گاؤں سے واپسی اور مشن امپاسبل


\"rauf-klasra-image-630x315df\"ویک اینڈ پر لیہ شہر سے بارہ کلو میٹر دور واقع اپنے گاؤں سے سات گھنٹے کی لمبی اور تھکا دینے والی ڈرائیو کے بعد میں نے اسلام آباد واقع گھر جا کر سونے کی بجائے راولپنڈی کے سینما ہاوس میں جا کر ٹام کروز کی نئی ایکشن فلم مشن امپاسبل- 4 دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ آخر ٹام کروز کی فلم پھر بھی تو دیکھی جا سکتی تھی۔ کیا قیامت آ پڑی تھی کہ اس کا اب رات گئے دیکھنا ضروی تھا۔ جب آپ یہ کالم ختم کرٰیں گے، تو آپ کو اس کے سوال کا جواب مل جائے گا۔

پہلے آپ کو بتاؤں کہ میں گاؤں کیوں گیا تھا۔ گاؤں جانا بہت کم ہو گیا ہے۔ مجھے بھی شہر کی ہوا لگ گئی ہے۔ میں نے اس دن اپنا منہ چھپا لیا تھا جس دن محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ وہ فوجیوں کو مان جائیں گے کہ اگر ایک دن کوئی فوجی جنرل ایک ماہ اس گاؤں میں گزار سکے جہاں وہ پیدا ہوا تھا جو اب یہ دعوے کرتے ہیں کہ وہ ملک کے مسائل حل کر کے دیں گے۔ جرنیلوں کو تو چھوڑیں میں اس لیے چھپ گیا کیونکہ اچکزئی تو ایک ماہ کی بات کر رہے تھے جب کہ اب میرے جیسے عام سویلین کے لیے وہاں ایک رات گزارنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے اب گاؤں جانا ایک خواب سا بن کر رہ گیا جہاں آپ کھیل کود کر بڑے ہوئے ہیں۔ اب تو کوئی بہانہ ڈھونڈا پڑتا ہے۔ اور کوشش ہوتی ہے کہ بہانہ کسی کی موت کا نہ ہو۔ یہ وہ خوف ہے جو میرے ساتھ ہر وقت سوار رہتا ہے۔ اور یہ خوف مجھے ایک دفعہ پھر اپنی بستی لے گیا۔

ظہور کی اچانک موت کی خبر نے مجھے سن کر دیا۔ جو بچی بیوہ ہوئی وہ ہمارے گھر کے قریبی گھر میں کھیلتی کودتی بڑی ہوئی تھی اور میری اپنی سگی کزن کی بیٹی\"02\"   ہے۔ ظہور کی موت سے زیادہ مجھے شاک یہ سن کر لگا کہ چار معصوم بچے یتیم ہو گئے تھے۔ جوان بیوہ، جس کے آگے ایک پہاڑ جیسی زندگی پڑی تھی اور اس کے چار بچوں کا ابھی سوچ رہا تھا کہ یاد آیا کہ ابھی تو ظہور کی ماں بھی تو زندہ تھی۔ ایک بوڑھی ماں !

برسوں قبل باپ کی موت ہوئی تو چھوٹے بڑے بہن بھائیوں کا بوجھ ظہور پر آن پڑا۔ بچپن سے ہی وہ سنجیدہ اور ذمہ دار طبیعت کا مالک تھا۔ بڑوں میں بات بڑھ گئی تو بھی ظہور اور اگر بچوں میں لڑائی ہوگئی تو بھی وہ آگے بڑھ کا ڈانٹ ڈپٹ کر کے انہیں بھگا دیتا۔ مشکل دن آن پڑے تو حوصلہ سے کام لیا۔ دھیرے دھیرے گھر کے بگڑتے حالات کو سنبھالنا شروع کیا۔ زمین میں دلچسپی دکھائی۔ کچھ جانوروں کا کاروبار شروع کیا۔ ایک دن مجھے فون آیا کہ ماموں ( ظہور میری ماں کا فرسٹ کزن تھا) میرے ساتھ فراڈ ہو گیا ہے۔ میری بھینسں لے کر لوگ فرار ہو گئے ہیں۔ سنا ہے تمہاری کچھ جان پہچان ہے۔ میں نے کہا ماموں بھینس تو گئی، اگر آپ کہتے ہو، تو آپ کو بھینس کے برابر پیسے بھیج دوں کیونکہ مجھے پتہ ہے آپ کے حالات اجازت نہیں دیتے کہ آپ اتنا نقصان اٹھا سکیں۔ یکدم سنیجدہ ہو کر ظہور بولا، ماموں، یہ تو تم نے کام نہ کرنے والی بات کی۔ مجھے پیسے نہیں، اپنی بھینس چاہیے۔

اسی بارے میں: ۔  کس برانڈ کا نوجوان تیار کر رہے ہو؟

ظہور بستی کے کالج میں پڑھتے ہوئے میرے جیسوں کے لیے ایک بہت بڑا سہارا تھا کہ شہر کے کچھ غنڈوں کے ساتھ ان کی بھی دوستی تھی۔ خود جتنے شریف مزاج کے مالک تھے، اتنے ہی بڑے غنڈے ان کے دوست تھے۔ ایک دن لیہ کالج میں میری ہوسٹل فیلوز سے لڑائی ہوگئی ۔ وہ دوسرے کالج کے لڑکے مجھے مارنے کے لیے لے آئے۔ ماموں ظہور کو پتہ چلا تو اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا اور میں کٹ کھانے سے بچ گیا۔ مجال ہے ظہور نے گھر جا کر اماں کو بتایا ہو کہ آپ کا بیٹا کیا گل کھلا رہا تھا۔

ظہور گھر کے مسائل حل کرنے کے لیے جت گیا۔ بہن بھائیوں کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری لے لی۔ دن رات ڈٹ کر محنت کی اور دھیرے دھیرے دو ویگن نما ڈالے لے لیے۔ بچوں کو بھی پرایؤیٹ سکول میں ڈال دیا۔ ظہور کا گھر ایک دفعہ پھر خوش حالی کی راہ پر چل نکلا تھا۔ تاہم پھر بھی چند ایسے گھریلو معاملات ایسے تھے جو اس سے نہیں سنبھالے جا رہے تھے۔ اب خاندان کے بچے بڑے ہو رہے تھے۔ وہ اپنے مسائل سنبھال کر فارغ ہونے والے ہی تھے کہ بہن بھائیوں کے بچوں کے مسائل نے سر اٹھانا شروع کر دیے۔\"04\"

ایک دن پتہ چلا کہ ایک نئی نسل کا بچہ لاہور کالج میں پڑھنے والی بچی کے ساتھ نکاح کرکے بھاگ آیا تھا۔

یہ سب کچھ سوچتا میں گاؤں رات گئے پہنچا اور جا کر اپنے تنہا گھر میں اکیلا سو گیا جہاں کبھی ہم چھ بھائی بہن سوتے تھے وہاں اب میں اکیلا اس کمرے میں لیٹا، یادوں کو گلے سے لگائے، ایک اور دنیا میں کھو گیا جو میں کب کی کھو چکا تھا۔

میرے لیے سب سے مشکل کام ظہور کی جوان بیوہ، اس کے چار معصوم بچوں اور سب سے بڑھ کر اس کی بوڑھی ماں کا سامنا کرنا تھا۔ میں خوش نصیب نکلا کہ جب تک میں ایک ہفتے بعد گاؤں پہنچا تو جوان بیوہ اور ماں کے آنسو پہلے ہی خشک ہو چکے تھے لہذا مجھے اس امتحان سے نہیں گزرنا پڑا جس کا مجھے خوف تھا۔ بوڑھی ماں نے مجھے گلے لگایا ۔ خاموش آنسو ماں کی مردہ آنکھوں سے ٹپکتے رہے۔ میرا خیال تھا کہ شاید وہ آنسو میرا دامن بھگو دیں گے لیکن مجھے حیرانی ہوئی جب وہ دامن خشک رہا اور ماں کی آنکھ سے کوئی آنسو نہ ٹپکا۔

دریا خشک ہو چکا تھا۔

ہمارے سامنے پل کر جوان بچی بھی چپ کر کے قریب آکر بیٹھ گئی۔ میں نے نظروں کو نیچے کر کے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ایک چھوٹا سا بچہ میرے پاس آیا تو بتایا گیا کہ وہ سب سے چھوٹا تھا۔ سب سے بڑی بیٹی چھ برس کی تھی۔ اسے گود میں بٹھایا تو ماں کے منہ سے صرف اتنا نکلا کہ یہ بچے تو اتنے چھوٹے ہیں کہ جب قل کے لیے چاول پک رہے تھے تو یہ سب خوش تھے کہ بابا کے چاول پک رہے ہیں اور وہ سب کھائیں گے۔\"syrian-mother\"

کمرے میں ایک مردہ خاموشی چھا گئی۔

ابھی ظہور کا دکھ پوری طرح باہر نہیں آیا تھا کہ گھر والوں کو ایک فکر لاحق ہو چکی تھی۔ میری موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بتانے لگے کہ ایک لڑکا اپنی کلاس فیلو کو ساتھ لے آیا تھا اور دونوں نے شادی کر لی تھی۔ لڑکی کے گھر والے ڈھونٖدتے ہوئے وہاں پہنچ گئے تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ ہماری لڑکی واپس کر دو۔ لڑکی رو رو کر کہہ رہی تھی کہ مجھے ان کے حوالے نہ کرنا ورنہ مجھے وہ قتل کر دیں گے۔

اسی بارے میں: ۔  طالبان، میڈیا اور ہیری پوٹر کے ڈیمینٹور

اس لڑکے کی ماں کہہ رہی تھی کہ میرے بیٹے نے بہت برا کیا کہ وہ کسی کی بیٹی کو یوں گھر لے آیا۔ اس نے بہت برا کیا۔ لیکن اب کیا کروں ۔ کدھر جاوں۔ ظہور زندہ تھا تو لڑکی کے گھر والوں سے بات چیت کر رہا تھا اور معاملات کچھ سلجھ رہے تھے۔ اب یکدم ظہور بھی مر گیا تھا۔

میں خاموش ایک مجرم کی طرح چپ چاپ سنتا رہا۔

جس رات ظہور کو دل کی تکلیف ہوئی تو اسے دوائی کی بجائے ننید کا ٹیکہ لگا دیا گیا کہ درد سے نجات ملے۔ درد سے نجات کیا ملتی، زندگی سے ہی نجات مل گئی۔ اسی \"03\"رات ہی ظہور کی ایک بہن کا فون آیا کہ اس کے اکلوتے بیٹے کا اپنٖڈکس پیٹ میں پھٹ گیا تھا لہذا وہ اپنی ویگن ڈالا بھیجے تاکہ اسے لیہ ہسپتال بھیج کر اس کی جان بچائی جا سکے۔ ویگن بھیجی تو اسے واپسی پر چار ڈاکووں نے چھین لیا۔

یوں اس رات ظہور بھی گیا اور ساتھ میں گھر کی روزی کمانے والا ویگن ڈالا بھی۔

میرے سامنے بیٹھی جوان بیوہ، بوڑھی ماں، چار یتیم بچوں اور دیگر کو ظہور کے غم کے علاوہ اب ویگن کے جانے کا بھی اتنا دکھ تھا جتنا ظہور کا۔ دونوں کے دم سے ان کی دنیا چل رہی تھی۔ اوپر سے خاندان کے ایک لڑکے کا لڑکی کو گھر سے بھگا کر شادی کر لینا اور اس کے گھر والوں کو ان کی دھمکیاں۔

اس اجڑے خاندان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کس کا ماتم کریں۔ ظہور کی جوان اور اچانک موت کا، جوان بیوہ اور اس کے چار چھوٹے یتیم ہونے والے بچوں کا جن کے مستقبل کا کسی کو کوئی علم نہیں تھا ، بوڑھی ماں کا جس کے بیٹے کے بعد اپنے آنسو بھی اس کے ساتھ دغا کر گئے تھے ، یا پھر اپنی روزی کا واحد سہارا ویگن کے چھن جانے کا، یا پھر اس لڑکی کے گھر والوں کا انتظار کریں جو ایک دفعہ پھر ان کے دروازے پر آنے والے تھے کہ وہ ان کی لڑکی واپس کردیں، ورنہ لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو جائیں، یا پھر اس لڑکی کی چیخ و پکار کا کہ اسے گھر والوں کے حوالے نہ کرنا ورنہ وہ اسے قتل کر دیں گے۔۔۔

میں نے اپنی زندگی میں سات گھنٹے اتنے مشکل نہیں گزارے ہوں گے جو لیہ سے اسلام آباد کے سفر میں گزرے۔ میں نے گاڑی کا رخ اسلام آباد کی بجائے پنڈی سیمنا کی طرف کیا اور اس وقت رات گئے بیٹھا ٹام کروز کی ایکشن سے بھرپور نئی فلم دیکھ رہا ہوں کہ قدرت اور انسانوں کی مشترکہ کاوش سے اس مظلوم خاندان پر ہونے والے ایکشن کا توڑ ٹام کروز کی یہ فلم ہی ہو سکتی ہے، جیسے زہرکا علاج زہر سے ہو سکتا ہے ایسے ہی ایک ایکشن کا توڑ دوسرے ایکشن سے کیا جاتا ہے، چاہے ایک ایکشن سفاکی کی حد تک فطری اور دوسرا محض سکرین پر ایک انسانی ذہن کی تخلیق ہو !


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔