پی آئی اے …. معیشت پر سیاست نہ چمکائی جائے


zeeshan hashimکہتے ہیں ریاست کو خدائی کے درجے پر فائز کرنے والے ہمیشہ خوار ہوتے ہیں – ایک وقت تھا جب پاکستان کا صنعتی ڈھانچہ اور معاشی بندوبست ایشیا کا بہترین نمونہ سمجھا جاتا تھا – ایسا نہیں کہ سب کچھ سو فیصد درست تھا اصلاحات کی یقیناً ضرورت تھی اور دنیا کی ہر معیشت کو اس کی ضرورت ہوتی ہے مگر ریاست نے سارے عوام کی خدائی کا ذمہ لینے کی کوشش میں سارے معاشی نظام کو اکھاڑ پھینکا اور ساری معاشی تنظیم کو اپنی ملکیت میں لے لیا –

کہتے ہیں محض اچھی نیت سے اچھے نتائج نہیں برآمد ہوتے ، بلکہ اچھے نتائج کے لئے اچھا عمل بھی ضروری ہے – بھٹو صاحب کی معاشی پالیسیوں نے معیشت کی جڑیں ایسی کھوکھلی کیں کہ پوری معیشت بے آسرا اور بے سہارا ٹھہری -ریاست کاروبار نہیں کر سکتی ، اگر کرے گی تو کرپشن ، نااہلی ، سیاسی مداخلت ، بد انتظامی اور اقربا پروری کا راستہ کھل جائے گا – یہ سب کچھ ہم عملی تجربات کے نتائج میں دیکھ چکے ہیں اور ہنوز سرکاری ملکیت میں چلنے والی کمپنیوں کی صورت میں بھی دیکھ رہے ہیں – تقریبا سارے حکومتی کاروباری ادارے خسارہ میں ہیں اور خسارہ کی ادائیگی کہاں سے ہو رہی ہے ؟ عوام کے ٹیکسز سے – زیر نظر چارٹ کو دیکھئے کہ حکومتی اخراجات کا کتنا بڑا حصہ محض ان ناکارہ اداروں کا خسارہ پورا کرنے پر خرچ ہو رہا ہے – جس وقت کاروباری ادارے ریاستی ملکیت میں لئے جا رہے تھے اس وقت جن لوگوں نے اس عمل پر احتجاج کیا وہ ریاستی طاقت کے سامنے غدار ٹھہرے اور اب جو لوگ ان کاروباری اداروں کو نجی ملکیت میں دیے جانے پر احتجاج کر رہے ہیں وہ معتوب و مغضوب ہیں اور ان پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں –

12666514_1270379462979543_1179040205_n

ابھی پچھلے دور حکومت کی ہی بات ہے جب پیپلز پارٹی پی آئی اے کی نجکاری چاہتی تھی تو میاں صاحب اس کے بڑے مخالف تھے – مسلم لیگ کی قیادت سڑکوں پر آئی اور نجکاری نامنظور کے نعرے لگائے گئے – میاں صاحب نے ایک ٹی وی انٹرویو میں فرمایا تھا کہ موجودہ حکومت کو کاروباری ادارے چلانا نہیں آتے ، جب ہم آئیں گے تو انہیں چلا کر دکھائیں گے – اب ان کی حکومت کا وفاقی وزیر نجکاری فرما رہا ہے کہ ہم نے ڈھائی سال سرتوڑ کوشش کر لی مگر ادارے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے قابل نہیں بنا سکے – دوسری طرف گزشتہ دور حکومت میں نجکاری کی خیرخواہ پیپلز پارٹی اب نجکاری کی بدخواہ بن چکی ہے – درمیان میں عوام ہیں اور ان کے جذبات ، جنہیں پنڈولم میں ایسا لٹکا دیا گیا ہے کہ وہ کبھی دائیں طرف کو گرتے ہیں تو کبھی بائیں طرف – معیشت کوئی راکٹ سائنس نہیں ، یہ ایک پیچیدہ اور منظم سائنس ہے – معاشی بندوبست محض حسن نیت نہیں بلکہ حسن انتظام کا نام ہے – کل تک آپ جس چیز کے خیرخواہ تھے آج اس کے خیرخواہوں پر گولی چلا رہے ہیں ، آخر کیوں؟ آج پیپلز پارٹی جن جذبات کو ہوا دے رہی ہے کل وہی جذبات جب اس کے مدمقابل ہوں گے تو کیا انہیں بھی گولی سے اڑا دیا جائے گا ؟ آخر ہمارے سیاست دان اس بصیرت کا مظاہرہ کرنے میں کیوں ناکام ہیں کہ وہ معیشت جیسے پیچیدہ مسائل کو عوامی جذبات سے دور رکھیں ؟

آج پی آئی اے کا کل قرض تین سو بلین روپے سے زائد ہے – ہر سال کا خسارہ بیس سے تیس بلین روپے ہے – یہ کاروباری ادارہ انیس سو اسی سے خسارہ میں ہے جب صاحب تقویٰ ضیاالحق کی اس ملک پر حکومت تھی – کارکردگی میں گراوٹ بھٹو صاحب کے اقتدار سے ہی شروع ہو گئی – اس وقت پی آئی اے کے ہر ایک جہاز کے لئے عملہ سات سو کے لگ بھگ ہے – اتنی تو جہاز میں نشستیں بھی نہیں ہوتیں – عالمی معیار ایک سو پچاس سے دو سو ہے – ہمارے خطہ کی مثالی ایئر لائن امارات کا عملہ فی اایئرکرافٹ دو سو بیس افراد پر مشتمل ہے – جب بھی پی آئی اے میں عملہ کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، یونینز ہڑتال کر دیتی ہیں یا مطلوبہ بندہ عدالت سے سٹے آرڈر لے لیتا ہے –

ابھی حال ہی کی بات ہے کہ انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ ایمسٹرڈم کے لئے پروازیں شروع کی جائیں – سٹیشن مینیجر نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور عدالت جا پہنچا اور سٹے لے لیا – مقدمہ عدالت کے سپرد ہے اور فیصلہ کٹھائی میں –

اب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ پی آئی اے کے 26 فیصد اثاثے نجی ملکیت میں دینا چاہتی ہے – بقیہ اکثریتی اثاثے اسی کے پاس ہی رہیں گے چنانچہ کنٹرول بھی حکومت کا ہی رہے گا – اس طرح حکومت چاہتی ہے کہ پی آئی اے کے لئے زیادہ سے زیادہ انویسٹمنٹ حاصل کی جائے ، یوں ادارہ مزید پھیلے گا اور عملہ کو (جو ضرورت سے چار گنا زائد ہے) کام میں بھی لایا جا سکے گا – بالفرض اگر لوگ پی آئی اے سے بے روزگار بھی ہوتے ہیں تو کیا پاکستان میں نوے فیصد سے زائد روزگار مارکیٹ میں نجی سیکٹر نہیں دے رہا؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں کاروبار کے مواقع میں بہتری لائی جائے تو روزگار کے مواقع میں بھی مزید اضافہ ہو گا – پورے ملک کی لیبر فورس کو حکومت خود روزگار نہیں دے سکتی – پوری دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہو رہا –

مگر جس طرح سے اس معاملہ کو حل کیا جا رہا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے – جمہوری حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ریاستی انتظام کے تمام معاملات تمام فریقین سے بذریعہ گفت و شنید حل کئے جائیں -احتجاج پر گولی کا ریت رواج آمریت کا خاصہ ہے – جمہوریت کی تو نظریاتی اساس ہی اس نکتہ پر قائم ہے کہ ایک ریاست کے تمام لوگ باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے اپنے جملہ سیاسی مسائل حل کر سکتے ہیں – دو انسانوں کا قتل ایک آمرانہ اقدام ہے اور اس کے ذمہ داران کو سزا ملنا انصاف پر مبنی ایک ریاستی بندوبست کے لئے ازحد ضروری ہے –

مسئلہ کا صرف یہی حل ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں اس پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں – پاکستان کے بیورو کریٹک کلچر میں ایسا ممکن ہی نہیں کہ ریاست کوئی کاروباری ادارہ نفع میں چلا سکے- باوجود سخت ترین ضابطوں کے سوویت یونین کی بیوروکریسی پورے ملک کے کاروباری اداروں کو نفع میں نہیں چلا سکی اور تمام نظام دھڑام سے زمین پر آ گرا تھا تو یہ پاکستان میں کیسے ممکن ہے ؟ ہوش مندی کا مظاہرہ کیا جائے – لیبر یونینز کے نمائندوں کو میز پر لایا جائے اور مذاکرات کئے جائیں – انہیں احتجاج کا حق ہے تو حکومت کو بھی حق ہے کہ عوام کے لئے جس کام کو بہتر جانے اس پر عمل کرے ، مگر احتیاط سے – بد نظمی ریاست کی جڑیں کھود ڈالتی ہے – مسئلہ کو تمام فریقین کی خوش اسلوبی سے حل کیا جائے –


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

One thought on “پی آئی اے …. معیشت پر سیاست نہ چمکائی جائے

  • 04-02-2016 at 5:02 am
    Permalink

    میری ایک دو گزارشات ہیں جس پر میرے خیال میں بات ہوسکتی ہے، آپ چونکہ معاشیات کی شدہ بدھ رکھتے ہیں سو میں چاہوں گا آپ سے یہاں تبادلۂ خیال کر لوں…
    ایک تو یہ کہ ٹرانسپریسی یا شفافیت سے یہ عمل ہونا چاہیے، کھلے عام بڈنگ ہو، بین الاقوامی اداروں کو مدعو کیا جائے نہ کہ کسی اومانی بحرینی کمپنی کو سٹریٹجک پارٹنرشپ اپوزیشن کے بغیر پارلیمنٹ میں پاس کیے گئے بل کے تحت دی جائے.
    نیز وہ حکومت جو الیکشن ہی اداروں کو کاروباری طور پر چلا کر آئی تھی اور اس کا الیکشن منیفسٹو ہی اداروں کو بیچنے سے بچانا تھا اور جو ماضی میں نجکاری کی مخالفت کھل کر کرچکے ہوں جبکہ یہ لوگ کوئی نا تجربہ کار بھی نہیں تھےکہ حکومت میں آکر ایکدم احساس ہوا کہ آٹا ڈال کس بھاؤ ہے… یہ بات ہی اس سارے عمل کو مشکوک بنا دیتی ہے.
    مزید یہ کہ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اگر جب ادارہ نجی تحویل میں دیا جائے گا تو اس کے ملازمین کا کیا ہوگا، یہ بات کیا بعد میں حکومت نے طے کرنی ہے کہ ملازمین کا کیا بندوبست کیا جائے جبکہ بعد میں انتظامیہ حکومت کے پاس نہیں رہے گی، سو انسانی پہلو کو بلکل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا.
    اب آتے ہیں معاشی پہلو پر جہاں بہرحال آپ کی رائے کا انتظار رہے گا. ماضی میں چند مواقع پر ادارے جب نجی تحویل میں دیے گئے ہیں اس سے بہتری کی بجائے ابتری اور اجاراداری کی فضا پیدا ہوئی ہے. پی ٹی سی ایل کی مثال سامنے ہے، پی ٹی سی ایل انڈسٹری کے ٹائٹینک جتنا جثہ رکھتا تھا اور محض اس کی وجہ سے پاکستان ایک عشرہ پیچھے رہا کیوں کہ یہ ادارہ باقی اداروں کو کاروبار سے باہر رکھتا ہے. یہی دیکھ لیجیے کہ تھری جی اور فور جی کے لائسنسوں میں دیری کے پیچھے بھی کہا جاتا رہا ہے کہ اسی ادارے کا ہاتھ ہے. ذاتی تجربہ رہا ہے کہ ایک ٹریننگ کے دوران بتایا گیا کہ وائی میکس ٹیکنولوجی جو اب تو پرانی ہوچکی ہے اس میں جو انٹرنیٹ کی بینڈ وڈتھ ہم عشرے تک لیتے رہے ہیں اس میں پی ٹی اے کی طرف سے جو حد دی گئی تھی دو ایم بی (ایک عرصے تک اس سے زیادہ کی اجازت نہیں تھی) کی اس کے پیچھے بھی پی ٹی سی ایل کی اجارہ داری قائم کرنے کی وجوہات تھیں اور اسی لیے انٹر نیٹ کے میدان میں مزید سرمایہ داری نہ ہوسکی، سو جب معاملات شفاف نہ ہوں تو ایسی صورتحال مارکیٹ کو بہتری کی بجائے ابتری کی جانب لے جاتی ہے.
    کے ای ایس سی کی مثالیں کراچی والے دیتے ہیں کہ کیوں اس کی نجکاری سے بہتری پیدا نہ ہوئی. تو جب مارکیٹ میں اگر میں ہی اکیلا رانجھا ہوں اور گلیاں بھی سنسان اور منافع بھی چوکھا تو مجھے کیا پڑی کہ بہتری لاؤں، اور بہت سے عوامل کے ساتھ ساتھ مارکیٹ جائنٹ اور مسابقت کا نہ ہونا بھی ہے.
    اسی طرح اگر ہم کل کو پی آئی آئے کی نجکاری کرتے ہیں تو یہ مارکیٹ کی دوسری ایئر لائنز کو بھی کھا جائے گا کیوں کہ کوئی اور کمپنی فلوقت اسکے انفراسٹرکچر اور کیپٹل کا مقابلہ نہیں کر سکتی.
    میرا مدعا یہ ہے کہ ہمیں اس بحث کی بجائے کہ نجکاری ہونی چاہیے کہ نہیں کی بجائے ریفارم اور ٹرانسپریسی کی بات کرنی چاہیے.
    ایک اور بات جو بہت دلچسپ ہے کہ اوپر کے چارٹ میں جو سبسڈیز ہیں وہ 137 ارب ہیں جو اٹھارہ کروڑ کے قریب عوام کو جانی ہیں اور فوج کی پنشن جو چند لاکھ کو جانی ہے وہ 174 ارب ہے… اس پر کوئی رونا نہیں روتا.

Comments are closed.