ویب سائٹ کے لے آؤٹ میں تبدیلی


0محترم قارئین۔

گزشتہ تین ہفتے کے اعداد و شمار سے ہمیں یہ علم ہوا ہے کہ ‘ہم سب’ کے تقریباً آدھے سے زیادہ قارئین اسے پڑھنے کے لئے موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔ ان کی سہولت کی خاطر ہم نے ویب سائٹ میں چند بنیادی تبدیلیاں کی ہیں۔

کمپیوٹر میں بائیں طرف ہم ‘بلاگ’ اور کالم لگایا کرتے تھے۔ بدقسمتی سے موبائل فون پر یہ سب سے نیچے نظر آتے تھے۔ اس لئے اب بلاگ اور کالم کا سیکشن ہم نے مین پیج پر ہیڈ لائن کے نیچے منتقل کر دیا ہے۔ اب موبائل پر یہ سب سے اوپر نظر آتا ہے۔ اس سے پہلے صرف مختصر سا ہیڈ لائن کا سیکشن ہوتا ہے۔

کمپیوٹر کے قارئین کو زیادہ سکرول کرنے کی زحمت سے بچانے کی خاطر ہم نے فرنٹ پیج پر کالم اور بلاگ کا سائز بھی چھوٹا کیا  ہے۔ اگر آپ اسے پڑھنے میں زحمت محسوس کرتے ہیں تو ہمیں مطلع کریں تاکہ ہم اسے دوبارہ بڑا کرنے پر غور کریں۔

کیا آپ نئے ویب سائٹ لے آؤٹ سے مطمئین ہیں یا پرانے لے آؤٹ کو بہتر سمجھتے ہیں؟

ہمیں آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔ ہم سب مل کر ہی اپنی ویب سائٹ کو بہتر بنا سکتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “ویب سائٹ کے لے آؤٹ میں تبدیلی

  • 03-02-2016 at 7:01 pm
    Permalink

    پرانے والے لے آوٹ کی عادت سی ہو گئی تھی اس لئے وہ زیادہ اچھا لگتا ہے یہ پیچیدہ بہت ہے سمجھ کم آتا ہے میرا خیال ہے وہ پہلے والا دوبارہ چلایا جائے –

    • 03-02-2016 at 9:26 pm
      Permalink

      کس وجہ سے پیچیدہ لگتا ہے؟ چھوٹے باکسز کی وجہ سے؟ کیا ایک سکرین پر زیادہ مواد پریشان کر رہا ہے؟

  • 03-02-2016 at 7:16 pm
    Permalink

    Good changes. More changes required.
    1. Write up is important not pic. Pic need to be smaller size and may be face close up is enough
    2. In comments section, bi-lingual option should be available
    3.An Icon for Archive section (Date wise) may be shown in top line

  • 03-02-2016 at 7:46 pm
    Permalink

    اچھی کاوش ہے ۔۔! لیکن ایک مسئلہ ہے بس فیس بک یا جی میل کے زریعے ویبسائٹ پر سائن ان آوٹ کا آپشن اگر شامل کر دیا جائے تو سونے پر سہاگہ۔۔ ہمیں ہر بار میل لکھنی پڑتی ہے ۔۔ اس جنجھٹ سے چھٹکارا مل جائے گا اور آسانی سے کمنٹ کرنے میں آسانی ہوگی

    • 03-02-2016 at 9:27 pm
      Permalink

      آپ فیس بک پیج پر بھی جو کمنٹ کریں، وہ پوسٹ میں خود بخود آ جاتا ہے۔ لیکن ہم اس فیچر کے بارے میں سوچیں گے۔

Comments are closed.