کس سے منصفی چاہیں؟


obaidullah Khanہمارے ایک کہنہ مشق صحافی جو ایک موقر روزنامے سے منسلک ہیں اور ان کی تحریریں اکثر اس روزنامے کی زینت بنتی ہیں۔ انہوں نے یکم فروری 2016کے شمارے میں شائع ہونے والی تحریر میں تبلیغی جماعت پر تعلیمی اداروں میں داخلے پر لگنے والی حالیہ پابندی پر طبع آزمائی فرمائی ہے۔ موصوف جو اسی قسم کی اسلامیانہ ( اسلامی نہیں) تحریریں لکھنے میں اپنی ایک پہچان رکھتے ہیں۔ ان کی اس تحریر پر کچھ لکھا گیا ہے۔

موصوف لکھتے ہیں کہ ”اسلام کے نام پر شدت پسندی اور دہشت گردی کرنے والوں نے دراصل پاکستان میں سیکولرازم اور لبرل ازم کے ایجنڈے کو مضبوط کیا۔“ قطع نظر اس کے کہ ان کے نزدیک اسلام کی کیا تشریح ہے یا موصوف سیکولرازم کو کس شرح سے بدنام کرتے ہیں، خاکسار کو ان کے ان الفاظ سے مکمل اتفاق ہے۔ یہ درست ہے کہ اگر نام نہاد اسلام کے نام پر شدت پسندی اور دہشت گردی نہ کی جاتی تو شاید عوام کو اس امر کا اندازہ ہی نہ ہوتا کہ ہمارے ملک میں اسلام کے نام لیواملاں جس بیانیے اور شرح کو اسلام کے نام پر فروغ دے رہے ہیں اس کا نتیجہ کس قدر بھیان ک ہے؟ لہٰذ ااس کا ایک فائدہ تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی نے پتھر چاٹ لیا ہے اور اب واپسی کی راہ لی ہے۔ اور اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ ملاؤں کے اس مذہبی بیانیے کو جسے وہ اپنی طاقت منوانے کے لئے اس ملک میں اسلام کے نام پر نافذ کرنا چاہتے ہیں ،نے ہی ہمارے معاشرے کو ان کے بتائے ہوئے راستے کی منزل دکھا کر واپس پلٹنے اور سیکولرازم کی طرف قدم اٹھانے پر مجبور کرنا ہے۔ یہ وہ قدرتی تبدیلی ہے جس پر معاشرے ایک ارتقائی عمل کے نتیجے میں جو کہ انسانی معاشرے کی بقا کے لئے ضروری ہوتا ہے، کی طرف خود بخود اور غیر محسوس طریق پر سفر کرتے ہیں۔ وقت کا تعین حالات و واقعات کرتے ہیں۔

موصوف اپنی تحریروں میں ایک مجاہد کی طرح ہمیشہ ہی اسلام کے نفاذ اور سیکولرازم کے خلاف پرچار کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان کو نفاذ اسلام کی حقیقت کا ادراک ہے نہ ہی سیکولرازم کی حقیقی تعریف ان پر آشکار ہے۔ نفاذ اسلام کے لئے ان کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ چھت پہلے ڈال دی جائے اور دیواریں بعد میں بنتی رہیں گی۔ کیونکہ موصوف برصغیر کی ایک مشہور سیاسی جماعت جو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے اسلام کو تختہ مشق بناتی ہے، کے فلسفے سے متاثر ہیں۔ کسی بھی مذہب کے نفاذ کا ذریعہ حکومت نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی مذہب ریاست کے لئے ہوتا ہے۔ مذہب انسانوں کے لئے ایک فلسفہ حیات ہے ریاست کے لئے نہیں۔ لیکن چونکہ ریاست انسانوں کے ایک مجموعے کا نام ہے اس لئے اگر کسی ریاست کے افراد ایک بڑی اکثریت میں کسی ایک ہی مذہب کے پیروکار ہوں اور اس ریاست میں جمہوریت بھی قائم ہو تو اس مذہب کے افکار اور تعلیمات کا ایک رنگ ناگزیر طور پر اس ریاست کے معاملات پر بھی غالب نظر آئے گا۔ مگر یہ محض اس وجہ سے ہوگا کہ افراد اپنی ذاتی حیثیت میں ایک فلسفہ کو درست سمجھتے ہیں اور اسے من حیث القوم جمہوری انداز میں اپنے پر لاگو کرنے میں رضاکارانہ طور پر تیار ہیں۔ چونکہ پاکستان میں اکثریت مسلمان آبادی پر مشتمل ہے لہٰذا آپ چاہے سیکولرازم کو اپنی حقیقی روح میں نافذ کربھی دیں تو یہاں کی پارلیمنٹ جو عوام کی ہی نمائندہ ہوگی کبھی بھی کسی فرد کو چار سے زائد شادیوں کی اجازت نہیں دے سکتی۔ اسی طرح یہاں ہم جنس پرستی کا قانون نافذ ہونا بھی ممکن نہیں ۔ پھروہ کونسا اسلام ہے جسے آپ مزید نافذ کرنا چاہتے ہیں؟ جہاں تک آپ کو تبلیغی جماعت کے یونیورسٹیوں میں داخلے پر پابندی پر اعتراض ہے تو جناب میں اگر آپ سے یہ سوال پوچھوں کہ آپ ذرا دینی مدارس میں سائنس، قانون ، انجینئرنگ اور جدید سیکولر تعلیمات دینے کا آغاز کیجئے تو آپ کا جواب یقیناً یہ ہوگا کہ جناب وہ دینی درسگاہیں ہیں۔ ایسی تعلیمات کے لئے تو دیگر کالج اور یونیورسٹیاں پہلے سے موجود ہیں۔ گوکہ ہمارا نقطہ نظر ہے کہ اگر دینی مدارس میں دین کی ہی تعلیم دینی ہے تو اس سے قبل سکول کی ابتدائی سیکولر تعلیم بھی لازم ہے اس کے بعد چاہیں آپ دینی تعلیم کی درسگاہ میں طلبا کو دین کی تعلیم دیں اور یہ بھی درست کہ وہ سیکولر تعلیمات کی جگہ نہیں لیکن پھر یہ اصول یونیورسٹیوں اور سیکولر تعلیم کے دوسرے اداروں پر لاگو کیوں نہیں۔ وہاں پھر دینی تبلیغ کا کیا مقصد؟ چلو مان لیا کہ آپ اپنے مذہب کا پرچار کرنے میں آزاد ہیں۔ مگر کسی ادارے کی حدود میں اس طرح بے محابا اور بلا اجازت وفد بنا کر جانا اور وہاں قیام کرنا کس طرح درست ہوگیا؟

جہاں تک آپ کو اسلامی تشخص کے خاتمے اور اس کا مذاق اڑنے کا فکر ہے تو جناب جب تک پاکستان میں مسلمان اکثریت میں ہیں اس وقت تک نہ یہاں سے اسلام ختم ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کا تشخص۔ ہاں جس طرز فکر اور تشخص کا ختم ہونا آپ کے مطابق کسی بیرونی یااندرونی طاقت کا مطمح نظر ہوسکتا ہے تو وہ وہ ہے جسے اسلام کے نام پر اسلام کہہ کر نافذ کردیا گیا ہے۔ جس میں اسلام کی انسانی تشریحات کو وحی کا درجہ دے کر اسلام قرار دے گیا ہے۔ جس کی رو سے توہین رسالت کی سزا موت ہے۔ جس کی رو سے انسا ن کے ہی بنائے ہوئے توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کو گویا مذہب میں تبدیلی قرار دے دیا جاتا ہے۔ جہاں زنا بالجبر میں مجرم کو چار گواہوں کے بنا آپ سزا دینے کو تیار نہیں۔ جہاں مسجد کے منبر سے ایک ہونے والے ایک اعلان پر دن دہاڑے انسانوں کو اینٹوں کے بھٹے میں جھونک دیا جاتا ہے۔ جہاں اسلام کی مسلکی تشریح سے روگردانوں کو اسلام کا ہی منکر قرار دے دیا جاتا ہے۔ تو جناب ہم اسے آپ کی ذاتی تشریح کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتے اور جس طرح آپ کو یہ تشریح رکھنے کا پورا حق ہے اسی طرح ہمیں بھی اس سے اختلاف کا اسی طرح حق ہے۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ دراصل یہی وہ اسلام کی تشریح ہے جس نے آج فرقہ بازی اور تکفیر کا بازار گرم کررکھا ہے۔ اور دراصل یہی وہ انداز فکرہے جس نے اسلامی تشخص کو نہیں بلکہ عدم برداشت اور انتہا پسندی کے تشخص کی آبیاری کی ہے۔ اور اسی تشخص کو دراصل خطرہ لاحق ہے۔ کسی اور سے نہیں بلکہ خود معاشرے کے اپنے ارتقائی عمل سے۔

اور ہم اس اسلام کو درست سمجھتے ہیں جس کے تحت سب سے پہلی بستی جو فتح کی گئی تھی وہ کسی تلوار نے نہیں بلکہ حسن تعلیم نے فتح کی تھی۔ جس کا نام مدینہ تھا اور جو اسلام کی پہلی آزاد اور خود مختار ریاست صرف اس لئے بن گئی تھی کہ وہاں کے لوگوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرلیا تھا یا اپنی آزاد مرضی سے اس ریاست کا حصہ بننا قبول کرلیا تھا۔ اور پھر وہ اسلام ہی اصل اسلام ہے جس کے تحت میثاق مدینہ میں یہودیوں کو بھی برادری کہا گیا تھا۔ اس لئے نہیں کہ وہ یہودی تھے۔ بلکہ اس لئے کہ وہ ریاست کے برابر کے شہری تھے۔ اصل اسلام وہ ہے جہاں مسیحیوں کو بھی مسجد میں نہ صرف ٹھہرایا جاتا تھا بلکہ ان کو اس میں عبادت کی اجازت بھی دی جاتی تھی۔ وہ اسلام جس میں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی حفاظت بھی اسی طرح کی جاتی تھی جیسے مسجد کی۔ جس کی بنیادی تعلیمات لکم دینکم ولی دین اور لا اکراہ فی الدین ہیں۔ جس میں خاتم النبیین ﷺ کو بھی مذکر یعنی نصیحت کرنے کا حکم دینے کے ساتھ کہا گیا کہ تو ان پر داروغہ نہیں ہے۔

لہٰذا ہمیں تو اس مملکت خدادادمیں اسلام کا مستقبل روشن نظر آتا ہے۔ نہ جانے آپ کو تاریک کیوں نظر آنے لگا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ جسے اسلام سمجھتے ہیں دنیا اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “کس سے منصفی چاہیں؟

  • 03-02-2016 at 10:35 pm
    Permalink

    Well done brother. Whatever you have said is really a truth which is denied by a large section of our society

  • 03-02-2016 at 11:35 pm
    Permalink

    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔۔۔۔۔
    اور پڑھتے ہوئے میری کیفیت تھی کہ
    میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔
    حد ہو گئی ہے جناب۔ آپ اکثر کیں نہیں لکھتے؟

Comments are closed.