پاکستانی یونیورٹیوں میں فزکس پر پابندی کا مطالبہ


\"saleem-malik\"فزکس ایک بیہودہ مضمون ہے۔ اس کا انسانیت کو کوئی فائدہ نہیں ہے اور ہم اس کی تعلیم پر مکمل پابندی کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ مضمون یہودیوں نے بنایا ہی مسلمانوں کی بدنامی کے لئے تھا۔ ہم اپنے اس مطالبے کی حمایت میں ایک واقعہ پیش کرتے ہیں جس کو جھٹلانا کسی ذی شعور انسان کے بس میں نہیں ہو گا۔

یہ کوئی چار دہائیاں پرانی بات ہے۔ پاکستان کے اس وقت کے وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب خان صاحب ایک سرکاری دورے پر واشنگٹن میں تھے۔ ایک دن وہ صبح اٹھے تو ان کا چکڑ چھولے کھانے کو بہت دل کر رہا تھا۔ انہوں نے اپنے میزبانوں یعنی پینٹاگان والوں سے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا۔ وہ انہیں نیلا گنبد کی چکڑ چھولے والی مشہور دکان پر لے گئے۔ یہ دکان پرانے واشنگٹن کے بائیں بازار سے ذرا آگے سائیکلوں والی مارکیٹ کے بعد آتی ہے۔ صاحبزادہ یعقوب خان کے ساتھ چکڑ چھولے کا ناشتہ اڑانے والوں میں پینٹاگون کے کچھ بڑے افسران اور امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ہیڈ بھی تھا۔

ناشتے کے دوران امریکیوں نے حسب معمول اپنی دائمی کمینگی دکھائی اور پاکستان کے ایٹم بم کے خلاف باتیں کرنا شروع کر دیں۔ صاحبزادہ صاحب نے کچھ دیر ان کی بات پر کوئی دھیان نہ دیا اور ناشتے کا خوب مزا لیا۔ ناشتے سے فارغ ہو کر امریکیوں کی بات پر دھیان دیا تو \"islamic-bomb-ka-khaliq-koun\"معلوم ہوا کہ انہوں نے وہی پرانی رٹ لگا رکھی ہے۔ وہی اسلامی بم، پاکستان اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے خلاف سازشیں اور الزامات۔ صاحبزادہ صاحب نے ان کا خوف دور کرنے کے لئے ان کو تسلی دی اور کہا کہ پاکستان کا ابھی تک اسلامی ایٹم بم بنانے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ لیکن وہ کب ماننے والے تھے، اپنی بات پر اڑے رہے۔ ان کا خوف یہ تھا کہ ڈاکٹر قدیر خان ایک اسلامی ایٹم بم بنا لیں گے اور اسلام دنیا پر غالب آ جائے گا۔ انہوں نے صاحبزادہ صاحب کی ایک نہ سنی اور ثبوت ثبوت کی رٹ لگائے رکھی۔

چکڑ چھولے کھانے کے بعد پیڑے والی لسی کے بڑے بڑے گلاس آ گئے لیکن ان کم بختوں نے لسی کا مزا بھی نہ لینے دیا۔ آدھے میں ہی آواز لگائی کہ وہ ہمارا خاص ویٹر بھیجو۔ فورا ہی نیلی آنکھوں والا ایک گورا ویٹر حاضر ہو گیا اور آنکھوں کے اشارے سے ہم سب کو اپنے پیچھے آنے کو کہا۔ ہم سب اس کے پیچھے چل پڑے۔ چلتے چلتے دکان کی پچھلی طرف کو نکلے تو ایک اندھیرے سے کونے میں جا پہنچے۔ وہاں سے ایک پتلی سی سیڑہی نیچے بیسمنٹ کو جا رہی تھی۔ اس گورے ویٹر نے نیچے اترنا شروع کیا تو ہم بھی اس کے پیچھے ہو لئے۔ سیڑھیاں اترتے ہوئے سی آئی اے کے ہیڈ نے اس نیلی آنکھوں والے ویٹر گورے کا تعارف کرایا۔ اس کا نام جیکب نوبل تھا وہ ایک یورپین تھا۔ کچھ عرصہ پہلے وہ نوبل انعام کا فیصلہ کرنے والی کمیٹی کا چئیرمین ہوا کرتا تھا۔ وہ الفریڈ نوبل کے ایک نزدیکی کزن کا پوتا تھا۔ سی آئی اے کے ہیڈ نے بتایا کہ آج کل انہوں نے اس کی ڈیوٹی یہاں چکڑ چھولے والی دکان پر لگائی ہوئی ہے تاکہ واشنگٹن آ کر چکڑ چھولے کھانے والے پاکستانیوں پر نظر رکھے۔

بیسمنٹ میں پہنچے تو پتا چلا کہ یہ سی آئی اے کا ایک اہم ہارڈوئیر سٹور ہے اور اسے ایک خفیہ راستے کے ذریعے سے پینٹاگون سے ملایا گیا تھا۔ اس بیسمنٹ میں ایک طرف ایک پردہ لگا ہوا تھا۔ سی آئی اے کے ہیڈ کے حکم پر نیلی آنکھوں والے گورے نے ایک خفیہ کوڈ لگا کر پردہ ایک طرف سرکایا تو کیا دیکھتے ہیں کہ آگے کچھ بھی نہیں تھا۔ نیلی آنکھوں والے گورے کے چہرے پر ایک خوفناک حیرانی چھا گئی۔ پھر اچانک اسے یاد آیا کہ وہ ثبوت تو انہوں نے پھجے کے پائے والی دکان کے نیچے والی بیسمنٹ میں شفٹ کر دیے تھے۔

ہمیں وہاں سے پھجے کی دکان کے نیچے والی بیسمنٹ میں لایا گیا۔ یہ واشنگٹن کے شاہی بازار کے عین درمیان میں واقع ہے۔ وہاں پر پھر \"chk_captcha\"ویسا ہی ایک پراسرار سا پردہ نظر آیا۔ نیلی آنکھوں والے گورے نے ایک کوڈ لگایا تو پردہ ایک طرف سرکا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ پردے کے پیچھے ایک سٹینڈ کے اوپر بڑے سائز کا تربوز رکھا ہوا ہے۔ سٹینڈ لکڑی کا تھا اور اس کے اوپر چینیوٹی سٹائیل کی چتر کاری واضح نظر آ رہی تھی۔ سی آئی اے کے ہیڈ نے ہمارے وزیر خارجہ کو جھنجھوڑا اور بتایا کہ پاکستان کے اسلامی ایٹم بم کا ماڈل تمھارے سامنے پڑا ہے۔ سی آئی اے کے ہیڈ کے غصے، اس چینیوٹی لکڑی کے سٹینڈ اور فزکس کے کسی ماہر پروفیسر کے ہاتھوں تیار شدہ اس نیوکلئیر تربوز ماڈل کے سامنے ہمارے وزیر خارجہ کچھ بھی بولنے کے قابل نہ رہے۔ البتہ ثبوت اور اس کی ساری کہانی صاحبزادہ یعقوب خان صاحب کی سمجھ میں آ گئی۔

فزکس اور نوبل انعام کا ڈرامہ مسلمانوں اور پاکستان کو متعصب ثابت کرنے کے لئے رچایا گیا تھا۔ نہ فزکس ہوتی، نہ اس کی کوئی تحقیق ہوتی، نہ فزکس کے نوبل پرائز کا ڈرامہ ہوتا، نہ ہماری بدنامی ہوتی اور نہ ہمارے اسلامی ایٹم بم کے ثبوت دشمنوں کے ہاتھ لگتے۔

فزکس کا یہ ہم پر دوسرا حملہ تھا۔ پہلے فزکس ہی کے ذریعے گوروں نے ہمارے مذہب اور کلچر کے خلاف الٹرا ساؤنڈ مشین ایجاد کی تھی۔ اس مشین کا مرض کی تشخیص سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ صرف اور صرف بے پردگی پھیلانے ایک بہانہ ہے۔ مرد ڈاکٹر عورتوں کا الٹراساؤنڈ کرتے ہیں اور اندر سے پتا نہیں کیا کیا دیکھتے ہیں۔ بے پردگی پھیلانا ان کا مقصد ہوتا ہے۔ فزکس نہ ہوتی تو یہ بے حیا الٹرا ساؤنڈ مشین بھی نہ ہوتی۔ اس لئے ہم فوری طور پر پاکستان کی تمام یونیورٹیوں میں فزکس پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اگر نواز شریف کی لبرل، لادین اور غیر محب وطن حکومت فوری طور پر فزکس پر مکمل پابندی عائد نہیں کر سکتی تو بھی کم از کم ربیع الاول اور رمضان کے مبارک مہینوں میں تو فزکس پر پابندی ہونی چاہیئے۔

پس تحریر: ہمیں علم ہے کہ سوائے فزکس کے جناب انصار عباسی صاحب احمدی کمیونٹی کے خلاف کوئی مذہبی تعصب نہیں رکھتے۔ وہ مذہبی روداری کے قائل ہیں۔ جب بھی احمدی کمیونٹی کا کوئی آدمی پاکستان میں قتل ہوتا ہے، جو کہ اکثر ہی ہوتا ہے، تو انصار عباسی صاحب اس ظلم کے خلاف ضرور کالم لکھتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 129 posts and counting.See all posts by salim-malik

One thought on “پاکستانی یونیورٹیوں میں فزکس پر پابندی کا مطالبہ

  • 11-12-2016 at 12:54 pm
    Permalink

    jhalat ki baat hy physics tu sara jhan chalati hy..muslim kab sadhri ga???

Comments are closed.