تنخواہ دار ملازمین کے لیے ٹیکس میں ردوبدل کا امکان


fbrایف بی آر نے ٹیکس اصلاحات کمیشن کی تجاویز کونئے بجٹ میں شامل کرنے کے لیے 8 فروری کواجلاس طلب کرلیا۔
ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق 8 فروری کو ٹیکس اصلاحات کمیشن کے اجلاس میںاس کی بجٹ تجاویز میں سے رواں مالی سال نافذ کردہ تجاویز اوررہ جانے والی تجاویز کوآئندہ بجٹ میں شامل کرنے کا جائزہ لیا جائے گا جس کے تحت تنخواہ دار ملازمین کے لیے ٹیکسوں کی سلیبز (کٹیگریز) پر نظرثانی کیے جانے کا بھی امکان ہے، رواں مالی سال کے بجٹ میں بینکنگ ٹرانزیکشن پر عائد کردہ ود ہولڈنگ ٹیکس اور کیپٹل گین ٹیکس سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سمیت ایسے سیکٹر جن کے لیے ٹیکس گوشوارے جمع کرانا لازمی نہیں سے متعلق مسائل کو بھی حل کیا جائیگا، اس کے لیے ٹیکس قوانین میں ترامیم کی جائیں گی۔
علاوہ ازیں بجٹ میں صوبوں کی مشاورت سے غیرمنقولہ جائیداد کے لیے کم ازکم ویلیوایشن سسٹم متعارف کرائے جانے کا بھی امکان ہے جس کے تحت مختلف کٹیگریز کی غیرمنقولہ جائیداد کے لیے کم ازکم ویلیو مقرر کی جائیگی اور ان کٹیگریز کے حساب سے ٹیکس وصول کیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق ٹیکس اصلاحات کمیشن نے آپریشن ضرب عضب کے لیے درکار فنڈز کے لیے سالانہ 5کروڑ روپے سے زائد آمدن والے امیر ترین افراد اور اداروں پر 3 سال کے لیے 10سے 15فیصد اضافی سرچارج عائدکرنے کی تجویز دی ہے جسے بجٹ میں شامل کرنے کے لیے بھی اس اجلاس میں غور ہوگا۔
دستاویز کے مطابق کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ایف بی آر سے کہاکہ آپریشن ضرب عضب کے فنڈز کے لیے زیادہ آمدن والے اداروں اور انفرادی ٹیکس دہندگان پر ٹیکس ایئر 2018 تک سرچارج عائد کیا جائے، ان کی 3کٹیگریز بنائی جائیں، 5کروڑ تک آمدن والوں کی پہلی کٹیگری پر سرچارج عائد نہ کیا جائے، دوسری کٹیگری میں5کروڑ1تا ساڑھے 7کروڑ سالانہ آمدن پر 10 فیصد جبکہ اس سے زائد پر25 لاکھ روپے فکس ٹیکس کے علاوہ ساڑھے 7 کروڑ سے زائد رقم پر 15 فیصد اضافی سرچارج وصول کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں سپرٹیکس کی وصولیوں کا جائزہ لے کراس کو وسیع دینے یا نہ دینے کا فیصلہ بھی کیا جائے گا۔


Comments

FB Login Required - comments