پاناما کیس؛ تحقیقاتی کمیشن کا قیام ہمارا صوابدیدی اختیار ہے، سپریم کورٹ


\"supreme-court\"

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کمیشن کا قیام ہمارا صوابدیدی اختیار ہے۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے موقف اختیار کیا کہ پاناما لیکس پر کسی کمیشن کی تشکیل منظور نہیں ، ہم نے کیس کا فیصلہ عدالت پر چھوڑ دیا ہے ، عدالت اس حوالے سے کیس کا جو بھی فیصلہ دے گی ہمیں قبول ہوگا، پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنا تو اس کا بائیکاٹ کریں گے۔

نواز شریف کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ حسن اور حسین اوورسیز پاکستانی ہیں،  عدالت سمجھے تو ہم تحقیقات میں رکاوٹ نہیں بنیں گے، کمیشن کی تشکیل یا خود سماعت سے متعلق عدالت جو فیصلہ کرے گی ہمیں منظور ہو گا۔

چیف جسٹس نے وزیر اعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ سے استفسار کیا کہ سلمان بٹ صاحب، آپ کو کمیشن کے قیام کے سلسلے میں کیا ہدایات ملی ہیں، سلمان اسلم بٹ نے جواب میں کہا کہ عدالت جو چاہے فیصلہ کرے ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن دوسری جانب سے کمیشن بنانے سے انکار سامنے آیا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ دوسرے فریق کو چھوڑیں آپ اپنا موقف بتائیں، سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اب تک وزیراعظم کے خلاف کوئی ثبوت ریکارڈ پر نہیں، کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کرے یا کمیشن بنائے جائے ہمیں ہر فیصلہ قبول ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نہیں چاہتے کہ جس کے خلاف فیصلہ آئے وہ کہے کہ ہمیں نہیں سنا گیا۔ اگر فیصلہ دیا کہ دستاویزات درست ہیں تو دوسرا فریق کہے گا صفائی کا موقع نہیں ملا، کمیشن کا مقصد یہ ہے کہ بعد میں کوئی یہ نہ کہے کہ کیس ثابت کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ریٹائر ہورہا ہوں، فل کورٹ ریفرنس کے بعد کسی بینچ میں نہیں بیٹھوں گا، پاناما کیس کی سماعت ازسرنو ہوگی۔ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔ اب کیس کی سماعت نیا بینچ کرے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments