منظر عباس کو بھڑکانا بند کرو


\"maimoona-saeed\"منظر عباس سے میری پہلی اور شاید آخری ملاقات 30 نومبر کو ہوئی جب میں اسلام آباد میں تھی۔ دوپہر کا وقت تھا اور جس ہوٹل میں رہائش  رکھے تھی وہاں سے مجھے صحافیوں کی منعقدہ ایک تقریب میں پنہچنا تھا۔ ہوٹل استقبالیہ سے گاڑی کے لئے کہا تو چند ہی لمحوں بعد ایک پیلے اور کالے رنگ کی مہران کار ہوٹل کے گیٹ پر تھی۔ میرے بیٹھتے ہی گاڑی روانہ ہوئی، میں نے کرایہ کا پوچھا تو کہا جو مناسب ہو دے دیں۔ میں نے جواب دیا، میں یہاں کے راستے زیادہ نہیں جانتی۔ آپ بتا دیں تو بہتر ہو گا۔ اس نے ساڑھے تین سو روپے مانگے۔ میں نے دے دئیے اور گاڑی سے اترتے ہوئے اسے کہا، اپنی دعاوں میں مجھے بھی یاد رکھا کریں، میں ابھی ایوارڈ لینے جا رہی ہوں۔ اسی بات پر منظر نے دوران سفر جو خاموشی برقرار رکھی تھی توڑی اور ذرا پرجوش انداز میں کہا، میں تو کیا میرے بچے بھی آپ کے لئے دعا کریں گے۔ ساتھ میں میری رہنمائی کرتے ہوئے پوچھا۔ آپ نے واپس کب جانا ہے یہاں سے؟ اس ہوٹل کے باہر گاڑی آسانی سے نہیں ملتی، میرا نمبر رکھ لیں، منظر عباس نام ہے میرا۔ ضرورت ہوئی تو فون کر کے آپ مجھے بلا لینا۔ میں نے منظر کا موبائل نمبر لے لیا۔

شام کو فارغ ہوتے ہی منظر کو کال کی۔ وہ 15 منٹ میں پھر پہنچ گیا۔ مجھے دور سے دیکھ کر ہاتھ ہلایا  اور گاڑی کی جانب اشارہ کیا۔ میں گاڑی میں بیٹھی تو فورا پوچھا ، ایوارڈ مل گیا؟ میں نے کہا، جی مل گیا۔  منظر ہنسا اور کہا، سچ بتاؤں، تو میں آپ کے لئے دعا کرنا بھول گیا۔ اس کی یہ سچائی سن کر میں بھی مسکرا دی، لیکن میں ان خواتین کی بڑی عزت کرتا ہوں جو محنت کرتی ہیں، یقین مانیں۔ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھی میں منظر کی باتیں سن کر ہاں میں سر ہلاتی اور اتنا جواب ضرور دیتی کہ اسے یہ محسوس نہ ہو کہ اس کی باتوں کی جانب میری توجہ نہیں ہے۔ بس جی میں کچھ عرصہ سے یہاں گاڑی چلا رہا ہوں۔ دیکھیں میرا رزق کہاں سے روز آ جاتا ہے۔ کبھی اس گاڑی میں کوئی کیوبا کے لوگ بیٹھتے ہیں، کبھی جرمنی اور فرانس کے۔ انگلش بھی تھوڑی سمجھ لیتا ہوں ان کی وجہ سے۔ بڑا سکون آ گیا ہے مجھے اسلام آباد میں آ کر، میری طبعیت نہیں ہے اپنے رشتہ داروں والی۔ ٹوہ میں نہیں رہتا میں کسی کی، ورنہ تو میرے گاوں کے لوگوں کا اور کوئی کام نہیں۔ کون سا گاوں ہے آپ  کا؟

جھنگ میں، اٹھارہ ہزاری کے ساتھ ماچھی وال۔ وہاں تو کوئی لڑکی شام کو بس کا سفر کر کے کہیں سے آ  جائے تو بس، جینا حرام اس کا، کہاں سے آئی ہے، پتہ نہیں کیا کر کے آئی ہے۔ بھئی اس کی بھی زندگی ہے۔ اس کو بھی جینا ہے۔ میرا تعلق شیعہ مسلک سے ہے، اب آپ کہیں گی یہ بات سب کو نہ بتانا۔ حالات بڑے خراب ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں، کہ شیعیہ اور سنی دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ ہم صرف کسی ایک کو الزام نہیں دے سکتے، مذہب میں بھی سیاست چلتی ہے۔ ویسے آپ کا تعلق کس شعبے سے ہے؟

میں نے کہا، میں جیو نیوز میں رپورٹر ہوں، صحافی سمجھ لیں مجھے۔

یہ سنتے ہی  منظر عباس بے اختیار ہنسا اور کہا لو ! آپ کے ساتھ تو یہ باتیں کرنے کا کوئی فائدہ بھی نہیں، آپ تو ہم سے زیادہ جانتی ہوں گی۔

منظر عباس کی سوچ اور خیالات مجھے ان لوگوں سے زیادہ بہتر لگ رہے تھے جو خود کو  تعلیم یافتہ کہلواتے یا سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے \"manzar-abbas\"نظریات میں مجھے بہت پختہ محسوس ہو رہا تھا۔ منظر کی باتوں نے مذہب سے واپس پلٹا کھایا اور پھر سے خواتین کے حقوق کے موضوع پر آ گیا۔ لوگ آج کل لڑکیوں کو ٹائٹس پہنے دیکھ کر باتیں بناتے ہیں، جو یہ حرکتیں کرتے ہیں انہیں یہ پتہ نہیں کہ اس کے گھر سے بھی جو عورت نکلتی ہے اس نے بھی یہی لباس پہنا ہے، پھر اعتراض کس بات کا۔ ہمارے گاوں میں عورت کو برا سمجھتے ہیں اگر وہ کوئی کام کرے۔ بس وہاں عورت کو کوئی آزادی نہیں حالانکہ اس کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ ہمارے گاوں میں عورت سر پر دوپٹہ باندھ لے، تو شوہر کہتے ہیں۔ یہ بات بتاتے ہوئے منظر نے جھنگ کی پنجابی زبان بولنی شروع کر دی جس کا ایک مخصوص لہجہ اور پہچان ہے، سر اچ کوئی درد نہیں تیرے، ڈسپرین دی گولی کھا لے۔ ایڈے ولولے نہ مار ساڈے نال! لیکن میں جب گھر جاتا ہوں تو اپنی بیوی اور بیٹے کو ہیڈ تریموں لے جاتا ہوں مچھلی  کھلانے۔ میری والدہ کہتی ہے یہ ہمارا رواج نہیں، میں  اسے بتاتا ہوں، اماں روٹی سارے کھاتے ہیں اپنے گھر میں، سوانی ہے میری، اس کا بھی حق ہے میں اس کا خیال رکھوں۔ باہر جا کر مچھلی کھلانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ بیٹا تنگ کرتا ہے میرا اب، بڑا ہوتا جا رہا ہے، بس اسے یہاں لے آنا ہے اسلام آباد کے کسی امریکن اسکول میں اسے داخلہ دلواں گا۔ پھر میں چاہے جتنی محنت کروں اسے پڑھانا ہے۔  شادی کو چار سال ہو گئے ہیں لوگوں نے بڑا بھڑکایا مجھے، تیری بیوی کا کردار اچھا نہیں۔ واپس آ جا، لوگوں کی بڑی لڑائیاں ہوتی ہیں شادی کے بعد اپنی بیویوں سے، میری کبھی نہیں ہوئی کیونکہ میں اعتبار کرتا ہوں اس پر۔ عورت کی بھی کوئی زندگی ہے، میری ماں نے پہلے ہمیں سنبھالا، اب ہمارے بچے سنبھالتی ہے۔ آپ یقین کریں میں یہ سمجھتا ہوں عورت کی اپنی زندگی صرف 8 سال کی ہوتی ہے، جو وہ پیدائش سے لے کر 8 سال تک جیتی ہے، کھیلتی ہے اپنی مرضی کرتی ہے۔

منظر کے اس جملے نے مجھے حیران کر دیا۔ وہ اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھا۔

اس کے بعد عورت پر پابندیوں کا آغاز ہو جاتا ہے اور پھر اس کی زندگی وہ نہیں، کوئی اور جیتا ہے۔ میری بیوی آج بھی اپنے بھائیوں سے ڈرتی ہے۔ پرائمری اسکول میں پڑھاتی ہے وہ، سرکاری استانی ہے۔ دوسرے چک پڑھانے جاتی ہے۔ میں یہاں ہوتا ہوں۔ آںے جانے کا مسئلہ، ٹرانسپورٹ کبھی ملتی ہے کبھی نہیں، بچہ ماں کے بغیر 5، 6  گھٹنے تو گزارنے کا عادی ہے۔ ٹرانسپورٹ نہ ملنے پر کبھی اسے دیر ہو جاتی ہے، تو پھر روتا تھا۔ میری ماں کو بڑا تنگ کرتا تھا ۔ لوگ شکایتیں کرتے ہیں ہر وقت مجھے۔ میں سنتا رہتا ہوں بس۔ تیری بیوی اسکول کے بڈھے چوکیدار کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر اسکول آتی جاتی ہے۔ اب انہیں کون بتائے، چوکیدار کو موٹر سائیکل میں نے خود لے کر دی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

میمونہ سعید

میمونہ سعید جیو نیوز سے وابستہ ہیں۔ وہ ملتان میں صحافت کے فرائص سرانجام دیتی ہیں ۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف اوکلوہوما کی فیلو بھی رہ چکی ہیں ۔

maimoona-saeed has 9 posts and counting.See all posts by maimoona-saeed