نسیم حجازی ایک طعنہ کیوں بن گئے ہیں؟


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"ہمارے کئی صالح مجاہد والے دانشور بھائی اس بات پر خوب حیران ہوتے ہیں کہ ان کی مخلصانہ اور ملت و قوم کے درد میں ڈوبی ہوئی تحریر پڑھ کر شریر اور گمراہ قسم کے لبرل لوگ ان پر نسیم حجازی کی پھبتی کیوں کستے ہیں۔ ان میں سے چند صالحین تو قسمیں کھا کھا کر یقین دلانے پر اتر آتے ہیں کہ انہوں نے نسیم حجازی کا کوئی ناول نہیں پڑھا ہے، یا اگر پڑھا تھا تو مڈل سکول کے زمانے میں پڑھا تھا، اس کے باوجود ان کو نسیم حجازی سے متاثرہ قرار دینا ان کی سمجھ سے قطعاً بالاتر ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ ان پر یہ راز افشا کر دیا جائے کہ یہ نسیم حجازی کی پھبتی کیوں کسی جاتی ہے اور کس پر کسی جاتی ہے۔

کیونکہ صالح مجاہدین دانشور بھائیوں کے بیان کے مطابق انہوں نے نسیم حجازی کو نہیں پڑھا ہے، تو بہتر ہے کہ پہلے نسیم حجازی کا تعارف کرا دیا جائے۔

\"naseem-hijazi\"نسیم حجازی سنہ 1914 میں گورداس پور میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شریف حسین تھا۔ روایت ہے کہ سکول کے زمانے میں ایک مرتبہ ان کے استاد نے جب ان کو بتایا کہ ارائیں قبیلہ سرزمینِ حجاز سے ہندوستان آیا تھا، تو وہ اپنی برگزیدگی سے اتنا متاثر ہوئے کہ خود کو حجازی لکھنے لگے۔ انہوں نے 1996 میں راولپنڈی کے عسکری شہر میں وفات پائی۔

نسیم حجازی نے کچھ طنزیہ کتابیں بھِی لکھیں جن میں سے ’سفید جزیرہ‘ ہماری پسندیدہ ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ لیکن ان کی اصل وجہ شہرت ان کے عسکری تاریخی ناول ہیں۔ یہ کتابیں پڑھے ہوئے کچھ مدت بیت گئی ہے لیکن یاد پڑتا ہے کہ ان کے ناول ’محمد بن قاسم‘، ’آخری معرکہ‘، ’قیصر و کسرٰی‘ اور ’قافلہ حجاز‘ اس دور کے متعلق ہیں جب اسلامی سلطنت فتوحات حاصل کر رہی تھی۔ جبکہ ’یوسف بن تاشفین‘، ’کلیسا اور آگ‘، ’اندھیری رات کے مسافر‘ اور ’شاہین‘، اندلس میں مسلمانوں کے زوال کے دور کے بارے میں ہیں۔ ’آخری چٹان‘ میں چنگیز خان کے ہاتھوں خوارزم شاہی سلطنت کی شکست کا ماجرا رقم ہے۔ ’معظم علی‘ اور ’اور تلوار ٹوٹ گئی‘ برصغیر میں انگریزوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی شکست کے بارے میں ہیں۔

ان ناولوں میں عام طور پر ہیرو ایک نہایت صالح، بہادر، فنون جنگ کا ماہر، حکمرانوں یا سپہ سالاروں کی آنکھ کا تارا نوجوان ہوتا ہے جس کی بہادری اور کردار کو دیکھتے ہی ہر ملنے والی، بلکہ قریب سے گزرنے والی حسین ترین لڑکی بھی (جو کہ عام طور پر لشکر کفار میں سے ہوتی ہے) اس کے ہاتھ پر اسلام قبول کر کے اس کے نکاح میں آنے کو بے قرار ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ناول میں کئی حسینائیں ہوتی ہیں تو ہیرو اچھی بھلی مشکل میں پڑ جاتا ہے۔ ناول کی فضا ایسی سحر انگیز ہوتی ہے کہ پڑھنے والا جوش سے بھر جاتا ہے اور اس کا بس نہیں چلتا کہ کسی قریبی کافر سے لڑ مرے۔

\"naseem-hijazi-novels\"

آپ نے شاید وہ لطیفہ سن رکھا ہو کہ جب انگریز پنجاب میں آئے تو سرداروں کو فٹ بال سکھانے پر کمربستہ ہوئے۔ گیارہ سرداروں کو فٹ بال کے میدان میں لے جایا گیا۔ انگریز ماہر نے انہیں بتایا ’دیکھو، یہ کھِیل ایک گیند کی مدد سے کھیلا جاتا ہے۔ تم نے گیند کو اپنے قریب دیکھتے ہی مخالف ٹیم کے گول کی طرف منہ کر کے پوری قوت سے کک دے مارنی ہے۔ اب کچھ دیر میں گیند آتی ہے تو کھیل شروع کرتے ہیں‘۔ فٹ بال آنے میں کچھ تاخیر ہوئی تو ایک سردار صاحب نے فرمایا ’موتیاں والو، ٹائم ضائع کرنے کا فائدہ نہیں ہے۔ فٹ بال نہیں ہے تو کیا ہوا، مخالف ٹیم کے کھلاڑی تو موجود ہیں۔ ککیں مارنا شروع کرتے ہیں‘۔

جب نسیم حجازی کی ذہنیت کا طعنہ دیا جاتا ہے، تو یہی کہا جاتا ہے کہ آپ ہر مسئلے کا حل طاقت کے استعمال کو سمجھتے ہیں۔ یہ دیکھے بغیر کہ حالات کیا ہیں، اسباب کیا ہیں، کیا جنگ لڑے بغیر اپنا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ فٹ بال ہو یا نہ ہو، آپ انتظار کیے بغیر گیم شروع کرنے کو بے قرار ہوئے جاتے ہیں۔ ایک مدبر فرما گیا ہے کہ جنگ اتنا نازک معاملہ ہے کہ اسے جرنیلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا ہے۔ لیکن آپ ہر معاملے کا پہلا حل جنگ ہی کو قرار دیتے ہیں۔

پشتو کی ایک کہاوت ہے کہ دشمن کی مرغی مارنے کے لئے اگر اس پر اپنی دیوار گرانی پڑے تو گرا دو۔ یعنی دشمن کو معمولی سی زک پہنچانے میں خود بڑا نقصان بھی اٹھانا پڑے تو سوچو مت اور زک پہنچا دو۔

\"AFGHANISTANہم یہی دیکھتے ہیں کہ نسیم حجازی کے مجاہدین نعرہ بلند کرتے ہیں کہ افغانستان میں سوویت یونین اور امریکہ کو شکست فاش ہوئی ہے اور وہ تباہ و برباد ہو گئے ہیں۔ جبکہ ہمیں زمین پر یہ نظر آتا ہے کہ روسی اور امریکی اپنے گھر میں سکون سے بیٹھے ترقی کر رہے ہیں اور افغانستان کا کھنڈر بن چکا ہے اور افغانی دربدر ہوئے پھرتے ہیں۔ یہی حال شام، لیبیا اور عراق کا بھی ہوا ہے۔ ’ فتح انگلش کی ہوتی ہے، قدم جرمن کے بڑھتے ہیں‘۔

جو لوگ حکمت و دانش سے کام لینے کو بزدلی، اسلام سے دشمنی اور پاکستان سے غداری قرار دیتے ہوئے بس ہر مسئلے کا حل جنگ اور ایٹم بم کے استعمال کو قرار دیتے ہیں، ان کو نسیم حجازی سے متاثر ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔

\"new_york_ny_november_20_g\"برما میں بنگالی النسل روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے؟ پاکستان وہاں ایٹم بم مار دے تاکہ ہر مسلم روہنگیا کے بدلے سو برمی بدھ مریں اور ایک منتفس بھی زندہ نہ بچے۔ مگر سوال یہ ہے کہ برما ہمارا پڑوسی نہیں ہے، اسے ایٹم بم مارنے کے لئے ہمارے مجاہدین کو بھارت، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ یا چین سے اپنا ایٹم بم میزائیل گزرنے کی اجازت درکار ہو گی مگر وہ نہیں ملے گی کیونکہ ان ممالک کے حکمرانوں نے نسیم حجازی کے ناول نہیں پڑھے ہیں۔

چلیں چھوڑیں اس بھارت، چین اور تھائی لینڈ کو۔ یہ تو کفار ہیں۔ بنگلہ دیش بھی انہیں کے حکم میں ہے کیونکہ وہ سیکولر ملک ہے۔ ایسا کرتے ہیں اسرائیل پر ایٹم بم مار کر وہاں کے تمام یہودیوں کو مار دیتے ہیں۔ ساتھ تمام فلسطینی بھِی مریں گے مگر خیر ہے، کیونکہ اس طرح صیہونیوں کا پیدا کردہ اسرائیلی ناسور تو ختم ہو جائے گا۔ مگر سوال یہی ہے کہ اسرائیل تک ایٹمی میزائیل کیسے پہنچے گا؟ کیا سعودی عرب، قطر، یمن، عراق، اردن، مصر، شام وغیرہ وغیرہ ہمارے ایٹم بم سے مسلح میزائیل کو اپنی فضاؤں سے گزرنے دیں گے؟ مسئلہ بظاہر پیچیدہ ہے مگر حل آسان ہے۔ نسیم حجازی کے ناولوں کا عربی ترجمہ کر کے مشرق وسطی میں مفت تقسیم کیا جائے تو اجازت مل سکتی ہے۔

\"saudi-arabia-map\"یا پھر ممکن ہے کہ اسرائیل اور برما ہمارے ایٹم بموں سے نہ ڈریں۔ ان پر کوئی دوسرا دباؤ ڈالنا ہو گا۔

کیا وجہ ہے کہ جاپان نے فوج کشی سے توبہ کی مگر آج پہلے سے بہت بڑی طاقت مانا جاتا ہے؟ امریکہ کیوں دنیا میں اپنی فوجیں اتارنے کی پالیسی ترک کر چکا ہے اور اب عقب سے قیادت کرنے کا پرچارک ہو گیا ہے؟ چین ارد گرد کے ہمسایوں پر فوجیں کیوں نہیں چڑھاتا ہے؟

حضرت آپ کو خبر ہووے کہ جنگ اب معیشت کی ہووے ہے۔ آپ کی معیشت میں دم ہے تو آپ سائنس اور ٹیکنالوجی پر پیسہ لگا سکتے ہیں اور رنگ رنگ کے ہتھیار بنا کر کم فوج کے ذریعے بھی زیادہ طاقت پا سکتے ہیں۔ معیشت بیکار ہے تو صدام حسین کی دس لاکھ نفوس پر مشتمل مانگے کی فرسودہ ٹیکنالوجی والی فوج بھی مختصر سی جدید فوج سے شکست کھا سکتی ہے۔

نریندر مودی کی آؤ بھگت امریکہ سے روس تک ہندوستانی معیشت کی وجہ سے ہی ہو رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات سے سعودی عرب تک کے حکمران نریندر مودی کی داڑھی پر نہیں بلکہ اس کی جیب پر قربان ہوئے جا رہے ہیں۔

\"modi-receives-civilian-award-in-saudi\"

سائنس اور ٹیکنالوجی ہر سوال پر سے قدغن اٹھا کر منطقی انداز میں سوچنا سکھانے سے آتی ہے۔ معیشت امن سے آتی ہے، پیسہ جنگ سے دور بھاگتا ہے۔ طاقت پانی ہے تو پیسہ بنانے کی کوشش کرو، خواہ یہ پیسہ دوست سے تجارت کرنے سے بنے یا دشمن سے۔ غریب کو تو سگا رشتے دار بھی نہیں پوچھتا ہے، امیر کے تو غیر بھی سگے رشتے دار بن جاتے ہیں۔

اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے علم اور معیشت کی طاقت پانا لازم ہے۔ پہلے وہ حاصل کریں، پھر ہی دنیا آپ کی بات سنے گی۔ ورنہ پھر فسانہ آزاد کے میاں خوجی کی طرح آپ کی بہادری صرف آپ کی اپنی کہی گئی داستانوں میں ہی ہو گی۔


نسیم حجازی ایک طعنہ نہیں بلکہ ایک تمغہ ہیں

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 566 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

6 thoughts on “نسیم حجازی ایک طعنہ کیوں بن گئے ہیں؟

  • 03-12-2016 at 7:50 pm
    Permalink

    سیکولرز حضرات کا یہ مشن ہے کہ ہر مذہبی شخص کی مخالف کی جائے چاہے اس کے کام سے مردہ قوم نے اُٹھان پائی ہو۔ آج نسیم حجازی کے متعلق جناب کا مضمون پڑھ کر یہی رائے بنی۔ جس روس کو افغان مجائدین نے شکست سے سو چار کیا روس کے پیند رہ ٹکڑے ہو گئے۔ آدھا یورپ آزاد ہوا۔ دیوار برلن پاش پاش ہوئی۔ اس شکست سے چھ اسلامی ریاستی آزادہوئیں۔ اُس شکست میں مشرقی پاکستان ٹوڑنے میں بھارت کی روس نے مدد کی تھی اس کا بھی بدلہ آئی ایس آئی نے چکایا۔ یہ سب کچھ مذہب بیزر سیکولرز حضرات کو ںظر نہیں آتا۔ نہ جانے کیسے پٹھان ہیں کہ اگر پٹھان طالبان ہو تو اچھا نہیں اگر پٹھان قوم پرست اور سیکولر ہو تو سر آنکھوں پر۔ ۔ ۔ کسی بھی قوم سے ہو مسلمان ہو تو سب ہمارے بھائی ہیں۔ طبقات کی اشراکی سوچ کے دلدادا کو مسلمان سوچ والوں نے شکست سے دو چار کر کے پاکستان میں اسلامی دستور منظور کروایا تھا۔ یہ سیکولر قائم اعظمؒ سے ٹھگی کر کے سیکولر ثابت کرنے کی مہم میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ ملک قائدؒ کی رہنمائی میں اسلام کے نام سے بنا تھا۔ اسلام پر ہی قائم رہے گا ۔ سیکولرز کیمنسٹوں کی بقیات پاکستان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گی۔ انشاللہ۔
    میر افسر امان
    کالمسٹ
    کراچی

  • 03-12-2016 at 8:26 pm
    Permalink

    نسیم حجازی کی تحریریں پڑھنے کا اقرار کرتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ’ ان کی تحریرمیں ادیبی چاشنی اور محبت کے ساتھ اپنی تہذیب ( مسلم تہذیب) سے جڑنے کی روایت موجود ہے‘ ان کے ناولوں کو پڑھنے اور اس سے متاثرہ افراد کی تعداد یقینا کم نہ ہوگی ،ان کی تحریروں میں اسلام کا فلسفہ جہاداورسچے مسلم اور مجاہد کے کردار کو باربار پیش کیا گیا، اور بتایا گیا کہ ایک مسلمان کی حقیقی ذمہ داریاں کیا ہیں، کن حالات میں کس طرح کے عناصر سازشی ٹولے کا روپ دھار لیتےہیں اور ان کا طریقہ واردات کیا ہوتا ہےاب اگر کوئی اپنے اس روپ سے نقاب اٹھتا محسوس کرے اور دوسرے پر پھبتی کسے تو اسے میری طرف سے ’مسکراہٹ‘۔
    اب پتا نہیں وہ کون لوگ ہیں جو خود سے، اپنی تہذیبی روایت سے فرار کو ہی درست خیال کرتے ہیں، جو اپنی شناخت کو مسخ کرنے کو ہی کارنامہ حیات خیال کرتے ہیں،اگر کوئی اس بات سے انکاری ہو تو ہو،میں اقرار ی ہوں ۔
    جن لوگوں کو خود کو سمجھ دار اور عقل مند سمجھنے کا ہیضہ لاحق ہو ،انہیں بس ’سرخ سلام ‘ یا پھر’ 50 ستاروں کا آشیواد‘ ہی درکار ہوگا ،کیونکہ وہ ان ہی کے نقشے میں رنگ بھرنے کی کھاتے ہیں۔( عدنان صاحب اگر آپ نہیں کھاتے تو میرا کمنٹ وال پر موجود رہےگا )۔ یہ تو ابتدائیہ تھا ، اب تھوڑا ہمارا طنز مگر مبنی برحقیقت منظر نامہ بھی ہوجائے؟
    دراصل آپ کی سوچ کے لوگوں کے نزدیک نسیم حجازی کی تحریروں نے ہی دنیا بھر میں قتل و غارت گری یا آپسی لڑائیوں کو یا بلاوجہ کے جنگ و جدل کو فروغ دیا ہے،ورنہ اس سے قبل تو ’دنیا ‘امن و آشتی کا جزیرہ خاص تھی ۔اس دنیا میں برطانوی راج میں بنگالی انسانوں کو بھوک مری تک پہنچانے میں بھی نسیم حجازی صاحب کا ہاتھ تلاش کیا جاسکتا ہے، اور ہیروشیما ناگا ساکی پر ایٹمی بمباری کی خالص تربیت بھی نسیم حجازی کی ناولوں سے ہی حاصل کی گئی ، اب جو گزشتہ 5 برس میں روسی اور امریکی طیاروں کی بمباری سے شام میں مرنے والے لگ بھگ 5لاکھ سے زائد انسانوں کو خاک و خون میں اسی طرز تحریر نے نہلایا ہوگا ۔
    آپ یقین کرلیں کہ اگر نسیم حجازی کے ناول نہ شائع کئے جاتے تو دنیا دو بڑی ایٹمی جنگوں سے بچ جاتی ،کیونکہ ان جنگوں کے پیچھے بھی جن کا ہاتھ کار فرما ہے وہ یقینا ً عالم بالا میں نسیم حجازی کےتحریر سے متاثر رہے ہوں گے،آپ مان لیں کہ ہٹلر بھی نسیم حجازی کی تحریروں سے متاثر تھا ورنہ وہ ملک میں بسنے والے یہودیوں کے قتل میں اس درجہ ملوث نہ ہوتا ، اور بعد ازاں نسیم حجازی کے تحریری ہیروں کی طرح عظیم شان موت سے ہمکنار نہ ہوتا۔
    آپ اس بات پر اندھا ایمان لے آئیں کہ نائن الیون(جس کے مجرمین کا تاحالحتمی تعین نہیں ہوسکا مگر ایک پورا ملک جس میںمنشیات کی کاشت تقریبا ً ختم ہوچکی تھی کو تہہ و بالا اور دوسرے ملک کی معیشت تباہ کردی گئی )اس کی بڑی وجہ بھی یقینا نسیم حجازی کی تحریروں سے متاثر ہ افراد ہی رہے ہوں گے۔
    ایک اور ملک جس کےبارے میں قصے گڑھے گئے اور کہا گیا کہ خطرناک ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جن سے امن عالم کو خطرات لاحق ہیں مگر وہاں سے کچھ برآمد نہ ہوا مگر وہاں کی اینٹ سے اینٹ بھی بجادی گئی ، جہاں اب ایک عراقی دوسرے عراقی کا گلا کاٹ رہا ہے، اس میں بھی یقینا نسیم حجازی کی تحریروں کے محبان کا نام تلاش کرنا ہرگز مشکل نہ ہوگا ۔
    یہ بات تو عدنان کاکڑ صاحب بھی مان جائیں گے کہ ’ داعش ‘کو جہازوں سے ’فری کا اسلحہ‘ بھی نسیم حجازی کی تحریروں سے متاثریں نے فراہم کیا ہوگا بلکہ امریکا کی معیشت میں جو اسلحہ فروخت کا رول ہے، اس کے کرتا دھرتا بھی نسیم حجازی کی فکر کے متاثریں ہیںکیونکہ ان تمام کاموں کو کوئی انسانیت کا غم خوار اور عقل مند انسان کرہی نہیں سکتا ہا ں پر نسیم حجازی کی تحریروں سے متاثرہ افراد ضرور کرسکتے ہیں۔
    آپ یقین کرلیں کہ نسیم حجازی کی تحریروں سے متاثرہ افراد ہی تھے جنہوں نے پاکستان کے خلاف افغانستان میں بیٹھ کر سازشیں رچی تھیں، جو بس روسی ٹینکوں پر بیٹھ کر پشاور کو روند دینا چاہتے تھے، ’حرف ناتمام‘ بھی شاید نسیم حجازی کے متاثر ہ لکھاری کا کارنامہ ہے، آپ سمجھ لیں کہ نسیم حجازی کی فکری متاثریں ہی تھے جنہوں نے پاکستان میں دفن ہونا تک پسند نہ کیا مگر ان کے نام کا ائر پورٹ اور یونیورسٹی پاکستان میں موجود ہے۔
    نسیم حجازی اور ان کی فکر سے متاثر افرادنہ ہوتے تو یقینا برما میں مسلمان مر رہے ہوتے اور نہ ہی بنگلا دیش میں حکومت مخالفین کو پھانسیاں چڑھارہی ہوتی اور نہ ہی پاکستان بنتا اور نہ ہی ملک میں اسلامی آئین تشکیل پاتا ۔
    دراصل کیا کریں بھٹو صاحب بھی نسیم حجازی کی فکر سے متاثر تھے اور وہ بھارت اور اسرائیل سے برملا نفرت کا اظہار کیا کرتے تھے ،اور قوم کو گھاس کھا کر ایٹم بم بنانے کا اعلان بھی یقینا نسیم حجازی کی تحریر سے متاثر ہوکر کیا جبکہ اسلامی سربراہی کانفرنس بھی اس ہی فکر کے زیر سایہ بلائی تھی ۔
    نسیم حجازی کی فکر نہ ہوتی اور ان کی تحریریں دریا برد کردی جاچکی ہوتی تو اسرائیل وجود میں آتا ،کیونکہ اسرائیل کی تشکیل یقینا بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق جائز انداز میں ہوئی ہے ۔بس اب جو بھی وواویلا مچا ہے وہ نسیم حجازی کے ناول پڑھنے والوں کا ۔
    نسیم حجازی ہی کی فکر تو ہےجس کے متاثرین نے ملک کی دولت لوٹی اور بیرون ملک منتقل کردی ، ملک کا بچہ بچہ اسی فکر کے لوگوں کے کرتوتوں کی وجہ سے بال بال قرض میں جکڑا ہوا ہے ورنہ ہم تو اسپیس سائنس میں کب کے امریکا اور روس کو پیچھے چھوڑ چکے ہوتے، اور ہاں نسیم حجازی کی تحریروں سے جذبہ پانے والے لوگوں نے ہی امریکا کی ایک کال پر گھٹنے ٹیک دیئے، اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا اور بدلے میں اتنے پیسے لیں جس کے بارے میں اکثر ملک کے اخبارات میں ’ اونٹ کے منہ زیرہ ‘ والے کارٹون شائع ہوتے تھے۔
    نسیم حجازی صاحب نہ ہوتے تو یہ بات ثابت شدہ حقیقت تھی کہ ملک پاکستان دنیا بھر میں ہندوستان سے زیادہ ترقی کرتا ،کیونکہ ہندوستا ن میں ہر جگہ امن اور چین ہے،وہاں کہیں بھی کوئی گڑبڑ نہیں، کشمیر یوں کو قتل بھی نہیں کیا جاتا ان پر کئی سو دن کا کرفیوں بھی نافذ نہیں کیا جاتا بلکہ انسانی حقوق کا دراصل التزام ہی ہندوستان میں ہوتا ہے۔

  • Pingback: نسیم حجازی ایک طعنہ نہیں بلکہ ایک تمغہ ہیں - ہم سب

  • 04-12-2016 at 2:38 pm
    Permalink

    ابوانصارى كا مضمون پڑ ھ كے عدنان كاكڑ صاحب كو كچھ افا قہ ہو گیا ھوگا ،عد نان کا کڑ صا حب اگر کچھ مطا لعہ کر تے تو اچھا مضمون لکھ سکتے ،گلی کے ما سی کی طر ح ا پنو ں کو طعنے دے کر ادمی دانشو ر نہیں بن سکتا ، سار ی دنیا کی د ہشت گرد ی کا ملبہ حجا زی پر ڈا ل کر ا پنی نا اہلیت کا ثبو ت دیا ھے

  • 05-12-2016 at 4:49 pm
    Permalink

    میرا کالم نگار کے ساتھ متفق ہونا تو ضروری نہیں لیکن یہ ہیرو کا جو character بیان کیا ہے…اچھا تجزیہ کیا ہے۔نسیم حجازی صاحب کا ہیرو اکثر ایسا ہی ہوتا ہے جسکی کئی girl friend ہوں اور یہ ہر دفہ یکطرفہ محبّت نہیں ہوتی…

  • Pingback: اشتیاق احمد، ابن صفی اور نسیم حجازی - ہم سب

Comments are closed.