پانامہ کا ہنگامہ… اصل حقائق


\"jafarبالآخر اس کھیل کا انجام ہونے کو ہے جو آج سے چھ سال پہلے شروع ہوا تھا۔ یہ دو ہزار گیارہ کے اوائل کا قصہ ہے۔ پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت تھی  اور نواز شریف ڈیل کے تحت انتخاب لڑنے کے اہل نہیں تھے لہذا قومی اسمبلی سے باہر تھے۔ مقتدر حلقوں کے ساتھ ان کے تعلقات کی تاریخ کافی پرانی اور تلخ ہے۔ جبکہ ان کے برادر خورد ہمیشہ سے ان حلقوں کے فیورٹ رہے ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن کا ذکر آگے آئے گا۔

اسی سال کے شروع میں چوہدری نثار کے ذریعے نواز شریف نے جی ایچ کیو سے دوبارہ رابطہ استوار کرنے کی کوششیں کیں۔ اس کی فوری وجہ سیاسی منظرنامے پر عمران خان کی دھماکہ خیز آمد تھی۔ نواز شریف جو اگلے انتخاب کو اپنی جیب میں سمجھ رہے تھے ان کے لیے یہ امر بہت تشویش ناک تھا۔ عام خیال کے برعکس عمران خان کے سیاسی ابھار کی وجہ مقتدر حلقوں کی حمایت نہیں تھی۔ اصل بات اس سے بالکل الٹ تھی۔ عمران خان  انہی معاملات کو لے کر چل رہے تھے جو عام آدمی کے دل میں تھے ۔ مثال کے طور پر ڈرون حملے، پاکستان میں غیرملکی مداخلت، کرپشن، اقربا پروری، موروثی سیاست، میرٹ کا قتلِ عام وغیرہ۔  عمران خان پاکستانی سیاست میں ایک نیا مظہر تھا۔ روایتی دائیں بازو کا ووٹر تو ان سے متاثر تھا ہی لیکن شہری علاقوں کی اپر مڈل اور اپر کلاس جو روایتی طور پر سنٹر کا ووٹ سمجھی جاتی ہے وہ عمران خان کی پرجوش حمایت میں نکل آئی۔  یہ صورتحال ن لیگ اور نواز شریف کے لیے کسی بھیانک خواب سے کم نہیں تھی۔

یہ رائے ونڈ کے شریف محلات کے ایک عالیشان کمرے مین ن لیگ کے تھنک ٹینک کے اجلاس کا منظر تھا۔ حاضرین میں نواز شریف، چوہدری نثار، اسحاق ڈار، شہباز شریف اور ایک حاضر سروس ہستی موجود تھی۔ اس اجلاس کا یک نکاتی ایجنڈا \”عمران کا رستہ کیسے روکا جائے\” تھا۔  بات چوہدری نثار نے شروع کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بجائے عمران کی مخالفت کے اس کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ قومی اسمبلی کی پچاس سیٹیں ، پنجاب میں سینئر وزیر اور چھ وزارتیں اور کے پی کے کی وزارت اعلی پی ٹی آئی کو آفر کرنی چاہیے۔  شہباز شریف اس سے متفق تھے۔ انہوں نے اس پر اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے کلین امیج کا ہمیں بھی فائدہ ہوگا اگر ہم اس کے ساتھ انتخابی اتحاد کرلیں۔  شہباز شریف نے مہاتیر محمد سے ملاقات کا بھی ذکر کیا۔ مہاتیر  جب پاکستان کے دورے پر آئے تو  شہباز شریف سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اس ملاقات میں شہباز شریف کو بتایا کہ آپ کے پاس ایک ایسا شخص موجود ہے جو اس ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈال سکتا ہے ۔ شہباز شریف کے استفسار پر انہوں نے عمران خان کا نام لیا اور کہا کہ یہ شخص قائد اعظم ثانی ہے۔ اگر یہ ملائشیا میں ہوتا تو ہم شاید پوری دنیا پر حکمرانی کرر ہے ہوتے۔ مہاتیر نے یہ مشورہ بھی دیا کہ آپ اس کے ساتھ مل کے اگلا انتخاب لڑیں ۔ لوگ آپ پر نوٹ اور ووٹ نچھاور کردیں گے۔ نواز شریف خاموشی یہ سب سن رہے تھے۔ ان کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں۔  شہباز شریف خاموش ہوئے تو نوا ز شریف نے گفتگو کا آغاز کیا۔ ان کی لہجے کی تلخی  محسوس کی جاسکتی تھی۔ انہوں نے نثار/شہباز کی \"maryam-nawaz\"تجویز کو کُلّی طور پر رد کرتے ہوئے محفل کے پانچویں فرد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان سے پوچھیے کہ یہ عمران خان کے بارے کیا سوچتے ہیں۔ حاضر سروس ہستی نے  ختم ہوتے سگریٹ سے اگلا سگریٹ سلگایا۔ لمبا کَش لیا اور اپنی مخصوص دھیمی آواز میں کہنے لگے ۔ \”عمران اس ملک کے پاور سٹرکچر کا سٹیک ہولڈر بن گیا تو ہم سب مارے جائیں گے۔ ہم کسی بھی صورت یہ رسک نہیں لے سکتے۔\” انہوں نے بطور خاص نثار اور شہباز سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر آپ اس سے متفق نہیں ہیں تو ہم پی پی سے بات کرلیتے ہیں۔ لیکن عمران کا آنا کسی بھی صورت ہمیں قبول نہیں ہے۔اسحاق ڈار جو اس اجلاس میں اب تک خاموش تھے۔ انہوں نے اپنے بریف کیس سے کاغذات کا پلندہ نکال کر میز پر دھرا اور بولے۔ یہ سب ہمیں پاکستان  واپس لانا پڑے گا۔ آپ کو اندازہ ہے کہ یہ سب کتنا ہے؟ تئیس 23 بلین ڈالرز۔ یہ ہماری ساری زندگی کی کمائی ہے۔ آپ یہ سب برباد کرنے کو تیار ہیں؟

بظاہرشہباز اور نثار لاجواب ہوچکے تھے۔ نواز شریف ، اسحاق ڈار اور حاضر سروس  اس معاملے پر ایک پیج پر تھے کہ عمران کو روکا جانا چاہیے۔ شہباز اور نثار کو بھی بادلِ نخواستہ ہاں میں ہاں ملانی پڑی۔  اس کے بعد جو ہوا وہ سب ویسا نہیں تھا جیسا عام طور پر سمجھایا یا دکھایا گیا۔ حاضر سروس ہستی کے خاندان کے افراد کو بڑے بڑے ٹھیکے ملے۔ ان کے ایک معتمد جن پر عمران کی سیاسی اتالیقی کا الزام تواتر سے آج تک لگایا جاتا ہے، انہوں نے بھی اس گنگا میں جی بھر کے اشنان کیا۔ یہ سموک سکرین تھی تاکہ لوگوں اور میڈیا میں یہ تاثر بنایا جائے کہ پی ٹی آئی کی بڑھتی ہوئی سیاسی حمایت کے پیچھے مقتدر حلقے ہیں۔ اور یہ تاثر کامیابی سے بنایا گیا۔

اس اجلاس میں طے پانے والی ڈیل کے باوجود عمران اور پی ٹی آئی کا راستہ روکنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا تھا۔ مقتدر حلقوں کی اپنی ایجنسیوں کے سروے اور رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی ساٹھ فیصد نشستیں جیتنے جارہی تھی۔ یہ صورتحال جہاں ن لیگ کے لیے خوفناک تھی وہیں کچھ حاضر سروس لوگوں کے لیے بھی بے خواب راتوں کا سبب بنی ہوئی تھی۔ پی ٹی آئی کا راستہ روکنے کے لیے ہر حربہ آزمایا جارہا تھا۔ الیکٹ ایبلز کو ہانکا لگا کر ن لیگ میں دھکیلا جا رہا تھا۔ کچھ لوگوں نے انکار کرنے کی جرات کی تو انہیں جانی، مالی طور پر نقصان پہنچا کر عبرت ناک مثال بنایا گیا۔  الیکٹرانک میڈیا پورے کا پورا خرید لیا گیا تھا۔ صرف اس مد میں چوہتر 74 ارب روپے خرچ کیے گئے۔  عمران خان کو مختلف لوگوں کے ذریعے ترغیبات /دھمکیاں بھی دی گئیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ خان کے چہرے پر سوائے  ایک طنزیہ مسکراہٹ کے کوئی تاثر نہیں ہوتا تھا۔ سب حربوں کے باوجود پی ٹی آئی پنجاب میں میدان مارتی جارہی تھی۔ میٹرو/لیپ ٹاپ جیسے مہنگے اور بلاضرورت منصوبوں کے باوجود لوگ  ن لیگ سے متنفر ہوتے جارہے تھے۔ اس  موقع پر آخری داؤ کھیلا گیا۔

جب یہ نظر آنے لگا کہ انتخابات میں پی ٹی آئی واضح اکثریت سے جیتنے جارہی ہے تو انتخابات ملتوی کرنے کا منصوبہ بنا۔ اس کام کے لیے  مقتدر حلقوں نے اپنے آزمائے ہوئے طاہر القادری کو میدان \"imran-khan-injury2\"میں اتارا۔ عام تاثر یہی تھا کہ طاہر القادری ، نواز شریف دشمنی میں یہ سب کررہے ہیں جبکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف تھی۔  اس کے برعکس قادری کے دھرنے کا سارا خرچہ بمع ساڑھے سات ارب کیش ، نواز شریف نے اپنی جیبِ خاص سے ادا کیا۔ پلان یہ تھا کہ قادری کے دھرنے کو جواز بنا کر انتخابات ملتوی کردئیے جائیں۔ تین سال کے لیے نگران حکومت بنا دی جائے اور اس عرصے میں پی ٹی آئی کا مکمل صفایا کرکے انتخابات کرادئیے جائیں۔ اس ظالمانہ نظام کو بچانے کا یہ حربہ بھی ناکام گیا۔ قادری کا دھرنا ایک مذاق ثابت ہوا۔ اس میں اہم کردار پھر پی ٹی آئی کا تھا۔ عمران خان نے اس دھرنے کی شدت سے مخالفت کی۔ جبکہ سوشل میڈیا پر موجود پی ٹی آئی کے نوجوانوں نے اس کو ایک مذاق بنا کے رکھ دیا۔ ایک اور وار خالی گیا۔

انتخابات سر پر تھے اور آزادانہ  سروے، ملکی اور غیر ملکی  انٹیلی جنس رپورٹس پی ٹی آئی کی لینڈ سلائڈ فتح کی پیشگوئی کررہی تھیں۔  اگر کہا جائے کہ پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ رہی تھی تو بے جا نہ ہوگا۔ عمران خان کو بطور وزیر اعظم پاکستان  ہضم کرنا پاکستانی اشرافیہ، مقتدر طبقات کے علاوہ بین الاقوامی اشرافیہ کے لیے بھی ڈراؤنا خواب ثابت ہوسکتا تھا۔  اس بھیانک خواب سے بچنے کے لیے اس کھیل کا آغاز ہوا جسے اسرائیل کی تخلیق کے بعد شاید سب سے بڑی سازش قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس کھیل میں سبھی ملکی اور غیر ملکی کھلاڑی  شامل تھے۔ پاکستا ن کا ایک \”دوست\” ملک، ایک دشمن ہمسایہ، عالم اسلام کے قلب میں گڑا ہوا خنجر اور اس کا سرپرست سب اکٹھے تھے۔ سب کا مقصد صرف ایک تھا۔ پی ٹی آئی کا راستہ روکنا۔ اس کے لیے پاکستان میں خرید و فروخت کا ایسا بازار لگا جس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ کیا صاف شفاف سیاستدان، کیا سو کالڈ ایماندار جج اور  کیا  باضمیر صحافی،  سب  اس بازار میں برائے فروخت تھے۔  اس  کام کے لیے ایک سو سترہ ارب روپے مختص ہوئے۔ لیکن ایک بات شاید خریدنے والے بھول گئے۔ عوام کو خریدنا  ممکن نہیں ہوتا۔ آخر گیارہ مئی کا دن آپہنچا۔  انتخاب ہوا  اور تمام تر دھاندلی، دھونس اور بدمعاشی کے باوجود پی ٹی آئی  نے میدان مار لیا۔ سب منصوبے، خرید و فروخت، سازشی پلان دھرے کے دھرے رہ گئے۔ کے پی کے ابتدائی انتخابی نتائج آنے کے بعد جب منصوبہ سازوں کو احساس ہوا کہ ان کی ساری کوششیں نقشِ بر آب ثابت ہوئی ہیں تو \”پلان بی\” پر عمل در آمد شروع کردیا گیا۔ نتائج روک دئیے گئے۔ ریٹرننگ آفیسرز کو یرغمال بنا لیا گیا اور جس نے چوں چرا کرنے کی کوشش کی اسے خاندان سمیت عبرت کا نشان بنانے کی دھمکیاں دی گئیں۔ تعاون کرنے والوں کو نقد  اور آؤٹ آف ٹرن ترقی کے وعدے کیے گئے جو بعد میں پورے بھی ہوئے۔  ایک سابق نگران وزیر اعلی پر ہوئی عنایتیں سب کے سامنے ہیں۔

پاکستان کے عوام سے ایک بار پھر حقِ نمائندگی چھین لیا گیا۔ پی ٹی آئی ایک سو تریپن 153 نشستوں پر جیت رہی تھی۔ لیکن نتائج مکمل ہوئے تو اس کے پاس صرف چالیس کے قریب نشستیں بچی تھیں۔  \"imran-and-reham-walima\"کوئی بھی اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا۔ عمران خان کو متحرک رکھنے سے روکنے کے لیے انتخابی مہم کے آخری حصے میں ایک پلانٹڈ حادثے کا شکار کردیا گیا۔ منصوبہ سازوں کو علم تھا کہ متحرک عمران خان کے ہوتے ہوئے  دن دہاڑے انتخاب چرانا ممکن نہیں ہوگا۔ عمران ہسپتال کے بستر پر بے یارومددگار پڑے تھے اور  پاکستانی عوام کا حقِ رائے دہی لوٹا جا رہا تھا۔  یہ پاکستانی تاریخ کا سب سے تاریک دن تھا۔  منصوبہ سازوں کی امیدوں کے برعکس عمران  اپنی قوت ارادی کے بل بوتے پر وقت سے پہلے صحت یاب ہو کر میدان میں اتر آئے۔ اب ان کا ایک ہی ایجنڈا تھا۔ عوام کا حقِ رائے دہی واپس لینا۔ پہلے دن سے انہوں نے اس کھلی بے ایمانی کے خلاف آواز بلند کی۔ پارلیمان میں ان کی تقریر آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔ انہوں نے کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے انکار کیا اور انتخابات میں دھاندلی کی کھلی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ سازشی ٹولہ اس مطالبہ کو  کبھی نہیں مان سکتا تھا۔ عمران کا مذاق اڑایا گیا۔ ان کو زچ کیا گیا ۔ آخر کار کپتان نے سب سازشیوں کا بلف کال کر لیا۔

اسلام آباد تک لانگ مارچ اور دھرنے کے اعلان نے منصوبہ سازوں کے ایک دفعہ پھر ہوش اڑا دئیے ۔ ان کو علم تھا کہ عوام کا سمندر ہوگا اور پھر ان کو بچانے والا کوئی نہیں رہے گا۔ مقتدر حلقوں میں ہونے والی تبدیلیاں بھی پاکستان کے لیے خوش خبری تھیں۔ ذاتی مفادات کے لیے ملک کو داؤ پر لگانے والے جا چکے تھے اور ان کی جگہ پاکستان کے سچّے سپوت لے چکے تھے۔  منصوبہ سازوں نے اس انقلاب کو ڈی فیوز کرنے کے لیے پھر اپنا آزمودہ مہرہ میدان میں اتارا۔ طاہر القادری  کو یہ سارا شو ہائی جیک کرنے کےلیے میدان میں اتارا گیا۔ ماڈل ٹاؤن کا واقعہ بھی منصوبہ سازوں کی ایماء پر ہوا تاکہ ساری توجہ طاہر القادری کی طرف مبذول کرائی جاسکے۔میڈیا میں یہ تاثر پھیلایا جارہا تھا کہ طاہر القادری اور عمران خان مقتدر حلقوں کی  شہ پر اسلام آباد کی طرف چڑھائی کررہے ہیں تاکہ جمہوریت کو ختم کیا جاسکے۔ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ عمران خان جمہوریت کو بچانے جبکہ طاہر القادری اس کو تباہ کرنے کے درپے تھے۔

\"Shahbaz-Sharif-Visit-in-Lahore\"

چودہ اگست کا دن آپہنچا اور عمران خان، عوام کے ایک سمندر کے ساتھ اسلام آباد آن براجے۔ لوگوں کو نظر آرہا تھا کہ اب پاکستان میں ایک حقیقی تبدیلی اور انقلاب آرہا ہے۔ سازشی اور لٹیرے بے نقاب ہورہے ہیں۔ اور خلق خدا کے راج کا آغاز ہونے والا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے مقتدر حلقوں  سے مدد مانگی تو وہاں سے صاف جواب ملا کہ سیاسی معاملے کو سیاسی طریقے سے حل کریں  اور اس میں ہم آپ کی کوئی مدد نہیں  کرسکتے۔ دھرنے نے منصوبہ سازوں کے ہوش و حواس اڑا کے رکھ دئیے تھے۔ کبھی چین کی اربوں ڈالرز امداد کی افواہیں پھیلائی جاتیں اور کبھی عمران خان پر الزامات لگائے جاتےکہ یہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ ہر حربہ آزمانے کے باوجود بھی جب عمران خان کو ہلایا نہ جاسکا تو پھر منصوبہ سازوں نے ایسا گھناؤنا وار کیا جس کی امید بدترین دشمن سے بھی نہیں ہوسکتی۔

یہ امر شاید سب کے لیے حیران کُن  نہ ہو کہ آرمی پبلک سکول سانحہ میں  ہمسایہ ملک کی مدد سے معصوم بچوں کو شہید کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ اسی ملک کے حکمران تھے۔ تاکہ اس دھرنے سے نجات حاصل کی جائے جس نے ان کے جعلی اقتدار کو حقیقی خطرے سے دوچار کر رکھا تھا۔ بادلِ نخواستہ دھرنا ختم کرنا پڑا۔   منصوبہ سازوں کا ایک دفعہ پھر وقتی کامیابی حاصل ہوچکی تھی۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اس گھناؤنے فعل سے ان کی اپنی صفوں میں ہی پھُوٹ پڑ چکی ہے۔ بہت خفیہ ہونے کے باوجود اس منصوبے کی بھنک چوہدری نثار اور شہباز شریف  کو مل چکی تھی۔ جن کے ذریعے یہ خبر مقتدر حلقوں تک بھی پہنچ گئی۔ اس دفعہ بننے والا منصوبہ پاکستان کو بچانے والا تھا۔ اس منصوبے میں چوہدری نثار، شہباز شریف اور دو حاضر سروس  شامل تھے۔ شہباز شریف ساری زندگی بڑے بھائی کے بلنڈرز کی پردہ پوشی کرتے رہے لیکن یہ سانحہ شاید اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ وہ کھل کر ان کے خلاف صف آرا ہوچکے تھے۔ یہ شہباز شریف ہی تھے جن کے بیٹے کو پورا خاندان، مشرف کے پاس ضمانت کے طور پر چھوڑ گیا تھا ۔ شہباز شریف کی کارکردگی پر ہر دفعہ ووٹ لے کر جیتنے والے نواز شریف نے کبھی ان کو وہ اہمیت نہیں دی جو ان کا حق تھا۔ حمزہ شہباز جو جلاوطنی کے دنوں میں ن لیگ کو زندہ رکھے ہوئے تھے ان کو مریم نواز شریف کے سیاسی کیرئیر پر قربان کرنے کا منصوبہ بھی بن چکا تھا۔ شہباز شریف نے اپنی زندگی اور کیرئیر تو بھائی پر قربان کردی لیکن جب اولاد کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا نظر آیا تو  ان کی برداشت جواب دے گئی۔

یہ پنڈی کے ایک حساس علاقے میں موجود عمارت کا ڈرائنگ روم تھا۔ شہباز شریف، چوہدری نثار،  حمزہ شہباز اور دو حاضر سروس ہستیاں اس  کمرے میں موجود تھیں۔ موضوع گفتگو \”گیٹ نواز \"imran-khan-perspiring\"شریف سُون\” آپریشن تھا۔ شہباز شریف نے اپنے  کوٹ کی جیب سے یو ایس بی نکالی اور میز پر موجود لیپ ٹاپ میں لگا کر سب لوگوں کو متوجہ ہونے کا کہا۔ اس یو ایس بی میں وہ تمام معلومات تھیں جن سے ثابت ہوتا تھا کہ کیسے پاکستان کی دولت لوٹ کر اسے بیرون ملک بھیجا گیا۔ بے نامی بینک اکاؤنٹس، کمپنیز، ٹرانزیکشنز سب کچھ اس میں موجود تھا۔ کمرے میں موجود  دونوں افسر دم بخود یہ سب دیکھ رہے تھے۔ شہباز شریف نے اپنی پریزنٹیشن ختم کی اور یو ایس بی نکال کر اپنے ساتھ بیٹھے افسر کے حوالے کردی۔  یہ پانامہ لیکس کی شروعات تھیں۔

اس کے بعد اس آپریشن کا آغاز ہوا جسے تاریخ میں سب سے عظیم سپائی آپریشن کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ پوری دنیا کی انٹیلی جنس ایجنسیز کے مقابلے میں پاکستانی افسروں نے وہ کارنامہ کر دکھایا جو کسی کے تصور میں بھی نہیں تھا۔ جرمن اخبار کو  موساک فانسیکا بارے معلومات دینے والا نامعلوم شخص کوئی اور نہیں بلکہ پاکستانی آفیسر ہی تھا۔ جس نے جان پر کھیل کر یہ معلومات حاصل کیں۔ اگر یہ سب پاکستانی میڈیا کے سامنے پیش کیا جاتا تو اس پر جمہوریت کے خلاف سازش کا الزام لگا کے اس کو رد کردیا جاتا  لیکن چوہدری نثار کی ذہانت نے یہ مسئلہ حل کردیا۔  غیرملکی ثقہ اخبار میں چھپنے کی وجہ سے اس کی کریڈیبلٹی پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکا۔ بالآخر وہ وقت آگیا ہے جب عوام کے ووٹ اور ان کی دولت لوٹنے والے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ ان کے لیے اب کوئی راہِ فرار باقی نہیں رہی۔ مقتدر حلقوں میں ان کے ہمدرد ختم ہوچکے۔  مکافات عمل اب ان کا انتظار کررہا ہے۔

عمران خان بالآخر سچّا ثابت ہوا۔

 (یہ کالم طنز و مزاح پر مبنی ہے اور اس میں بیان کیے گئے واقعات کو حقیقت نہ سمجھا جائے۔ مصنف نے سوشل میڈیا پر موجود سازشی تھیوریوں پر طنز کیا ہے: مدیر)


Comments

FB Login Required - comments

جعفر حسین

جعفر حسین ایک معروف طنز نگار ہیں۔ وہ کالم نگاروں کی پیروڈی کرنے میں خاص ملکہ رکھتے ہیں۔

jafar-hussain has 13 posts and counting.See all posts by jafar-hussain

One thought on “پانامہ کا ہنگامہ… اصل حقائق

  • 07-12-2016 at 3:44 pm
    Permalink

    Xcelent piece of reality.

Comments are closed.