جنید جمشید اور ڈاکٹر عبدالسلام


\"khursheed-nadeem\"

مذہب اپنی اصل متاع سے محروم ،محض ایک عصبیت رہ گیا۔ ہر نیا واقعہ اس تلخ حقیقت کو نمایاں تر کر رہا ہے۔ جنید جمشید اور ڈاکٹر عبدالسلام کا قضیہ اس کے سوا کیا ہے؟
جنید جمشید کا تعلق تبلیغی جماعت سے تھا۔ برسوں پہلے تبلیغی جماعت پر ایک علمی کتاب شائع ہوئی تو اس کا عنوان تھا: \’\’Travelers in Faith ‘‘ ۔۔۔۔ راہِ مذہب کے مسافر۔ کیا اچھا نام ہے جو ان مسافروں کے لیے چنا گیا۔ جنید بھی اسی راہ میں گھر سے نکلے اور آخری منزل کو روانہ ہو گئے۔ تبلیغی جماعت نے دیو بندی مسلک کی کوکھ سے جنم لیا۔ تاہم یہ لوگوں کو کسی مسلک کی طرف نہیں، دین کی طرف بلاتے ہیں۔ ان کا اصل کام تذکیر ہے۔ زیادہ تر اہل اسلام کو یاد دہانی کہ دین ان سے کیا مطالبہ کرتا ہے۔ ہم اسے تجدید ِایمان کی دعوت بھی کہہ سکتے ہیں۔
اس دعوت کے بنیادی نکات میں کوئی نکتہ ایسا نہیں جسے مسلکی کہا جا سکے۔ یہ لوگ عام آدمی کو اس کی دینی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ تفصیلات میں اگرچہ قیل و قال کی بہت گنجائش ہے مگریہ اس کا موقع نہیں۔ عام آدمی کو اس سے کچھ ایسی دلچسپی بھی نہیں۔ اُسے اگر نماز اوردیگر فرائض کا پابند بنا دیا جائے تو اس میں کیا خرابی ہے؟ ہونی نہیں چاہیے مگر ہے۔ خرابی یہ ہے کہ جو جماعت یہ کہہ رہی ہے کہ اُس کا تعلق ایک خاص مسلک سے ہے، دوسرا مسلک اسے کیسے قبول کرے جب دین نام ہی مسلکی عصبیت کا ہو؟
جنید جمشید کو اسی مسلکی عینک سے دیکھا گیا۔ چند ماہ پہلے اسے ایک ٹیلی وژن پروگرام کو بنیاد بنا کر تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ الفاظ کے انتخاب میں بے احتیاطی ہو سکتی ہے لیکن کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کے بارے میں کیسے گمان کر سکتا ہے کہ وہ ام المومنین سیدہ عائشہؓ کی شان میں دانستہ کسی گستاخی کا ارتکاب کر سکتا ہے؟ مذہب جب مسلکی عصبیت کا عنوان بنتا ہے تو یہ بد گمانی روزمرہ بن جاتی ہے۔ توہینِ رسالت کے زیادہ تر مقدمات وہ ہیں جو مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف قائم کر رکھے ہیں۔
جنید جمشید کی موت حادثاتی تھی۔ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ وہ اﷲ کی راہ میں نکلے تھے۔ مذہب اگر اخلاق کا نام ہوتا ہے تو امکان نہیں تھا کہ اس حادثے کو کسی بد گمانی کی نظر سے دیکھا جاتا۔ حادثاتی موت کو اﷲ کے رسول نے شہادت قرار دیا۔ اور اگر حادثہ بھی اس طرح کا پیش آئے کہ ایک فرد اﷲ کی راہ میں نکلا ہو تو اس کی شہادت پر کیا شبہ کیا جا سکتا ہے؟ اگر کہیںذرہ بھر بھی حسن ِظن ہوتا تو کوئی آواز ایسی نہ اٹھتی جو اخلاق سے فرو تر ہوتی۔ بدقسمتی سے یہ نہیں ہو سکا۔ وہ مسلکی عصبیت کا ہدف بن گئے۔ مذہبی لوگوں میں سے، میںنے ابھی تک صرف دیو بندی علما ہی کا اظہار افسوس دیکھا ہے۔ اس پر اب کتنا افسوس کیا جائے کہ ایک مسلمان کی حادثاتی موت بھی مسلکی عصبیت کی نذر ہو گئی۔
دوسرا واقعہ ڈاکٹر عبد السلام کا ہے۔ اِسے بھی مذہبی عصبیت کی نظر سے دیکھا گیا۔ اگر ایک یونیورسٹی کے شعبۂ طبیعیات کا نام ان سے منسوب ہو گیا تو اس کا مذہب سے کیا تعلق؟یہ ایک سادہ سا واقعہ ہے کہ ایک پاکستانی نے علم کے ایک میدان\’طبیعیات‘ میں غیر معمولی تحقیق کی جسے انسان کے علمی ارتقاء میں ایک اہم قدم سمجھا گیا۔ دنیا کے اہلِ علم نے اعلیٰ ترین سطح پر اس کا اعتراف کیا۔ ہماری حکومت سالوں بعداس کا اعتراف کیا اور ایک ادارہ ان سے منسوب کر دیا۔ ایک شخصی اعزاز ایک مذہب گروہ کا اعزازکیسے بن گیا؟
ایک کالم نگار نے پاکستان کے ساتھ ان کی حب الوطنی کو مشکوک بنانے کی کوشش کی اور بعض مبینہ واقعات کا حوالہ دیا۔ قائد اعظم یونیورسٹی میں فزکس کے ایک سابق معلم، ڈاکٹرعبدالحمید نیر نے ایک ایک الزام کو پورے دلائل کے ساتھ رد کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر کالم نگار نے صاحبزادہ یعقوب خان سے منسوب ایک واقعہ بیان کیا۔ ڈاکٹر نیر نے گواہی دی کہ 1997ء کی ایک تقریب میں، جس میں وہ بھی شریک تھے، صاحبزادہ صاحب نے اسے مکمل جھوٹ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایٹم بم کا ڈیزائن تیار کرنے والے ڈاکٹر ریاض الدین، ڈاکٹر عبدالسلام کے شاگرد تھے۔ پھریہ کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بعد،1976 ء میں ڈاکٹر عبدالسلام نے نتھیا گلی سمر کالج کی بنیاد رکھی، جس نے پاکستان میں سائنس کے فروغ اور سائنس دانوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر اے ایچ نیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب انیس سو پچاس کی دہائی میں انگلستان منتقل ہو گئے تھے۔ 1974ء کے بعد بھی انہوں نے پاکستان کی شہریت ترک نہیں کی۔ یہ بات البتہ قابل فہم ہے کہ جب ریاست پاکستان نے ان کے مذہبی گروہ کو غیر مسلم قرار دیا تو انہیں ملال ہوا ہو گاْ ان کا بد دل ہونا بھی سمجھ میں آتا ہے۔ تاہم اس کے شواہد نہیں ہیں کہ انہوں نے پاکستان کے خلاف کوئی قدم اٹھایا ہو۔ اس کے برعکس،اس کے شواہد ہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان میں سائنس کے فروغ کے لیے جاری سرگرمیوں میں معاون رہے۔
تاریخ کے باب میں سب سے غیر معتبر روایات وہ ہیں جو \’اخبارِ احاد‘ کی صورت میںمنتقل ہوتی رہی ہیں۔ ایک آدمی اپنی خود نوشت لکھتا اور ذاتی حوالے سے کچھ واقعات بیان کرتا ہے۔ اسے کسی تصدیق کے بغیر تاریخ کا بنیادی حوالہ مان لیا جاتا ہے۔ قائد اعظم کے ساتھ ہم نے یہی کیا۔ کوئی پاکستان میں بھارت کے سفیر کی یادداشتوں سے ثابت کرتا ہے کہ قائداعظم سیکولر پاکستان چاہتے تھے کیونکہ سفیر کے بقول قائد نے سفیر سے یہی کہا۔ اس کی روایت کی بنیاد پردیگر تمام شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے قائد اعظم کو سیکولر ثابت کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف ایک صاحب گواہی دیتے ہیںکہ میں نے قائداعظم کو تنہائی میں قرآن پڑھتے اور روتے دیکھا ہے۔ اس روایت کی بنیاد پر ایک گروہ انہیں ایک روحانی اور مذہبی شخصیت ثابت کر رہا ہے۔
ہم قائد اعظم کو حسبِ خواہش ایک روایتی سیاست دان یا پھر اللہ کا ولی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہمارے تیار کردہ لباس ہیں جو ہم ایک خوش قامت کو پہنا رہے ہیں۔ان کے لیے وہی پیرہن موزوں ہے جو ان کی قامت کے مطابق،خود ان کا اپناتیار کردہ ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کے بارے میں ہم اسی غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ چند باتیں ہیں جن کی تحقیق مشکل نہیں۔ مثال کے طور پر کیا کوئی ایسی شہادت موجود ہے کہ انہوں نے 1974 ء کے بعد پاکستان کی شہریت ترک کر دی؟ کیا یہ غلط ہے کہ 1976 ء میں انہوں نے نتھیا گلی سمر کالج کی بنیاد رکھی؟
جنید جمشید اور ڈاکٹر عبدالسلام ، دونوں کے بارے میںجو رویہ سامنے آیا ہے، وہ مذہب کو ایک عصبیت سمجھتا ہے۔ سیاسی عصبیت یا مسلکی عصبیت۔ دوسرے لفظوں میں مذہب ہمارے لیے ایک دیوار ہے جس کی بنیاد پر ہم انسانوں کو تقسیم کر دیتے ہیں۔
مذہب کوئی دیوار نہیں۔ یہ میری ذات کے متعلق ہوتا ہے تو میرا اخلاقی تزکیہ کرتا ہے۔ یہ اجتماعیت سے متعلق ہوتا ہے تو دعوت بن جاتا ہے۔ یوںیہ انسانوں کے درمیان داعی اور مدعو کا تعلق پیدا کرتا ہے۔ یہ اپنی ذات کو اور دوسروں کو جہنم کی آگ سے بچانے کا مشن ہے۔ اس لیے اﷲ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ دین خیر خواہی کا نام ہے۔ افسوس کہ آج دین خیر خواہی نہیں،عصبیت کا نام ہے۔ یہ دشمنی کا عنوان ہے۔ میرا اخلاق اور میرا تزکیہ، سب اس کی نذر ہو گئے۔

اسی بارے میں: ۔  جھگڑا اسلام کی سیاسی تشریح کا ہے

(بشکریہ روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔