سہولت کار


amja

آج کل اخباروں اور ٹی وی میڈیا پر ایک لفظ اکثر سننے کو آ رہا ہے ‘سہولت کار’۔ جب سے ملک میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن شروع ہوا ہے تو یہ لفظ سہولت کار بھی ساتھ ہی متعارف کر ادیا گیا ہے۔ ویسے کہتے ہیں کبھی کبھی وقت اور حالات بدلنے سے الفاظ کے معنی بھی تبدیل ہو جاتے ہیں اور اگر معنی تبدیل نہ ہوں تو کم ازکم الفاظ کے تاثر تو بد ل ہی جاتے ہیں۔ آج کل اس لفظ کی اصطلاح بھی حالات و واقعات کے مطابق ہی استعمال ہو رہی ہے۔ صورت حال ایسی گمبھیر ہو چکی ہے کہ کسی کے ساتھ بھلائی کرنے یا کسی نیک کام کا سہولت کار بنتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی ایجنسی ہی سہولت کاری کے چکر میں نہ پکڑ کے لے جائے۔ حالانکہ مثبت معنوں میں کسی کا سہولت کار ہونا یا کسی کی مدد کرنا کوئی بری بات نہیں۔

ملکی تاریخ میں اگر کوئی تین چار دہائیاں پیچھے جایا جائے تو یہی سہو لت کار کی ڈیوٹی ہم نے خوشی خوشی اپنے گلے ڈالی تھی جب روس کو مزا چکھانے کی خوش فہمی پر امریکہ بہادر کے جہادی پیکج کو بخوشی تسلیم کر لیا گیا تھا۔ ویسے تو ہمارا خطہ صدیوں سے ہمارے ذہنوں کی طرح ہمیشہ سے سہولت فراہم کرنے میں بڑا معاون ثابت ہواہے کیوں کہ یہاں جو بھی آیا ہم پکے آم کی طرح اس کی جھولی میں خود ہی آ گرے۔ یہاں عربوں سے لیکر مغلوں تک نے ان سہولت کاروں کی مدد سے ہی ہم پر سینکڑوں سال حکومت کی تو کبھی ہسپانیوں سے لیکر انگریزوں تک کو یہ سہولت کار میسر رہے۔ یہاں میر جعفر سے لیکر باچا خان یونی ورسٹی تک لے جانے والا ہمارا ہی ہم وطن رکشہ ڈرائیور، بیوی اور سالی سمیت سہولت کار ہی سہولت کار ملے گا۔

ویسے تو یہاں ہماری حکومتوں نے بھی وہی کام کیا جو آج ایک سہولت کار نے افغانی دہشت گردوں کو ہماری ہی قوم کے ہونہار طالب علموں کے خون کا سودا کر کے کیا ۔ پس اس حمام میں سب ننگے ہیں اورکسی نہ کسی طرح ہم سب کے ہاتھ ہمارے ہی بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ابھی تک ہم بہرحال یہ بات بھی تسلیم کرنے کے لیے ہی تیار نہیں کہ ہم سب اپنی ہی نسلوں کے قاتل ہیں یا پھر کہیں نہ کہیں قاتلوں کے سہولت کار ہیں۔ یہاں دہشت گردو ں کو جہادی کہنے والے ہماری حکومت کے ناک کے نیچے دندناتے پھر رہے ہیں اور قاتل دھاڑ دھاڑ کے ہمارے وطن کے بچوں کے قتل کی ذمہ داریاں تسلیم کر رہے اور ہم کہہ رہے ہیں یہ انڈیا کا ہاتھ ہے یا یہود و ہنود کی سازش ہے۔

ہاں یہ سازش ہے لیکن کسی اور کی نہیں بلکہ ہماری اپنی ہی اپنے خلاف ۔ مجھے ایک دفعہ انٹرنیٹ پر ایک تصویر دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک شخص ایک گہرے گڑھے میں بیٹھادکھایا گیا ہے اور اس کے ساتھ ایک سیڑھی بھی دکھائی گئی ہے جو یہ ظاہر کرتی ہی اس کی مدد سے اس گہرے گڑھے سے نکلا جا سکتا ہے اور وہ اسی کے ڈنڈے جلا رہا ہے جس پر پاؤں رکھ کر وہ اس گڑھے سے باہر نکل سکتا تھا،آج ہمارا حال بھی کچھ ویسا ہی ہے۔ پس ہم یہ بات کیونکر نہیں مانتے کہ دہشت گرد ہم میں سے ہی ہو سکتے ہیں اور یہ مسلمانوں کا وہ گمراہ کن ٹولہ ہے جس نے اسلام کی تصویر کو پوری دنیا میں بہت متاثر کیا ہے اور جو انسانوں کو قتل کرکے یہ خیال کرتے ہیں کہ ثواب کمارہے ہیں حالانکہ وہ اس تعلیم کے بھی منکر ہیں جس میں ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے بتا یا گیا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی ایسا واقعہ رونما ہوجائے تو یہ ہی سہولت کار قسم کے پولیٹیکل ایکسپرٹس ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر کچھ ایسی مافوق العقل قسم کی گفتگو فرماتے ہیں جس سے صاف تاثر ملتا ہے کہ یہ لوگ کسی سوچی سمجھی سکیم کے تحت قوم کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹا کر دوسری طرف لگا رہے ہیں کبھی یہ امریکہ کی جنگ کا ری ایکشن بتاتے ہیں تو کبھی بے روزگاری اور معاشرتی نا انصافی کو جواز بنا کر پیش کرتے ہیں، وہ قوم کی توجہ انڈیا اور اسرائیل کی طرف لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ دہشت گرد معصوم لوگ ہیں اور کسی کے بہکاوے میں آکر ایسی مذموم اور انسانیت سوز کاروائیاں کر رہے ہیں ورنہ ان کا کوئی قصور نہیں اور دوسری بات یہ کسی بیرونی سازش کا شکار ہوئے ہیں۔

قوم یہ سوال کرتی ہے کہ یہ نام نہاد مبصرین ذرا ان ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں کے دلوں سے پوچھیں جو اپنوں کے غم میں نڈھال ہو رہی ہوتیں ہیں۔ تبصرے کرنے آسان ہیں لیکن آگ جب اپنے گھر کو لگے تو پتہ تب چلتا ہے۔ اصل میں یہ مرد مومن کی بقایاجات ہیں جو آج ہمارے گلی کوچوں میں بے سکون روحوں کی طرح بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ یہ دراصل دہشت گردوں کی بی ٹیم ہیں جو اپنے مذموم خیالات کی وجہ سے ہمارے مظلوم اور معصوم عوام کو ان دہشت گردو ں کے خلاف سوچنے سے روکتے ہیں اور آپریشن ضرب عضب کو عوامی سطح پر کمزور کرنے کی کوشش میں ہیں۔ آزادی رائے صحافت کا حق ہے اور سچ کی آواز اٹھانا صحافت کے فرائض میں شامل ہے۔ پھر بھی ایسے عناصر جو اپنے خیالات سے انتہاپسند اور دہشت گردی کے سہولت کار ہیں ان کو قلم ہی سے مات دی جاسکتی ہے اور ویسے بھی یہ اب ایک طرح کا گھسا پٹا جملہ ہی رہ گیا ہے کہ ہر واقعے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ یہ صرف اپنی غلطیوں کو دوسروں پر ڈالنے سے زیادہ کچھ نہیں ،اس کڑوے سچ کو اب ہمیں مجمو عی طور پر تسلیم کر ہی لینا چاہیے کہ ہمیں نقصان پہنچانے والے کہیں اور نہیں بلکہ ہمارے درمیان ہی کہیں ہیں۔ ان کی نشاندہی ہمیں خود ہی کرنی ہوگی۔

آج اگر ہم نے اس سہولت کار کو نہ پکڑا اور اس کے ضمیر کو نہ جھنجھوڑا تو کل جو کچھ بچا ہے اس سے بھی ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔ کیونکہ ضروری نہیں ہے کہ ہر ﷲ اکبر کہنے والا اسلام کا خیر خواہ ہی ہو اور وطن عزیز میں پناہ لینے والا ہر شخص وطن دوست ہی ہو۔ نہ جانے کوئی کیوں اور کب کس کا سہولت کار ہو۔ ہمیں سب کو بحثیت محب وطن پاکستانی ہوتے ہوئے اپنی آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے وطن کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا اگر یہ دہشت گردوں کے سہولت کار ایسے ملک اور انسانیت دشمن کو سہولت فراہم نہ کریں تو ۔ اگر دیکھا جائے تو یہ سہولت کار دہشت گردوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ یہی اصل دہشت گردی ہیں بلکہ یہ قوم کے اور ملک کے غدار ہیں۔

بہت دنوں سے ہے یہ مشغلہ سیاست کا
کہ جب جوان ہوں بچے تو قتل ہو جائیں
بہت دنوں سے یہ ہے خبط حکمرانوں کا
کہ دور دور کے ملکوں میں قحط بو جائیں


Comments

FB Login Required - comments