مولانا محمد خاں شیرانی کا تعصب اور ڈاکٹر عبدالسلام


\"sherani\"اسلامی نظریاتی کونسل کے سبکدوش ہونے والے چیئر مین مولانا محمد خان شیرانی نے اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی کے فزکس سنٹر کا نام بدل کر ’پروفیسرعبدالسلام سنٹر فار فزکس‘ رکھنے کی تجویز پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ دنوں حکم جاری کیا تھا اور متعلقہ وزارت کو اس بارے میں سمری تیار کرکے صدر مملکت کی منظوری کے لئے روانہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ملک کے ایک قابل احترام سائینسدان کی قدر افزائی پر ملک کے بیشتر حلقوں کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا تھا۔ لیکن ملک میں بعض ایسے متعصب اور فرقہ پرست عناصر بھی موجود ہیں جنہوں نے جھوٹی معلومات اور واقعات کی بنیاد پر ڈاکٹر عبد السلام کے عقیدہ کی وجہ سے ایک بار پھر انہیں مطعون اور بدنام کرنے کے لئے افسوس ناک مہم کا آغاز کیا ہے۔

اب اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ بھی اس مہم کا حصہ بنے ہیں۔ کونسل کے اجلاس میں انہوں نے وزیر اعظم کے فیصلہ پر سخت تنقید کی اور اس فیصلہ کو ایک ناپسندیدہ مثال قرار دیا۔ اجلاس کے بعد انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ ان کی مخالفت کی وجہ کیا ہے۔ ان کا مؤقف صرف یہ تھا کہ اس سے پہلے یہ مرکز ڈاکٹر ریاض کے نام سے تھا۔ اب اسے تبدیل کرنا مناسب اور خوش آئیند نہیں ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ تمام مراکز، شاہراہوں اور عمارتوں کے نام تبدیل کرنے کی پالیسی کی مخالفت کررہے ہیں۔ تو انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ حیرت ہے کسی صحافی نے مولانا شیرانی سے یہ نہیں پوچھا کہ کسی یونیورسٹی کے کسی سنٹر کے نام کی تبدیلی کا اسلام یا اسلامی نظریاتی کونسل سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ بلکہ اس کے چیئرمین جب ایسے کسی فیصلہ پر نکتہ چینی کررہے ہیں تو وہ ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل ملک میں مذہبی مفاہمت و یگانگت اور وسیع النظری کے بنیادی مقصد سے انحراف کررہی ہے۔ اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ اس قسم کے غیر ضروری ادارے کو ختم کیا جائے جو ملک میں تعصب اور انتہا پسندی پھیلانے کے علاوہ کوئی قابل قدر علمی یا تحقیقاتی کام کرنے میں ناکام رہا ہے۔ البتہ اس کے سربراہ اور ارکان عوام کے پیسوں سے پر تعیش سہولتیں ضرور حاصل کرتے ہیں۔

\"dr-salam\"قائد اعظم یونیورسٹی کے فزکس سنٹر کے نام کو معروف سائینسدان ڈاکٹر عبد السلام کے نام سے منسوب کرنے کی مخالفت ڈاکٹر صاحب کے عقیدہ کی وجہ سے کی جا رہی ہے۔ وہ احمدی عقیدہ سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن ان کے عقیدہ کی وجہ سے انہیں تنقید اور تعصب کا نشانہ بنانے والے عناصر یہ قبول کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں کہ وہ ایک قابل فخر پاکستانی تھے، انہوں نے ہمیشہ خود کو پاکستانی کہا اور پاکستان میں سائینس کے فروغ کے لئے تا حیات نا قابل فراموش خدمات سرانجام دیتے رہے تھے۔ انہوں نے عمر کا بیشتر حصہ ملک سے باہر گزارا لیکن کبھی پاکستانی شہریت سے دستبردار نہیں ہوئے۔ ان کی پاکستانیت کا یہ عالم تھا کہ جب 1979 میں وہ فزکس کا نوبل انعام لینے کے لئے سویڈن گئے تو انہوں نے شیروانی، پگڑی اور پاکستانی کھسہ زیب تن کیا تھا۔ اس کے باوجود پاکستان میں مذہبی عصبیت کی بنا پر ان کے مرنے کے بعد بھی نفرت اور عناد کا اظہار ضروری سمجھا جاتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالسلام کو ان کی اعلی علمی اور تحقیقاتی کارکردگی اور قوم و ملک کے لئے خدمات کی وجہ سے اعزاز دینا خود اہل پاکستان کے لئے فخر کا سبب ہونا چاہئے۔ کسی فرد کو اس کے عقیدہ کی وجہ سے نہ تو اس کے شہری حقوق سے محروم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی قوم وملک کے لئے اس کی خدمات سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ بھی اس قسم کے خیالات اور جذبات کو فروغ دینے میں مصروف ہیں، وہ پاکستان میں اس افسوسناک تعصب کا پرچار کررہے ہیں جو مذہبی انتہا پسندی اور بدترین صورت میں دہشتگردی کا سبب بنتا ہے۔

ان عناصر کی کوتاہ نظری اور کم فہمی کے سبب ایک طرف ملک میں منفی اور معاشرہ کے لئے تباہ کن رویے فروغ پا رہے ہیں تو دوسری طرف بیرون ملک آباد پاکستانی مسلمانوں کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ مولانا محمد خان شیرانی یا ان کے ہمنواؤں کی دلیل کو مان لیا جائے تو پاکستان کے باہر کسی غیر مسلم ملک میں رہنے والے پاکستانیوں اور مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کیا جا سکتا ہے۔ کیا پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ یہ پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم ملک میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس کا اعتراف کرنے کی بجائے، اسے یہ کہہ کر مسترد کردیا جائے کہ وہ ایک ’غلط‘ عقیدہ سے تعلق رکھتا ہے۔

یہ سوچ اور طرز عمل خطرناک اور نفرتوں اور فاصلوں کو فروغ دینے کا سبب بنتا ہے۔ نہ اسے قبول کیا جا سکتا ہے اور نہ کوئی صحت مند معاشرہ اس قسم کا رویہ اختیار کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 648 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

3 thoughts on “مولانا محمد خاں شیرانی کا تعصب اور ڈاکٹر عبدالسلام

  • 11-12-2016 at 9:10 am
    Permalink

    tenqeed to ap ny bi ki hy molana per. kya ap bi pherka perst to ni.

  • 11-12-2016 at 5:38 pm
    Permalink

    اچھا لکھا ہے. منفی سوچ کو ختم کرنے کے لئے آپ نے اپنی شمع جلا دی ہے. اللہ آپ کی مساعی میں برکت ڈالے.

  • 12-12-2016 at 5:56 pm
    Permalink

    مضمون نگار اسلامی نظریاتی کونسل جوایک آئینی ادارہ ہے کو صرف اس لیے بند کرنے کا لکھ رہے ہیں کہ انہوں نے ڈاکٹر عبدلسلام صاحب کے نام سے کچھ منسوب کرنے پر اختلاف ہے ۔ جناب آپ بھی کچھ خیال کریں آپ پاکستان میں رہ رہے ہیں پاکستانی ہیں پاکستان کے آئین پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ یہ خلاف آئین تحصب بھی نہ برتیں۔

Comments are closed.