دنیا گلا سڑا آلو ہے


naseer ahmad nasirآجکل چہار سو آلو آلو ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم کے منہ سے آلو کا ریٹ پانچ روپے کلو کیا نکلا کہ ہر طرف سے ان پر بےداد کے دھموکے برس رہے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ وزیر اعظم بھی انسان ہیں، ان کی زبان لڑکھڑا سکتی ہے۔ گو کہ پاکسانی سیاستدانوں اور حکمرانوں کو انسان سمجھنا بذاتِ خود بہت بڑا متناقض بالذات نوعیت کا مغالطہ ہے۔ وزیر اعظم کو شاید معلوم نہیں کہ سوشل میڈیا پر لوگ ان کو بھی آلو کہتے ہیں ورنہ وہ اس معصوم سی غریبانہ سبزی کو، جس کا سر ہے نہ پیر، اتنا بے توقیر نہ کرتے۔ حالانکہ اب انھوں نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سر کے چٹیل میدان کو قابلِ کاشت بنا لیا ہے اور بالوں کی اچھی خاصی فصل اگا لی ہے ، بس اعلان کرنا باقی ہے کہ حکومت بالوں میں خود کفیل ہو گئی ہے۔ بال بچوں میں تو ہم پہلے ہی خود کفیل ہیں، یہی ایک کمی تھی جو وزیر اعظم کے سر کے بالوں نے پوری کر دی ہے۔ اب انھیں آلو نہیں آلو کچالو کہنا چاہیئے کہ ماشااللہ سرخ و سفید رنگت پائی ہے۔ برسبیل تذکرہ سیاستدانوں کے نام اگر مختلف سبزیوں کے ناموں پر رکھ دیے جائیں تو لوگ انھیں برا کہنے کے بجائے چٹخارے لے لے کر ان کا نام لیں۔ اب آپ جانیں کہ کس کا کیا نام ہونا چاہیئے۔ ہمارے خیالِ خام کے مطابق تو بینگن ان سب کے لیے مناسب ترین نام ہے کیونکہ یہ سب تھالی کے بینگن ہیں، یعنی بے پیندے کے لوٹے، رکابی مذہب، کبھی کسی طرف کبھی کسی طرف۔ شکرِ ایزد ہے کہ وزیر اعظم نے آلو کا ذکر کیا ہے اگر خدانخواستہ پیٹھا کہہ دیتے تو کیا ہوتا۔ ویسے انھیں چاہیئے کہ کسی وقت پیٹھے کا بھاؤ بھی بتا دیں پھر دیکھیں لوگ کیسے ان کا حلوہ بناتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کسی کم اوقات و کم خور نے غلطی سے کسی اور چیز کا ریٹ ان کے کان میں ڈال دیا ہو۔ لیکن اس قیمت پر تو مٹی، ریت، ردی کچھ بھی نہیں ملتا۔ یہ بھی ممکن ہے کسی نے غلط پرچی سامنے کر دی ہو یا وزیر اعظم کو پرچی پر درج پانچ کے ساتھ صفر نظر نہ آیا ہو۔ ہمارے وزیر اعظم پرچیوں سے کام چلانے کے عادی ہیں۔ عالمی لیڈروں سے ملاقاتیں ہوں یا انٹرویوز، انواع و اقسام کی پرچیاں پاس رکھتے ہیں۔ لگتا ہے وزیر اعظم اسکول اور کالج کے زمانے میں پرچہ حل کرنے کے لیے بھی پرچی کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ اور تو اور وہ منتحب بھی ووٹ یعنی پرچی کے ذریعے سے ہوئے ہیں۔ اس لیے پرچی کو ان سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر جگہ پرچی سسٹم رائج ہے۔ سرکاری ہسپتال میں مفت علاج کروانا ہو تو پہلے کچھ روپے دے کر پرچی لینا ضروری ہے۔ مقدمے کی تاریخ بھی پرچی پر ملتی ہے۔ سرکاری دفتروں میں کوئی کام ہو تو کسی بڑے افسر یا وزیر مشیر یا سیاستدان کی پرچی دکھانے سے وہ کام فوراً ہو جاتا ہے۔ ایک دفعہ ہم ایک ڈپٹی کمشنر دوست کے دفتر میں بیٹھے چائے پی رہے تھے اور گپیں مار رہے تھے کہ ایک صاحب اندر آ گئے۔ انھیں دیکھتے ہی ڈپٹی کمشنر صاحب کا پارا چڑھ گیا اور تحکمانہ انداز میں بولے کہ تمہیں کس نے اندر آنے کی اجازت دی ہے دیکھتے نہیں ہم ضروری میٹنگ میں مصروف ہیں۔ دیکھنے میں وہ معزز اور بزرگ نما صاحب شرمندہ اور پریشان سے ہو کر باہر نکل گئے۔ تھوڑی دیر بعد دوبارہ پی اے کے ساتھ اندر داخل ہوئے اور اس سے پہلے کہ ڈپٹی کمشنر صاحب پھر انھیں ڈانٹ کر باہر نکال دیتے فوراً ایک پرچی ان کے سامنے میز پر رکھ دی۔ پرچی دیکھتے ہی ڈپٹی کمشنر صاحب کرسی سے کھڑے ہو گئے اور پرچی کو تقریباً سیلوٹ مارتے ہوئے انھیں بیٹھنے اور چپڑاسی کو چائے لانے کے لیے کہا۔ ہم ایک انسان کی ذلت اور پرچی کی توقیر دیکھ کر اتنے بدمزہ ہوئے کہ اٹھ کر آ گئے اور زندگی میں دوبارہ کبھی اس دوست سے ملنے نہیں گئے۔

پرچی کا نظام یعنی جمہوریت بھی ہمارے ہاں آلو کی طرح مغرب سے آئی ہے۔ اور اب یہ ہماری مرغوب ترین غذا ہے، لیکن صرف پکانے اور دکھانے کی حد تک، کھانے کی نوبت ابھی نہیں آئی۔ ابھی ہم نے اس کا حقیقی ذائقہ نہیں چکھا۔ ابھی ہم اس کے نام پر ڈالر شالر اور دیگر ملکی مال تال از قسم زرِ بالائی و زرِ نیلامی کھانے میں مصروف ہیں۔ ویسے ہمیں اس کا اصل لطف لینے بھی نہیں دیا جاتا، نوالہ ابھی ہاتھ میں ہوتا ہے تو کوئی نہ کوئی بندوق بردار سر پر آ کھڑا ہوتا ہے۔ حکومت بے چاری کیا کرے۔ میثاقِ جمہوریت کے نام پر مک مکا نہ کرے تو پارلیمنٹ کی رسوئی اور اپنی ’کچن کیبنٹ‘کیسے چلائے۔ خیر ذکر آلو کا تھا اور بات پرچی اور پرچی کے نظام تک پہنچ گئی۔ آلو کی تاریخ بڑی دلچسپ ہے اور دس ہزار سال تک پرانی بتائی جاتی ہے۔ اس کا اصل وطن جنوبی امریکہ ہے۔ انکا انڈین 8000 سال قبل مسیح میں سرخ، سنہرے، نیلے، جامنی اور کالے رنگ کے آلو کاشت کرتے تھے۔ امریکی ریڈ انڈین اسے بٹاٹا کہتے تھے۔ وہاں سے اسپین کے کچھ ملاح 1536ءمیں اسے یورپ لائے اور اسے پتاتا کہنا شروع کیا۔ انگریزوں نے اسے پتاتا سے پوٹیٹو بنا دیا۔ سولھویں صدی عیسوی تک یہ اسپین کے علاوہ اٹلی، بلجیئم، ہالینڈ، آسٹریا، فرانس، جرمنی، سویٹزر لینڈ، پرتگال اور آئر لینڈ میں پھیل چکا تھا۔ شروع شروع میں یورپ میں اسے زہریلا، شیطانی، سفلی اور کوڑھ کی بیماری کا سبب سمجھا جاتا تھا۔ اب یہ وہاں کی خوراک کا جزوِ اعظم ہے۔ ہندوستان میں اس کی آمد کے آثار سترہویں صدی کے آغاز میں ملتے ہیں۔ چونکہ اس کی جسامت آلو بخارے جتنی تھی اس لیے شمالی ہندوستان کے لوگوں نے اس کا نام آلو رکھ دیا۔ دنیا میں سب سے زیادہ آلو امریکہ میں پیدا ہوتا ہے اور اس کا شمار دنیا کی پانچویں بڑی فصل میں ہوتا ہے۔

آلو بڑی کارآمد اور وقت بے وقت کام آنے والی شے ہے۔ گھر میں جب پکانے کے لیے کچھ اور نہ ہو یا دال، سبزی، گوشت پر استصواب رائے ممکن نہ ہو تو عموماً آلو پر اتفاق برادرز کی طرح اتفاق ہو جاتا ہے۔ اویر سویر کوئی مہمان آ جائے تو جھٹ سے آلو کی بھجیا بن جاتی ہے۔ ہم تو ایسے موقعوں پر آلو انڈے کا ایسا نوابی بھوجن تیار کرتے ہیں کہ کھانے والے کو پتا ہی نہیں چلتا کیا کھا رہا ہے۔ اسی لیے ہم نے اپنی اس سیکرٹ ڈش کا نام آلو شالو کے بجائے “گڑ بڑ گٹالا” رکھا ہے۔ آلوو¿ں کی طرح لوگ بھی سرخ، سفید، براو¿ن، پیلے، نیلے کئی رنگوں اور قسموں کے ہوتے ہیں۔ کچھ باہر سے ٹھیک اندر سے خراب ہوتے ہیں، کچھ پھپھوندی لگے بھی ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ آلو نما بلکہ باکل آلو ہوتے ہیں۔ انھیں آلو صاحب کہنا اسم بامسمیٰ کے مترادف ہے۔ آلو شفتالو لڑکوں کا ایک دلچسپ کھیل بھی ہے۔ سیاستدانوں میں بھی کئی نرے آلو ہیں۔ مرحوم اصغر خان چیئر مین تحریک استقلال کو ان کے مخالفین آلو کہتے تھے۔ سنا ہے کہ یہ نامِ نامی انھیں بھٹو نے دیا تھا۔ آلو گیری بھی گیر و دار سے کم نہیں۔

ہم سوچ رہے تھے کہ وزیر اعظم کے منہ سے آلو کی قیمت کا سن کر کئی کاشتکار خود کشی کر لیں گے۔ ہندوستان میں تو یہ وبا عام ہے۔ فصل اچھی نہ ہو یا فصل کی قیمت نہ لگے تو وہاں کے اکثر غریب کسان احتجاجاً آتم ہتیا کر لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں چونکہ بڑے بڑے ’غریب ‘زمیندار ہیں اس لیے یہ نوبت نہیں آتی۔ کچھ سال پہلے آلو سستا ہوا تو ہمارے ایک غریب پرور بڑے زمیندار نے آلو کے ٹرالے منڈی لے جانے کے بجائے سڑک کنارے الٹ دیے۔ نہ سستا کھائیں گے نہ کھانے دیں گے۔ ’سست پائی‘ ہمیں راس نہیں آتی۔ مہنگائی ہمارا اسٹیٹس سمبل اور قومی نفسیاتی بیماری ہے۔ جسے ہمارے وڈے وڈیرے خوب سمجھتے ہیں۔ انھیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کا یہ طفلانہ اعلان دراصل آنے والے دنوں میں آلو کی گرانی اور نایابی کا اشارہ ہے۔ دیکھیے کب آلو مارکیٹ سے غائب ہوتا ہے۔ ہم نے تو بہت پہلے ایک نظم میں اس ’آلو زدہ‘ دنیا کے انحطاط اور سڑاؤ کی پیش گوئی کر دی تھی۔ لیکن اس بازار میں آلو اور شاعر کی کون سنتا ہے۔

’دنیا خود فریبی کے سرد خانے میں رکھا ہوا
گلا سڑا آلو ہے
جسے کائنات سے باہر پھینکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں
تا کہ باقی ماندہ خدائی کو پھپھوندی لگنے سے بچایا جا سکے‘


Comments

FB Login Required - comments