پاکستان میں شراب نوشی کے معاملات


\"m-hanif\"پاکستان میں گزشتہ دنوں سکاچ وہسکی کی ایک بوتل قومی منظر پر چھائی رہی۔ 30 اکتوبر کو حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینکڑوں کارکن دارالحکومت اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے تھے۔ انہوں نے احتجاجی دھرنا دے کر پورے شہر کو بند کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔ احتجاجی ہجوم کو روکنے پر مامور پولیس نے تحریک انصاف کے ایک لیڈر کی کار سے جانی واکر ڈبل بلیک کی ایک بوتل برآمد کر لی۔

پاکستان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ایک طویل عرصے سے ذرائع ابلاغ میں وہسکی کا ذکر نہیں سنا۔ اگرچہ اخبارات اور دوسرے ذرائع ابلاغ میں شراب کا ذکر خلاف قانون نہیں ہے لیکن ٹیلی ویژن کی خبروں میں شاذ ہی شراب کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ معاملہ مختلف تھا۔ ایک پولیس والا شراب کی بوتل ہاتھ میں لہرا رہا تھا اور اسے التزام سے ذرائع ابلاغ میں جگہ دی جا رہی تھی۔ وہسکی کی ایک بوتل حزب اختلاف کے غیر اخلاقی کردار کا نشان بنا دی گئی۔

متعلقہ سیاست دان کا مؤقف تھا کہ بوتل میں شراب نہیں، بلکہ شہد تھا۔ تاہم اسی شام ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں اس سیاست دان نے شرکا سے ایک زیادہ سنجیدہ سوال پوچھا۔ تم میں سے کون ہے جو شراب نہیں پیتا؟ جواب میں مکمل خاموشی طاری رہی۔

اگر پروگرام میں شریک مہمان شراب پینے کا اقرار کرتے تو قانونی طور پر قابل مواخذہ ٹھہرتے۔ اور اگر انہوں نے انکار کیا ہوتا تو کوئی بھی ان پر اعتبار نہ کرتا۔ پاکستان میں مسلمانوں کے لئے شراب پینا ممنوع ہے اور اس کے بارے میں بات تک کرنا انتہائی نازیبا سمجھا جاتا ہے۔ لوگ پیتے ہیں مگر پینے کا اقرار نہیں کرتے۔ خمار اور انکار کا یہ دو آتشہ اس ملک میں قدیم بھی ہے اور مقبول بھی۔

یہ معاملہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کے اکل و شرب کے بارے میں مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں۔ شراب پر پابندی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1977 میں عائد کی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک دفعہ جلسہ عام میں اقرار کیا تھا کہ ہاں میں شراب پیتا ہوں۔ کم از کم میں غریبوں کا لہو نہیں پیتا۔

\"double-black\"بھٹو کی جماعت نے اس برس (1977) عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن حزب اختلاف دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کر رہی تھی۔ حکومت مخالف مظاہروں سے گھبرا کر بھٹو نے شراب پر پابندی کا اعلان کر دیا۔ غالباً بھٹو صاحب کا خیال تھا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو نجی طور پر شراب نوشی سے کون روک سکے گا۔ دو برس بعد فوجی حکومت نے بھٹو کو پھانسی دے دی۔

اس کے بعد سے صورت حال یہ ہے کہ پاکستان میں امیر لوگ گھروں میں یا مخصوص کلبوں میں شراب سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ غریب لوگوں کو شراب نوشی کے الزام میں قید و بند اور کوڑوں کی سزا تک دی جا چکی ہے۔ شراب پینے یا رکھنے کے الزام میں کسی کو جیل بھیجا جا سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اکثریت شراب نہیں پیتی کیونکہ ملک میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ نہ پینے والوں میں زیادہ تعداد ان کی ہے جو مسلمان ہونے کے علاوہ غریب بھی ہیں۔ کچھ لوگ مذہبی ممانعت کی وجہ سے گریز کرتے ہیں اور کچھ اس لئے کہ ان کے پاس شراب نوشی کے مالی وسائل نہیں ہیں۔ قانونی ممانعت کی وجہ سے شراب نوشی سے گریز کا کوئی تصور نہیں۔

بھٹو صاحب نے شراب پر پابندی عائد کرتے ہوئے غیر مسلم شہریوں کو استثنیٰ دیا تھا۔ قاعدہ یہ قرار پایا کہ غیر مسلم شہریوں کو شراب نوشی کے لائسنس جاری کئے جائیں گے اور ہر غیر مسلم شہری کے لئے ایک کوٹہ مختص کر دیا جائے گا۔ بیرون ملک سے آنے والے غیر مسلم سیاح ہوٹل میں اپنے کمرے کے اندر شراب منگوا سکتے ہیں لیکن انہیں لکھ کر بتانا پڑے گا کہ وہ طبی اسباب کی بنا پر شراب استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

میں صوبہ سندھ میں رہتا ہوں۔ یہاں پر شراب پر پابندی کے بعد سے لائسنس یافتہ دکانوں پر شراب فروخت کی جاتی رہی ہے اور ان دکانوں کو روز مرہ زبان میں وائن شاپ کہا جاتا ہے۔ مفروضہ یہ ہے کہ ان دکانوں پر صرف غیر مسلموں کو شراب فروخت کی جاتی ہے تاہم عام طور پر اس ضمن میں کوئی خاص تردد نہیں کیا جاتا۔ اس چشم پوشی کی ایک قیمت ہے جو ہر وائن شاپ مقامی پولیس کو ادا کرتی ہے۔ اور اگر کوئی جھگڑا وغیرہ ہو جائے تو شراب کی دکان بند کر دی جاتی ہے۔

قانون ظالم بھی ہوتا ہے اور کبھی کبھی پوچ بھی۔ گزشتہ موسم گرما میں پولیس نے وائن بیچنے والی دکانوں کو فریزر استعمال کرنے سے روک دیا تاکہ گاہک ٹھنڈی بیئر نہ خرید سکیں۔ غالباً کسی نے سوچا ہو گا کہ ٹھنڈی بیئر سے ایمان کو خطرہ لاحق ہو سکاتا ہے تاہم عام درجہ حرارت پر رکھی گئی بیئر کی خرید و فروخت میں کوئی مضائقہ نہیں۔

اکتوبر کے آخری دنوں میں ہائی کورٹ کے ایک جج نے ایک آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے شراب کی تمام دکانوں کو بند کرنے کا حکم دے دیا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ شراب صرف اسلام میں نہیں بلکہ مسیحیت اور ہندو مت میں بھی ممنوع ہے۔ عام لفظوں میں اس پابندی کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ درآمد شدہ غیر ملکی شراب خریدنے کی مالی استطاعت رکھتے ہیں۔ وہ بلا روک ٹوک شراب فروشی کا غیرقانونی دھندا کرنے والوں سے مائع طرب انگیز حاصل کر سکتے ہیں۔ باقی شائقین کو مقامی طور پر کشید کی گئی کچی شراب پینا پڑے گی جس کے استعمال سے آئے روز اندھے پن اور اموات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ دو برس قبل، سندھ میں عید کی چھٹیوں کے باعث شراب کی دکانیں بند تھیں۔ اس دوران غیر معیاری خانہ ساز شراب پینے سے 25 لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ بچ جانے والے خوش نصیبوں کا بیان ہے کہ اگر کچی شراب پینے والا اندھے پن اور موت سے بچ نکلے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس کا ذائقہ بھی ایسا برا نہیں ہے۔

پاکستان میں ارکان پارلیمنٹ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کار، صنعت کار، سرکاری افسر، پیشہ ورانہ شعبوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان افراد حتیٰ کہ بعض مذہبی رہنما بھی بلا خوف و خطر شراب پی سکتے ہیں۔ البتہ اگر ایک ٹیکسی ڈرائیور بیئر نوشی کی حالت میں پکڑا جائے تو جیل کی ہوا کھاتا ہے۔ یا پھر امکان ہوتا ہے کہ وہ دیسی ساخت کی گھٹیا شراب پی کر اپنی آنکھیں گنوا بیٹھے گا۔

جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں یہ بنیادی طور پر امن عامہ کا مسئلہ ہے۔ امیر لوگ اپنے گھروں پر شراب پیتے ہیں، موج مستی کرتے ہیں اور اگر انہیں قے کرنا ہو، تو وہ اپنے گھر کا لان خراب کرتے ہیں۔ دوسری طرف غریب لوگ گھروں کے باہر شراب پی کر غل غپاڑا کرنے  کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ مہنگی سکاچ خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں، انہیں یہ حق بھی حاصل ہے کہ دوسروں کو مذہبی احکامات کی روشنی میں شراب نوشی سے منع کرتے رہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ غریبوں کا خون پینے والوں کو اس لہو آشام مشروب میں سستی شراب کی آمیزش پسند نہیں۔

اس میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں اگر کسی سے شراب کے بھبھکے بھی اٹھ رہے ہوں تو وہ پوری کوشش کرتا ہے کہ اس کی شراب نوشی کی خبر عام نہیں ہونی چاہیے۔ ایک دفعہ مجھے ایک چوہتر سالہ بزرگ کے ساتھ شام کا کھانا کھانے کا اتفاق ہوا۔ بڑے میاں نے سافٹ ڈرنک کی بوتل میں مائع ممنوع کی خاصی مقدار ڈال رکھی تھی تاہم انہیں مسلسل یہ فکر لاحق تھی کہ کھانے کی میز پر کوئی بچہ غلطی سے ان کا مشروب نہ اٹھا لے۔

میں نے اپنے گھر کے پاس ایک وائن شاپ کے مالک سے اس موضوع پر بات چیت کی کوشش کی لیکن اس نے میری حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ مجھے یاد دلایا کہ پاکستان میں بہت سے دوسرے مسائل موجود ہیں۔ مجھے ان مسائل پر لکھنا چاہیے۔ میں نے پوچھا کہ کم از کم آپ یہ تو بتا سکتے ہیں نا کہ آپ کی دکان پر فروخت ہونے والی بمبے سیفائر اچھی ہے یا بری؟ اس نے سیدھے دیکھتے ہوئے بے نیازی سے کہا، مجھے کیا معلوم، میں تو شراب نہیں پیتا۔ میں نے تو کبھی چکھی تک نہیں۔

(بشکریہ: دی نیویارک ٹائمز)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

4 thoughts on “پاکستان میں شراب نوشی کے معاملات

  • 05/12/2016 at 2:59 am
    Permalink

    پاکستانی ۔بحثیت مجموعی ایک ۔ ۔منافق قوم ۔ ھے۔؛ اسی لئے یہاں پر شاپنگ مالز۔ اور بڑی دوکانوں پر عموماً لکھا ہوتا ھے ۔ ؛”کیمرے کی آنکھ آپکو دیکھ رہی ھے ” گویا ﷲ تعالی’ کا کیمرہ Out of order ہو چکا ھے ۔ !!!! اس پر ہم ۔ ۔ اسلام اسلام کا ہمہ وقت ڈھنڈھورا پیٹ پیٹ کر نعوذ باللہ ۔ ۔ رب کریم سے مذاق ہی تو کر رہے ھیں ۔ ۔

  • 07/12/2016 at 2:05 pm
    Permalink

    بہترین تحریر
    اس تحریر کی خوبی یہ ہے کہ نہ پینے والے پر لعن طعن ہے نہ ہی نہ پینے والے پر تنقید
    ہاں انسانی بنیادوں پر امیر و غریب کا فرق بخوبی اجاگر کیا گیا ہے جو بحیثیت مجموعی درست ہے ۔ حکومت و قانون کے عدم مساوات کی عمدہ مثال

  • 08/12/2016 at 11:31 am
    Permalink

    سندھ کے سابق وزیر اعلی جام صادق نے بھی بطور دوا شراب نوشی کا اعتراف کیا تھا۔

  • 12/12/2016 at 11:18 am
    Permalink

    If government is sincere to ban alcoholism, then it has to strong policy with its well execution, no imported and home extracted will be allowed. Government should have to be sincere in this regard.

Comments are closed.