ڈاکٹرعبدالسلام ہمارے قومی احترام کا نشان ہیں


ڈاکٹرعبدالسلام ایک ایسا حوالہ ہیں جو ہمارے سماج میں مختلف فکری سرحدوں، عدم تحفظات پر مبنی اضطراب اور نظریاتی کھینچا تانی کو ظاہر کرتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ اسلام آباد کی ایک جامعہ میں انجینئرنگ کی ایک کلاس پڑھا کر باہر نکلا تو گیلری میں نصب ڈاکٹر عبدالسلام کی تصویر پر کسی طالبعلم نے کالے مارکر سے جلی حروف میں ’’لعنتی ‘ اور ’’کافر‘‘ وغیرہ لکھا ہوا تھا اور چہرے کو سیاہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔ میں نے فوراً جا کر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو اطلاع دی تو انہوں نے فرمایا کہ میں دیکھ لیتا ہوں، آپ بس طلباء  وغیرہ میں یہ بحث نہ چھیڑیں کیوں کہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگلے ہفتے کلاس لینے گیا تو گیلری سے ساری تصاویر ہی اتاری جا چکی تھیں۔ آخر ایک مضطرب اور عدم تحفظ کا شکار مریض معاشرے میں اکثریتی طبقے کے نزدیک کسی ملعون کافر کو ملعون اور کافر نہ کہنا بھی تو اپنے عقیدے پر سوالات اٹھانے کی دعوت دینا ہے، تو شاید ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نے یہی مناسب سمجھا کہ تمام تصاویر ہی اتار لی جائیں بجائے اس کے کہ ایک ’ناپاک‘ تصویر کو عزت و احترام کی خاطر ’پاک’ کرنے کا خطرہ مول لیا جائے۔

لیکن بہرحال حالت بدل بھی رہے ہیں اور اب نظریاتی سرحدوں کے دونوں جانب کئی ایسے فکری طبقات دیکھنے میں آ رہے ہیں جو ایک مخصوص ثنائی منطق سے بالاتر ہو کر سیاہ و سفید کے بیچ میں ایک وسیع و عریض نظریاتی میدان میں کھڑے ہونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی کسی نہ کسی جگہ اضطراب دکھائی دے جاتا ہے کیوں کہ نظریے کا جبر بہرحال کئی تہیں رکھتا ہے اور ایک دو نسلیں بھی اس کو مبہم کرنے کے لئے کم ہیں۔ جب ہم کھل کر نفرت کا اظہار نہیں کر سکتے تو دبے دبے الفاظ میں چٹکی کاٹ کر ہی کام چلا لیتے ہیں۔ مسئلہ تو شاید بہت حد تک نفسیاتی ہی ہے۔

قائداعظم یونیورسٹی میں ڈاکٹر عبدالسلام کے نام پر فزکس ڈیپارٹمنٹ کا نام رکھنے پر بھی کئی بہت پرلطف اور دلچسپ تبصرے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ کچھ احباب تو انہیں ملعون، کافر، غدار اور احسان فراموش کہہ کر دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں تو کچھ احباب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ انہیں آگہی دی جائے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کی ملک کے لئے کیا ’خدمات‘ ہیں۔ ہماری رائے میں تو دونوں سوالات ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ایک دشنام ہے تو دوسرا طنز۔ ظاہر ہے کہ ملت اسلامیہ کے ایک قلعے سے منسوب تمام ماہرین طبیعات کو ملت اسلامیہ میں تو ہونا ہی چاہئے ورنہ پھر قلعے کی دیواروں میں شگاف سا محسوس ہو گا۔

اسی بارے میں: ۔  تین کردار، ایک کہانی اور بیس کروڑ تماشائی

حیرت ہے کہ یہ سوال نہیں پوچھا جاتا کہ ملک کے لئے ابن سینا کی کیا خدمات ہیں؟ ان کے نام پر بھی دارالحکومت کی ایک طویل سڑک ہے اور عقائد بھی کافی مشکوک ہیں۔ الخوارزمی وغیرہ کی ملک کے لئے کیا خدمات ہیں کہ ان کے نام پر جامعات میں سائنس سوسائیٹیاں بنی ہوئی ہیں؟ اگر کوئی ابن خلدون کے نام پر دنیا کی کسی جامعہ میں تاریخ یا فلسفے کے ڈیپارٹمنٹ کا نام رکھتا ہے تو اس کے معنی کیا یہ ہوتے ہیں کہ ابن خلدون نے اس ملک میں کوئی ’خدمات‘ انجام دی ہیں؟

عبدالسلام تو خیر ویسے بھی ماضی قریب کی ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں کم از کم پاکستان سے باہر کے لوگ بھی پاکستانی ہی سمجھتے ہیں۔ شاید گورنمنٹ کالج لاہور میں یا اس سے منسلک ایک ریاضی تحقیقاتی لیبارٹری بھی عبدالسلام کے نام پر ہے کیوں کہ وہ وہاں استاد بھی رہے اور ریاضی کا نصاب بھی مرتب کیا۔ اور بھی شاید کچھ جگہیں ایسی ہوں گی۔ دنیا بھر میں تو یہی دیکھا گیا ہے کہ عام طور پر جن اداروں یا مقامات وغیرہ کوان علامتوں سے منسوب کیا جاتا ہے وہ اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ایک استاد، محقق یا سائنسدان ملک کی کیا خدمت کر سکتا ہے سوائے یہ کہ اپنے علمی میدان میں اس کی تحقیق اس کے ملک کا بھی ایک علامتی حوالہ ہو۔

سوال تو بنیادی طور پر یہی ہے کہ آیا ڈاکٹر عبدالسلام کا نام پاکستانی قوم کی اجتماعی یاداشت سے محو کر دئیے جانے کے قابل ہے یا سنبھالنے کی چیز اور قومی وقار کی علامت ہے؟

اسی بارے میں: ۔  آئیے دکھی انسانیت کے مسیحا مارکس کو یاد کرتے ہیں

ہم یہی کہتے ہیں کہ اس قسم کے سوالوں سے اگر ڈھکی چھپی تنقید مقصود ہے یا ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا کیوں کہ یہ عدل و قانون کے خلاف ہے کہ ملک کی ایک جامعہ اپنے فزکس ڈیپارٹمنٹ کا نام ملک کے نوبل انعام یافتہ ماہرِ طبیعات کے نام پر رکھے تو یقیناً اس پر کھل کر احتجاج ہونا چاہئے کہ آخر (ملکی آئین کے مطابق) ملت اسلامیہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے ایک بداعتقاد گروہ کے غیرمسلم ماہرِ طبیعات کو اتنی عزت کیوں دی گئی؟ مثال کے طور پر یہ دلیل دی جا سکتی ہے جس شخص کی حب الوطنی بھی کسی ایک طبقے کی نگاہ میں مشکوک ہو اس کو قومی علامت نہ بنایا جائے۔  پارلیمان میں بل پیش کیا جا سکتا ہے کہ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے مشہور پاکستانیوں کے نام کو علامتی حیثیت نہ دی جائے کیوں کہ اس سے وہ معاشرے میں ایک ہیرو بن کر سامنے آتے ہیں اور اجتماعی یاداشت میں غیرضروری اہمیت کے حقدار ٹھہرتے ہیں۔ امتِ مسلمہ کی اگلی نسلیں سوال کریں گی کہ اس ’’ملعون‘‘ فرقے کے لوگوں کو کیوں اتنا علامتی احترام دیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ ان بنیادوں پر تحریک چلانے کی بھی ضرورت نہیں کیوں کہ مال مسالہ تو پہلے ہی کتابوں میں موجود ہے۔ اس صورت میں یقیناً یہ پچاس اور ستر کی دہائی کی طرح ایک دلچسپ قانونی معاملہ ہو گا۔

 کیوں نہ ہم کھل کی ہی ایک نیا دو قومی نظریہ اپنا لیں یعنی قلعے کے اندر اور باہر محصور دو قومیں فیصلہ کر لیں کہ ہم میں سے ایک قوم چونکہ پہلے مسلمان ہے اور پھر پاکستانی تو دوسری قوم یقینا ان سے کم درجے کی مسلمان ہی ہو گی کیوں کہ وہ اپنے تشخصی ابہامات کو تنگ نظری اور سہل فکری سے دبانے کی بجائے ان سے بغل گیر ہونے کو ترجیح دیتی ہے، پہلے انسان ہے اور پھر کسی مذہبی عقیدے پر کاربند؟

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 66 posts and counting.See all posts by aasembakhshi