اشتیاق احمد کی تکفیریت نے انہیں غیر مقبول کر دیا


\"ishtiaq-ahmed\"

سنہ اسی کی دہائی کے اوائل میں پنجاب یونیورسٹی کے یونی لیب سکول میں کتابوں کی تجارت عام تھی۔ بچے گھر سے ناول لے کر آتے، اور چھٹی کے وقت اسے دوسرے بچے کو دے کر اس سے کوئی دوسرا ناول لے کر گھر واپس چلے جاتے۔ اس زمانے میں ہی ہماری سپیڈ ریڈنگ کی مشق ہوئی۔ اکثر آدھے گھنٹے کی آدھی چھٹی میں سو صفحات سے زیادہ کا ناول ختم کر کے دوستوں کو واپس کیا جاتا تھا تاکہ چھٹی کے وقت وہ اسے گھر لے جا سکیں۔ یہ ناول اشتیاق احمد کے ہوا کرتے تھے جو اپنی بے انتہا مقبولیت کے سبب ہمارے سکول میں ایک وبا کی صورت اختیار کر چکے تھے۔

پنجاب یونیورسٹی سے مڈل کی سند پائی تو پھر ساتھ ہی اشتیاق احمد کا ساتھ بھی چھوٹا۔ اب عمران سیریز نے اس کی جگہ لے لی تھی۔ مظہر کلیم ہمیں کبھی پسند نہیں رہے گو کہ ان کی کتابیں پڑھنے سے کبھی انکار بھی نہیں کیا۔ ابن صفی ہماری پسند تھے اور ان کا تقریباً پورا سیٹ ہم نے اپنے کتب خانے میں جمع کر لیا تھا۔

اب ہمارے اپنے بچے انگلش میڈیم سکول میں پڑھتے ہیں اور انگلش ناولوں کو اردو پر ترجیح دیتے ہیں۔ ان کو اردو کتابوں کی عادت ڈالنے کے لیے اشتیاق احمد کی کتابیں نئی پرانی کتابوں کی دکانوں پر تلاش کیں مگر ناپید تھیں۔ ہمیں وجہ سمجھ نہیں آئی۔ مگر پھر چند ماہ پہلے اشتیاق احمد کے انتقال کی خبر ملی تو ان کے بعد کے دور کی زندگی کا پتہ چلا اور ان کی غیر مقبولیت کا راز ان کی ایک تحریر سے ہی کھلا کہ وہ شدت پسند سلفیت کی راہ پر چل کر غیر مسلموں کے علاوہ بریلویوں، صوفیت، اہل تشیع وغیرہ کے خلاف بھی شدت آمیز انداز میں لکھنے لگے تھے اور یوں مقبولیت کھو بیٹھے۔

یہ تحریر ہم آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں، جو کہ ’ژاب کے جلاد‘ نامی کتاب کے پیش لفظ ’دو باتیں‘ میں یکم مارچ 1991 کو لکھی گئی تھیں۔ یہ بعینہ اشتیاق احمد مرحوم کے الفاظ ہیں جو یہاں کسی قسم کی ایڈیٹنگ کے بغیر نقل کیے گئے ہیں۔

دو باتیں از اشتیاق احمد

\"xaab-kay-jalad-ishtiaq-ahmad\"

ایک زمانہ تھا جب میں صرف ناول لکھا کرتا تھا، وہ ناول ہر طبقہ بہت ذوق اور شوق سے پڑھتا تھا، پھر ایک وقت آیا، میں نے صرف ناول لکھنے بند کر دیے اور کچھ طبقے مجھ سے ناراض ہو گئے۔

آپ شاید میری بات نہیں سمجھ سکے، خیر میں وضاحت کیے دیتا ہوں۔ یوں بھی دو باتیں میں اور کام ہی کیا کرتا ہوں۔ ایک بات لکھنا اور پھر اس کی وضاحت کرنا، حالانکہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ میں ایک بات لکھ دوں، آپ پڑھ کر اس کی وضاحت کریں، یا وضاحت طلب کریں اور پھر اگلے ناول کی دو باتیں میں وضاحت کروں۔ لیکن اس طرح معاملہ ذرا لمبا اور بات قدرے باسی ہو جاتی ہے۔ اس لیے میں ایک ہی ناول کی دو باتیں میں ہر بات نبٹا دیتا ہوں۔ نبٹا پر اگر آپ کو کوئی اعتراض ہے تو نپٹا پڑھ لیجیے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور مجھے کوئی اعتراض بھی نہیں ہو گا۔

آپ کیا کم اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ اب میں بھی اعتراضات کی بھرمار شروع کر دوں۔ لیجیے میں دور نکل گیا۔ بات کیا ہو رہی تھی اور کیا ہو گئی۔ یعنی کیا سے کیا ہو گیا ہوں تیرے انتظار میں۔ لیکن نہیں، شاید اس مصرعے کا موقع بھی تو نہیں تھا یہاں۔ ہاں تو میں بھلا کیا کہہ رہا تھا۔ کہ کہہ رہا تھا، لکھ رہا تھا، یاد آیا، لکھ رہا تھا کہ جب میں نے صرف ناول لکھنا بند کر دیے تو کچھ طبقے ناراض ہو گئے اور اس بات کی وضاحت یہ ہے کہ پہلے ناول صرف ناول ہوتے تھے، بعد میں میرے ناولوں میں اسلامی رنگ شامل ہونے لگا اور ہوتے ہوتے بات بہت آگے بڑھ گئی۔

اسلامی رنگ کیا آیا، مرزائیت کے خلاف، شرک اور بدعت کے خلاف، دہریت کے خلاف، شیعت کے خلاف، اسلام دشمن عناصر کے خلا، عیسائیت کے خلاف قلم چلنے لگا تو ناولوں کی اشاعت میں فرق آ گیا، تعداد فروخت کم ہونے لگی۔

ایک مرزائی نے ربوے میں مجھے بتایا کہ پہلے ہمارے شہر کی لائبریریوں پر آپ کے ناول باقاعدہ آتے تھے۔ جب سے آپ نے ہمارے خلاف لکھنا شروع کیا، ہمارے ذمے دار لوگوں کی طرف سے یہ ہدایت کر دی گئی کہ اشتیاق احمد کا اب کوئی ناول لائیبریریوں میں نہ رکھا جائے۔

ظاہر ہے، ایسی صورت حال پورے ملک میں ہوئی ہو گی۔ نتیجے میں ناولوں کی تعداد اشاعت کم نہ ہوتی تو کیا بڑھتی۔ مجھے کچھ دوستوں نے مشورہ دیا کہ میں یہ روش چھوڑ دوں اور صرف ناول لکھوں، لیکن میں نے اس مشورے کو رد کر دیا۔ کیوں کہ میرے ذہن میں تو یہ بات رچ بس گئی تھی کہ اس سے پہلے کی زندگی میں ضائع کر چکا ہوں۔

\"wadi-e-marjaan-by-ishtiaq-ahmed\"

میری اصل زندگی تو اس دن سے شروع ہوئی تھی جب میں نے وادی مرجان لکھا تھا اور مرزائی حضرات مجھ سے ملاقات کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ واضح رہے کہ ان سے ملاقات کے موقعے پر میں نے ان کے مربی سے یہ سوال پوچھا تھا کہ سلطان ٹیپو کون تھے؟ مربی نے جواب دیا تھا کہ میں نہیں جانتا کون تھا۔

اس نے یہ جواب کیوں دیا تھا۔ اس لیے کہ سلطان ٹیپو تمام زندگی انگریزوں سے لڑتا رہا اور شہید ہو گیا، مرزائیوں کا مرزا قادیانی تمام زندگی انگریزوں کی تعریف کرتے نہ تھکا۔ ثبوت کے طور پر اس کی کتاب ستارۂ قیصریہ ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ اور اس کا یہ بیان تو بہت مشہور ہے کہ میں نے انگریز کی تعریف میں اتنی کتابیں لکھیں کہ ان سے پچاس الماریاں بھر گئیں (یا بھر جائیں)۔

لیجیے، بات ایک بار پھر غلط سمت میں مڑ گئی۔ ان باتوں میں بس یہی بات بری ہے کہ بات بے بات ادھر سے ادھر نکل جاتی ہیں۔ آپ تو ان سے واقف ہی ہیں۔ ہاں تو میں نے دوستوں کا مشورہ رد کر دیا اور اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔ یہاں تک کے ناولوں کے آخر میں مسئلہ ختم نبوت شائع ہونے لگا۔ پھر انجمن دعوتِ فکر و عمل کے اسباق شائع ہونے لگے۔

ناولوں کے پلاٹوں میں بھی اسلام دشمن عناصر کے بارے میں زیادہ مواد آنے لگ گیا۔ تعداد اشاعت کم ہوتے ہوتے کافی حد تک کم ہو گئی، لیکن پھر ایک جگہ رک گئی۔ اس کا گرنا بند نہ ہوتا اور یہ نہ رکتی۔ تب بھی میرا یہی فیصلہ تھا کہ اس کام سے باز نہیں آؤں گا، کیونکہ دین کی تبلیغ کا ایک طریقہ یہ بھی ہے۔

دین کے ایک عالم سے ایک بار ملاقات ہوئی۔ کسی نے تعارف کے طور پر یہ کہہ دیا کہ یہ ناول نگار ہیں اور ناولوں میں مرزائیت کے خلاف لکھتے ہیں۔ انہوں نے دعا دی اور پھر یہ ہدایت بھی دی کہ شرک اور بدعت کی طرف بھی توجہ دوں کیونکہ یہ طوفان اسلام کے لیے بہت زیادہ خطرناک ہے۔ ان کی بات بالکل درست تھی۔ بعد میں میں ان سے بیعت بھی ہوا۔

مطلب یہ کہ ایسے کئی عالموں کا دست شفقت میرے سر پر گامزن ہو گیا۔ ان کی صحبت سے بہت سی مفید باتیں حاصل کرتا رہتا ہوں۔ اور یہ سلسلہ بدستور جاری و ساری ہے۔

بے شمار خطوط اس قسم کے موصول ہوتے رہتے ہیں، آپ کے فلاں ناول نے تو ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔ ہم تو اب تک گمراہی کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے۔ اور یوں لفظ ناول جو پہلے گالی سے زیادہ بدنام تھا، اب برا نہیں رہا۔ کم از کم میرے قارئین اور ان کے گھر والوں کی حد تک تو ضرور ایسا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ بڑے بڑے آفیسرز جن میں سول اور فوجی دونوں طرح کے آفیسرز شامل ہیں، کے بچے یہ ناول پوری اجازت سے پڑھتے ہیں۔ بلکہ اکثر بچوں کا کہنا ہے کہ ہمارے والد اگر ناول نہیں بھی پڑھتے تو آپ کی دو باتیں تو ضرور پڑھتے ہیں۔ اکثر کا کہنا ہے کہ ہمارے والدین ناول بھی پڑھتے ہیں۔

اس سے ظاہر ہے، میرا اس لائن پر آنا حد درجے مفید رہا۔ میری دنیا کے لیے نہیں، میرے قارئین کی دنیا کے لیے بھی اور آخرت کے لیے بھی۔ اور میری صرف آخری کے لیے مفید رہا۔ لیکن میں یہ خیال کر کے خود کو مطمئن کر لیا کرتا ہوں کہ ایسی منافع بخش تجارت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بھی کیا کرتے تھے۔

جیسا کہ ایک بار قحط کے زمانے میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب غلہ فروخت کرنا چاہا تو ان کے پاس غلے کے بیوپاری آنے لگے اور بڑھ چڑھ کر دام لگانے لگے، لیکن وہ ہر ایک سے یہی کہتے رہے کہ میں اس سے بھی زیادہ نرخ پر فروخت کروں گا۔ جب ہر ایک سے انہوں نے یہی کہا تو بیوپاریوں نے تنگ آ کر پوچھا آخر آپ کتنے منافع پر غلہ فروخت کرنا چاہتے ہیں؟ فرمایا دس گنا منافع پر۔ یہ سن کر بیوپاری خاموش ہو گئے کیونکہ اتنے ریٹ پر وہ نہیں خرید سکتے تھے۔ لیکن وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بات کو سمجھ نہیں سکے تھے۔ وہ تو اس وقت سمجھے جب انہوں نے تمام غلہ غریبوں میں مفت تقسیم کر دیا۔ گویا انہوں نے آخرت کی تجارت کی تھی۔

سو میں نے خیال کر لیا ہے کہ آخرت کی تجارت اس دنیا کی تجارت سے دس گنا بہتر ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں، ہیں جی؟

اشتیاق احمد
یکم مارچ 1991


نسیم حجازی ایک طعنہ نہیں بلکہ ایک تمغہ ہیں

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 665 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar