پی آئی اے: حکومت کیا پی آئی ہے؟


adnan Kakar

معلوم ہوا کہ پی آئی اے کی نجکاری پر کوئی ہنگامہ ہو رہا ہے تو معلومات حاصل کرنے کے لئے ہم ممتاز سینئیر بیوروکریٹ جناب افسر ذیشان صاحب کے پاس جا پہنچے۔

ہم: افسر ذیشان صاحب، یہ پی آئی اے کا کیا معاملہ ہے؟
افسر ذیشان: کوئی خاص معاملہ نہیں ہے۔ ہم پی آئی اے کی نجاری کرنا چاہتے ہیں، پی آئی اے کے ملازمین ایسا نہیں چاہتے ہیں۔ باہمی افہام و تفہم سے مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔
ہم: سر لیکن ایسی کیا مجبوری آن پڑی ہے کہ اس کی نجکاری کی جائے؟
افسر ذیشان: دیکھیں اس پر تین سو ارب روپے کا قرضہ چڑھ چکا ہے، اور ہر سال اسے تیس ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ یہ عوام کا پیسہ ہے جو اس طرح ضائع ہو رہا ہے۔ اسے بچا کر کسی بہتر مصرف میں لایا جا سکتا ہے۔
ہم: مثلاً کس مصرف میں؟
افسر ذیشان: اس پیسے کی مدد سے مختلف ممالک کے دورے کر کے ہمارے وزرا اور بیوروکریٹ یہ سیکھ سکتے ہیں کہ کیسے ایک ائیر لائن کو منافع بخش بنایا جا سکتا ہے۔
ہم: چلیں عوام کا روپیہ پیسہ تو ہماری افسر شاہی کے اور وزرا شاہی کے ہاتھ کی میل ہے۔ اس کے علاوہ اور کیا وجوہات ہیں؟
افسر ذیشان: دیکھیں اس وقت پی آئی اے کے پاس چونتیس ہوائی جہاز ہیں۔

pia-2
پرانے جہاز کے بدلے کباڑی چائے کے نئے کپ دینے کو تقریباً تیار ہو چکا ہے

ہم: ماشاءاللہ
افسر ذیشان: جن میں سے پچیس اڑ سکتے ہیں۔
ہم: توبہ توبہ۔ باقی نو جہازوں کا آپ نے کیا کرنا ہے؟
افسر ذیشان: ہم انہیں کباڑی کو بیچ رہے ہیں۔ اچھا سودا ہونے کی توقع ہے۔ ان جہازوں کے بدلے میں کباڑی ہمیں چائے کے نئے کپ دینے کو تقریباً تیار ہو چکا ہے۔
ہم: یہ ملازمین کو نکالنے کا کیا معاملہ ہے؟
افسر ذیشان: پی آئی اے کے سٹاف کی تعداد ساڑھے انیس ہزار ہے، جس میں سے تین ہزار کانٹریکٹ پر ہیں۔ یعنی ہر اڑنے والے ہوائی جہاز کی ٹہل سیوا پر کل سات سو اسی افراد معمور ہیں۔ جبکہ امارات ائیر لائنز پر یہ تعداد دو سو بیس افراد اور ترک ائیرلائن پر یہ تعداد محض اکیاسی افراد کی ہے۔
ہم: اتنے لوگ آپ نے بھرتی کیوں کیے تھے؟
افسر ذیشان: یہ حکومت وقت کی پالیسی تھی۔
ہم: اچھا مزید تفصیلات کیا ہیں؟
افسر ذیشان: ساڑھے چھے سو پائلٹ اور دو سو دیگر ماہرین فلائٹ آپریشن کے شعبے میں ہیں۔ ڈھائی ہزار کیبن کریو ہے۔ساڑھے چار ہزار انجینئرنگ میں ہیں۔ بائیس سو مارکیٹنگ میں ہیں۔ بقیہ دوسرے شعبوں میں ہیں مثلاً سٹور، ٹریننگ، میڈیکل، فائنانس، کچن، سیکورٹی وغیرہ۔
ہم: ان میں سے کون سے زاید ہیں؟ ان میں سے کچھ کو فارغ کر دیں۔
افسر ذیشان: ہم نے کوشش کی تھی۔ لیکن پائلٹوں کی پالپا نے ہڑتال کر دی۔ عجیب نامعقول لوگ ہیں۔ کہتے ہیں کہ پائلٹ نکال دیے تو جہاز کون چلائے گا؟
ہم: یہ پائلٹ ہڑتال کرتے ہیں تو غصہ تو ہمیں بھی بہت چڑھتا ہے۔ یہ مانگتے کیا ہیں؟
افسر ذیشان: پریشان کرتے ہیں بس۔ کہتے ہیں کہ بین الاقوامی اور سول ایوی ایشن کے قوانین کے مطابق ان سے ڈیوٹی لی جائے اور بیگار نہ لی جائے۔ ہم کہتے ہیں کہ قوم کی خاطر قربانی دو۔ ڈبل ڈیوٹی کرو۔ وہ نہیں مانتے۔ کہتے ہیں کہ ٹرک ڈرائیور اپنا ٹرک چلاتے ہوئے سو جائے تو تو اتنا نقصان نہیں ہوتا ہے جتنا پائلٹ کے جہاز چلاتے ہوئے سو جانے سے ہو سکتا ہے۔ حالانکہ نقصان ذرہ برابر نہیں ہو گا۔ بلکہ فائدہ ہی ہو گا کہ اتنے تھکے ہوئے سالخوردہ جہاز کے بدلے انشورنس کمپنی سے بہت اچھے پیسے مل جائیں گے۔ مسافروں کے لواحقین کا بھی بھلا ہو جائے گا۔
ہم: افوہ۔ یہ ایسے ہی ڈراتے ہیں یا واقعی ایسا حادثہ ہونا ممکن ہے؟
افسر ذیشان: ایسے ہی ڈراتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ فلانی ائیر لائن کا جہاز اس لئے اسلام آباد میں مارگلہ کے پہاڑوں سے ٹکرا گیا تھا کہ اس کے پائلٹ سے ضابطوں سے زیادہ کام لیا گیا تھا، کبھی کہتے ہیں کہ ڈھمکانی کمپنی کا جہاز اس لئے حادثے کا شکار ہو گیا کہ اس کا پائلٹ سویا ہوا تھا۔ جس کی جہاں لکھی ہے، وہیں آئے گی، خواہ سویا ہوا ہو یا جاگ رہا ہو۔ ان پائلٹوں کا عقیدہ پختہ کرنے کے لئے ان کو مولانا طارق جمیل صاحب کے درس میں بھیجا جانا چاہیے۔
ہم: اچھا یہ کراچی میں کیا ہنگامہ ہوا ہے؟ دو افراد مارے گئے ہیں۔
افسر ذیشان: انہیں کسی نے حکومت کو بدنام کرنے کے لئے مار دیا ہے۔ ورنہ رینجرز کو تو ہم نے صرف ڈنڈے دے کر بھیجا تھا۔ اور پولیس والوں کو تو صرف تسلی ہی دے کر بھیجا تھا۔ انہوں نے تو گولی چلائی ہی نہیں۔ ویسے بھی ربڑ کی گولیوں کی ہوائی فائرنگ سے بھلا کون مر سکتا ہے؟ ساری گولیاں ہوا میں چلائی گئی ہیں اور دعوے وہ یہ کر رہے ہیں کہ کمر میں گولی لگ گئی ہے یا بازو میں لگ گئی ہے یا پیٹ میں لگی ہے۔ جیسے وہ سڑک پر چل نہیں رہے تھے، بلکہ آسمان پر اڑ رہے تھے۔
ہم: بہت ہی جھوٹے ہیں یہ کم بخت۔ یعنی الزام لگا رہے ہیں کہ ڈنڈوں سے کی گئی ہوائی فائرنگ سے ان کے پیٹ میں گولیاں لگی ہیں۔
افسر ذیشان: جھوٹوں کے سردار ہیں یہ نابکار۔ آپ خود یہ تصویر دیکھیں۔ یہ رینجر ڈنڈا مار رہا ہے۔

pia-protest
زنانہ کپڑوں میں ملبوس ایک بہروپئے پائلٹ کو سیدھا کیا جا رہا ہے

ہم: یہ اس پرامن سی خاتون کو کیوں ڈنڈا مار رہا ہے؟
افسر ذیشان: پرامن سی خاتون؟ حضرت آپ کی عقل گھاس چرنے گئی ہوئی ہے کیا؟ یہ پی آئی اے کی ائیرہوسٹس ہے۔
ہم: لیکن ائیرہوسٹس بھی تو خاتون ہی ہوتی ہے نہ۔
افسر ذیشان: دیکھیں آپ غور کریں تو جان لیں گے کہ یہ کوئی عیار و مکار پائلٹ ہے جو کہ زنانہ کپڑے پہن کر ہمیں بدنام کرنے آیا ہوا ہے۔
ہم: اچھا یہ پی آئی اے والوں نے ہڑتال کر دی ہے، تو مسافروں کا بہت برا حال ہے۔ ان کا آپ کیا بندوبست کر رہے ہیں؟
افسر ذیشان: ہم نے نجی ائیرلائنوں کو حکم دیا ہے کہ اپنی پروازوں کی تعداد دگنی کر دیں۔
ہم: ان کے پاس جتنے جہاز ہیں، ان کو وہ پہلے ہی اتنا زیادہ اڑا رہے ہیں جتنا ممکن ہے۔ لیکن ہاں اب انہوں نے آپ کا حکم ملتے ہی انہوں نے پروازوں کی تعداد کی بجائے کرایہ دگنا کر دیا ہے۔ اسلام آباد سے کراچی کا یکطرفہ کرایہ وہ پچیس تیس ہزار سے زیادہ وصول کر رہے ہیں۔ آپ انہیں عوام کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے سے روکیں۔
افسر ذیشان: کیوں روکیں بھائی؟ کرایہ دگنا ہونے سے وہ سارے مسافر کم ہو جائیں گے جو محض شیخی مارنے کی خاطر جہاز میں سفر کرتے ہیں۔ وہ اب ریل یا بس میں سفر کریں گے اور شیخی بازی کی بری عادت سے محفوظ رہیں گے۔
ہم: لیکن ریل پر جگہ نہیں ملتی ہے۔ اور بسوں کے کرائے بھی دگنے ہو رہے ہیں۔
افسر ذیشان: پھر تو ہم واقعی نجی ائیرلائنوں کو الزام نہیں دے سکتے ہیں۔ کرائے تو ہر طرف بڑھ رہے ہیں۔
ہم: اچھا اب حکومت کے کیا عزائم ہیں؟
افسر ذیشان: پی آئی اے کو لازمی سروس بنانے کا آرڈیننس نکال دیا گیا ہے۔ اب جو کام نہیں کرے گا، اسے نکال دیں گے۔
ہم: لیکن پھر پی آئی اے تو خالی ہو جائے گی۔ اسے چلائے گا کون؟
افسر ذیشان: جو خدا باقی سارا ملک چلا رہا ہے، وہی پی آئی اے کو بھی چلا دے گا۔ اللہ بڑا مسبب الاسباب اور رحیم و کریم ہے۔
ہم: اور حکومت خود کچھ نہیں کرے گی؟ حکومت کیا پی آئی اے ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 327 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar