اب قبروں میں بھی کیمرے لگیں گے !


\"rauf-klasra\"

کرکٹ کی دنیا کے عظیم بیٹسمین سر ڈان بریڈ مین جب انتقال کر گئے تو آسڑیلیا کے وزیراعظم جان ہاورڈ نے ان کی فیملی کو فون کیا اور کہا کہ وہ بریڈ مین کی آخری رسومات میں شامل ہونا چاہتے ہیں تاکہ انہیں خراج تحیسن پیش کیا جا سکے۔ ٖفیملی کی طرف سے وزیراعظم کو معذرت کا پیغام بھیجا گیا کہ یہ ان کا ذاتی صدمہ ہے اور فیملی کے افراد بریڈمین کو آپس میں ہی یاد کرنا چاہتے ہیں لہذا وہ وزیراعظم کو آخری رسومات میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہو سکتا ہے کہ بہت سارے لوگ یہ کہیں کہ ہمارے اور ان کے کلچر اور سوچ میں بڑا فرق ہے اور اس طرح کی مثالیں ہمیں نہیں دی جا سکتیں کیونکہ دکھ اور سکھ میں ہم لوگ روایتی طور پر ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اور خیال رکھتے ہیں جب کہ دوسرے ممالک کے لوگ ایک دوسرے کے اتنے قریب نہیں ہوتے جتنے ہم ہیں۔

یہ واقعہ سنانے کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان کے نجی چینلز نے کوریج اور اپنے ناظرین کو سب کچھ دکھانے کے نام پر کچھ ایسا کام شروع کر دیا ہے کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اگر یہ آغاز ہے تو انجام گلستان کیا ہونے والا ہے۔ یہ بات میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اب کوریج کا دائرہ قبرستان تک پہنچ گیا ہے۔ قبرستان سے لایؤ کوریج کا سلسلہ سلمان تاثیر سے شروع ہوا تھا اور نصرت بھٹو کی جنازے اور قبرتک اسے اتارنے تک جاری رہا۔

تو کیا اب جب تک ٹی وی کمیرے نہیں ہوں گے، جنازے نہیں ہوں گے اور میتں بھی قبر میں نہیں اتاری جا سکیں گی ؟

سلمان تاثیر کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا کہ ان کی میت کی اس وقت تک لائیو کوریج کی جاتی رہی جب تک قبر میں اتارنے کے بعد مٹی نہیں ڈال نہیں دی گئی اور قبر پر پھول ڈالنے کا سلسہ شروع ہوا۔ اب یہ سب کچھ نصرت بھٹو کی میت کے ساتھ کیا گیا۔ ٹی وی چینلز میں ایک دوڑ لگ گئی کہ کون اس حوالے سے نئی چیز اپنے ناظرین کو دکھاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نصرت بھٹو کے انتقال سے پورے پاکستان کو صدمہ ہوا کیونکہ جتنی تکلیفں اور اذیت انہوں نے سہی، ان کا سوچ کر ہی بندہ جھرجھری لے کر رہ جاتا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ناقابل یقین حد تک قربانی دیں۔ جنرل ضیاء کے ہاتھوں پہلے شوہر کو کھو دیا تو پھر بیٹی کے ساتھ جیلوں میں رہیں، دونوں بیٹے ایک ایک کرکے مارے گئے اور خود بھی کومہ میں چلی گئیں اور بے نظیر بھٹو کی شہادت تک بھی علم نہ تھا۔ ان کی موت سے سب کو دھچکا لگا اگرچہ سب کو علم تھا کہ یہ دن بہت جلد آنے والا تھا۔ ان کی اس ملک اور جمہوریت کے لیے قربانیاں واقعی یاد رکھے جانے کے قابل ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  اردو میں طفیلی صحافت اور سرقے کا بڑھتا ہوا رجحان

تاہم میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھے یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ان کی قبر کا کیا سائز ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قبر کھودنے والے گورگن کے انٹرویوز بھی سنانے ضروری ہیں؟ میں حیران ہورہا تھا کہ نصرت بھٹو کی شخصیت پر فوکس کرنے کی بجائے کس طرح سے ان کی قبر کے سائز اور جگہ کو فوکس کیا جارہا تھا۔گڑھی خدا بخش میں کھودی گئی قبر کے اندر تک کا سائز ٹی وی کیمروں کے ذریعے دکھایا جارہا تھا۔ مختلف زاوئیوں سے اس قبرکو فوکس کیا جارہا تھا۔ اسے کتنے لوگ کھود رہے ہیں اور کون اس کے اوپر اور کون اندر کھڑا ہے۔

تو کیا پاکستانی میڈیا کا یہ انجام ہونا تھا کہ ان کے پاس دکھانے کے لیے اور کچھ نہیں رہا لہذا کسی بھی بڑے بندے کی میت کو جب تک یہ قبر تک نہیں چھوڑ کر نہیں آئیں گے، یہ قبرستان سے نہیں جائیں گے؟ تو کیا جب کچھ سال پہلے تک یہ لایؤ کوریج نہیں ہوتی تھی اس وقت میتں نہیں دفنائی جاتی تھیں ؟ اگرچہ یہ کام جنرل ضیاء کے طیارے میں حادثے میں مرنے کے بعد پی ٹی وی نے کیا تھا جب ان کے جنازے کی لایؤ کوریج کی گئی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عام لوگ بھی ان مواقعوں پر جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ہورہا ہے لہذا کوریج کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ کوریج کی حد کہاں سے شروع ہو کر کہاں ختم ہوتی ہے۔

پاکستان میں کوریج کے نام پر ایک ایسا ہیجان پیدا کر دیا گیا ہے کہ پوری قوم بڑی تیزی سے نفسیاتی مریض بنتی جارہی ہے۔ واقعات کو پہیے لگ گئے ہیں اور لحموں میں ایک کے بعد دوسری بریکنگ خبر نے پورے ملک کو ایک ہیجانی کیفت میں مبتلا کردیا ہے۔ لوگوں میں سیاسی اور سماجی شعور آنے کی بجائے ایک خوف پیدا ہو گیا ہے کہ اب ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور اس ملک اور معاشرے کا کیا بنے گا۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو اتنا بڑا بنا کر پیش کیا جارہا ہے کہ لگتا ہے جیسے پاکستان میں قیامت آچکی ہے اور کسی لحمے بھی کچھ ہو سکتا ہے۔

ٹی وی چینلز کے نیوز روم میں بیٹھے لوگوں کا ریموٹ کنٹرول اب رپورٹر کے ہاتھ چلا گیا ہے کہ جب کوئی لائیو کوریج شروع ہوتی ہے تو پھر یہ اس کی مرضی ہے کہ اس نے ہمیں کیا بتانا ہے اور کس انداز میں بتانا ہے اور ہم سب بے بسی سے اس کے نیک خیالات سنتے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلہ ہے کہ آج مذہب کو سیاست کے لیے استعمال اور دہشت گردی کی حمایت کرنیو الی جماعتوں کے لیڈروں کی بھی پریس کانفرنس براہ راست نشر ہوتی ہیں۔ ان کے جلسوں کی لایؤ کوریج کی جاتی ہے۔ یوں جنہیں اپنی گلی محلے میں کوئی نہیں جانتا تھا، آج ٹی وی چینلز کی بدولت ایسے لگتا ہے کہ وہ اس قوم کے لیڈر ہیں اور جتنی نفرت وہ ایک دوسرے کے خلاف براہ راست پھیلا سکتے ہیں، وہ پھیلا رہے ہیں۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ دنیا کا کون سا ملک ہو گاجہاں اس طرح کی آزادی سب کو ملی ہوئی گی جیسے ہمارے ہاں ہے۔ ٹی وی چینلز کی کوریج دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ ہم اسی شاخ کو ہی کاٹ رہے ہیں جس پر ہم خود بیٹھے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  Guilty by Suspicion

یہ کالم میں شاید نہ لکھتا لیکن میرے دس سالہ بیٹے کی ایک بات نے مجھے لکھنے پر مجبور کر دیا۔ جب نصرت بھٹو کی میت قبر میں ہماری ٹی وی سکرین پر اتار دی گئی اور قبر بند کر دی گئی تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ بابا اب کیا ہوگا ؟

میں نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا تو وہ بولا کیا اب ہمیں یہ نہیں دکھایا جائے گا کہ قبر کے اندر کیا ہوگا ؟

میں نے کہا بیٹا انتطار کرو وہ دن بھی بہت جلد آنے والا ہے جب قبروں کے اندر بھی کیمرے فٹ کر کے لایؤ کوریج کی جائے گی اور اب قبروں کی لمبائی چھ گز کی بجائے سو گز کی ہو گی کیونکہ اب قبر میں چالیس کمیرے فٹ کرنے ہوں گے اور جس ٹی وی چینلز کا کمیرہ وہاں نہ لگا اس نے میت والے گھر کی ایسی تیسی کر دینی ہے۔

قبروں میں کمیرے لگنے کے لیے ہمیں زیادہ انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جو حشر کوریج کے نام پر ہمارے چینلز کررہے ہیں، اس سے تو یہ لگتا ہے کہ یہ نیک کام بہت جلد ہماری زندگیوں میں ہی ہونے والا ہے اور ہم میتوں کو دفن کرنے کے بعد بھی براہ راست اپنے گھروں میں بیٹھ کر دیکھ سکیں گے کہ اب اس میت کے ساتھ قبر کے اندر کیا چل رہا ہے !

(نومبر 2011)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔