وزیراعطم کا احتساب ہورہا ہے اصولی طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے :عمران


\"nawaz-imran\"

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں وزیراعظم کا احتساب ہو رہا ہے۔ اصولی طور پر وزیراعظم کو مستعفی ہو جانا چاہیے، قوم چاہتی ہے کہ پانامہ پیپرز پر فیصلہ عدالت خود دے۔ سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ عدالت نے آپشن دیا ہے، کمشن بنایا جائے یا خود فیصلہ کریں اس لئے مشاورت کیلئے 2 دن مانگے ہیں، پرسوں فیصلہ کریں گے جو کمشن بنے گا اس کے کیا ٹی او آر ہونے چاہئے لیکن قوم اور ہم چاہتے ہیں کہ عدالت فیصلہ کرے، نواز شریف کے وکیل نے عدالت میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ سے وزیراعظم کا خطاب ایک سیاسی بیان تھا، آئین کے آرٹیکل کے تحت وزیراعظم پارلیمنٹ کو جواب دہ ہیں جب نواز شریف پر دباؤ بڑھا تو انہوں نے پارلیمنٹ میں جواب دیا اور کہا کہ منی ٹریل کے سارے کاغذات موجود ہیں لیکن آج پتہ چلا کہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم نے نئی چیز سنی ہے کہ پرچیوں پر کاروبار تھا، یہاں ہزار روپے عام آدمی کو کوئی نہیں دیتا لیکن انہیں اربوں روپے کون دیتا ہے، ایف بی آر، ایف آئی اے اور نیب حکومت کے ماتحت ہے تو وہ کیسے تحقیقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ثابت ہو گیا حکمران ٹولے کے پاس بیرون ملک جائیداد کے ثبوت نہیں۔ دریں اثنا عمران خان نے بنی گالہ کی رہائش گاہ کی خریداری کے حوالے سے اپنی سابقہ اہلیہ جمائمہ کے حلف نامے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے آج تک یہ دستاویزات نہیں دیکھیں۔ ایک انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ جمائمہ نے جو پاور آف اٹارنی دیا وہ کبھی ان کی نظر سے نہیں گزرا۔ بنی گالہ کی زمین 2002ء میں جمائمہ نے اپنے نام پر خریدی کیونکہ اس وقت اْن کے پاس اتنی رقم موجود نہیں تھی تاہم 2004 میں طلاق ہونے کے بعد جمائمہ نے بطور تحفہ یہ زمین ان کے نام کروا دی۔ اس سوال پر کہ اگر بنی گالہ کی رہائش گاہ جمائمہ نے ہی خریدی تو پھر انھوں نے اسے ڈکلیئر کیوں نہیں کیا؟ پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ممکن ہے گوشوارے جمع کرانے والے اکاؤنٹنٹ سے کوئی کوتاہی ہوگئی ہو جس کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔ عمران خان نے کہا کہ وہ قانونی چیزوں پر نہیں، بلکہ حقیقت کو بیان کررہے ہیں جو یہ ہے کہ یہ زمین جمائمہ نے اپنے نام پر خریدی تھی۔ چونکہ ہماری طلاق ہوگئی تو جمائمہ یہ زمین اپنے پاس نہیں رکھ سکتی تھیں اور نہ ہی یہ بچوں کے نام ہوسکتی تھی۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ جو ثبوت آپ نے عدالت میں پیش کیے ان کے مطابق جمائمہ کو راشد خان نامی شخص کے ذریعے ادائیگی کی گئی تو انھوں نے کہا کہ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ وہ مسلسل برطانیہ کے دورے پر تھے لہذا راشد خان نے اقساط میں یہ رقم جمائمہ تک پہنچائی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ بھی ہوا اس میں ایک چیز بھی ایسی نہیں جوکہ غیر قانونی ہو، سب کچھ حلال کی رقم سے خریدا گیا اور جیسے ہی میرا فلیٹ فروخت ہوگیا، جمائمہ کو رقم ادا کردی گئی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے کہا ہے کہ کرپشن کرنے والے آج پوری قوم کے سامنے ننگے ہو چکے ہیں، وزیراعظم کے جھوٹ سے پردہ اٹھ گیا ہے اب چند دنوں میں پانامہ کیس ختم ہو جائے گا اور قوم کو جس فیصلے کا انتظار ہے وہ آ جائے گا۔ عدالت کا فیصلہ کرپشن کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا اور نواز شریف اپنے عہدے پر تعینات نہیں رہ سکیں گے۔ نعیم الحق نے کہا وزیراعظم کے وکیل سلمان بٹ نے کھلی عدالت میں تسلیم کیا ہے کہ ان کے پاس 80کی دہائی میں ہونے والے معاملات کے کاغذات نہیں ہیں۔ انہوں نے عدالت میں یہ جھوٹ بھی بولا کہ 80 کے دور میں مواصلات نہیں ہوتی تھیں، انہوں نے عدالت کو بتانے کی کوشش کی کہ جیسے 1980, 1780 یا 1880اور پتھر کا زمانہ ہے۔ عدالت نے مسلسل استفسار کیا لیکن سلمان بٹ جواب نہیں دے پائے اور بار بار ناکام سہارا لینے کی کوشش کی کہ اس زمانے میں ان چیزوں کا ریکارڈ نہیں رکھا جاتا تھا۔ کرپشن کرنے والے آج پوری قوم کے سامنے ننگے ہو چکے ہیں، اتنی دستاویزات، شواہد اور تضادات سامنے آ چکے ہیں کہ اب ثابت کرنے کیلئے کچھ رہا ہی نہیں کیونکہ پہلے ہی سب کچھ ثابت ہو چکا ہے اور اب انہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات غلط ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چند دنوں میں کیس ختم ہو جائے گا اور قوم جس فیصلے کا انتظار کر رہی ہے وہ بہت جلد آ جائے گا۔ اس موقع پر فواد چوہدری نے کہا کہ سماعت کے دوران سلمان اکرم بٹ کے دلائل میں نہ جانوں، مجھے نہیں پتہ، ابا جی نے کیا ہے والے تھے، وہ سیدھی سیدھی عدالت سے رحم کی اپیل کرنے جا رہے ہیں اور اب ان کے پاس قانون کی بات نہیں رہی۔ سربراہ عوام مسلم لیگ شیخ رشید نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے عدالت سے انصاف ملے گا۔ سراج الحق کی عزت کرتا ہوں مگر انہیں قوم اور عوام کے ساتھ چلنا چاہئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔