھی آپ کو کدو بنا کر دکھائے گا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 315 posts and counting.See all posts by wisi