ہم کسی کو خوش کرنے یا دباؤ میں آکر فیصلے نہیں کرسکتے،چیف جسٹس


\"chief-justice\"لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان انورظہیر جمالی کا کہنا ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ سے لے کر تمام ضلعی عدالتیں خود مختار ہیں ہم کسی کو خوش کرنے یا میڈیا کو متاثر کرنے کے لئے کام نہیں کرتے۔

ایوان اقبال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ سے لے کر تمام ڈسٹرکٹ جوڈیشری عدالتیں خود مختار ہیں ہم کسی کو خوش کرنے یا میڈیا کی مدد لینے کے لئے کوئی کام نہیں کرتے ، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قائداعظم کے فرمان کو بھلا دیا گیا جس سے ملک میں لاقانونیت اور دہشتگردی کو فروغ ملا بدعنوانی اور رشوت ستانی ایک لعنت ہے اقربا پروری اور مفاد پرستی سے ریاست کا نقصان ہوتا ہے ملک کی ترقی کے لئے ہم سب کی سوچ ایک ہونی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ادارہ ماضی کی کوتاہیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھ سکتا ہے ہمارے لئے ضروری ہے کہ  ایک سوچ کے ساتھ پہلے خود پر قانون لاگو کریں اور عملی اقدامات کئے جائیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ لاہورپنجاب کی تہذیب وتمدن کامرکزہے اور لاہور ہائی کورٹ ملک کی قدیم ترین عدالت ہونے کے اعزاز کے ساتھ ساتھ اعلیٰ مقام حاصل ہے اسی کورٹ سے ماضی میں عظیم دان ملے اسی کورٹ نے قانون کی حکمرانی میں بنیادی کردار ادا کیا اور انصاف کی فراہمی میں گرانقدرخدمات انجام دیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔