ایک کشادہ ڈِگی والے مرغے کی تلاش!


waqar ahmad malikآج دفتر آ رہا تھا تو دھوپ میں چمک اور ہلکی تمازت محسوس ہوئی۔

سردیوں کے بعد موسم میں آتی یہ تبدیلی مریضانِ شمال کے لیے دل میں ٹیسیں لانے کا سبب بنتی ہے۔

لیکن دفتر پہنچتے پہنچتے ایک قضیے میں الجھ گیا۔ مجھے اس سال گلگت بلتستان میں سفر کے لیے ایک کشادہ ڈگی والے مرغے کی تلاش ہے۔

گذشتہ برس کینال روڈگلبرگ لاہور میں ایک تاریخی دستاویز پر دستخط ہوئے تھے۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ ہر سال کی طرح گذشتہ سال موٹر سائیکل پر گلگت بلتستان جانے کا پروگرام اپنے حتمی مراحل میں تھا۔ ہمارے ساتھ نعمان بٹ ، راحیل راﺅ اور ناصر حسین کمپنی ہمیشہ کارمیںسفر کرتی ہے ۔ ہر سال ان کو موٹر سائیکل پر سفر کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے لیکن وہ کار پر سفر کے لیے بضد رہتے ہیں۔

میں نے گذشتہ سال بھی نعمان بٹ کے سامنے دلائل کے انبار لگا دیے۔

منبع رشد و ہدایت بہ امور ِ متعلقہ سر زمینِ شمال ، جناب تارڑ صاحب کا حوالہ دیا کہ جب انہوں نے ’سفر ہے شرط‘ پروگرام میں مجھے اپنے گھر سے گلگت بلتستان جانے کے لیے الوداع کہا تو ناظرین سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ” موٹر سائیکل کی سب سے بڑی خوبی ہی یہ ہے کہ جہاں مرضی رک کے ڈیرے ڈال دیے جائیں، لینڈ سلائیڈنگ میں موٹرسائیکل کو کانوں سے پکڑ کر عبور کروایا جا سکتا ہے ، موٹر waqar02سائیکل پر سفر کرنے کے دوران آپ کسی پتھر پر کھِلے اکلوتے پھول کی خوشبو بھی سونگھ سکتے ہیں، کار میں منظر کھلتا نہیں ہے۔ آسمان سے باتیں کرتیں پہاڑوں کے آدھے منظر کو کار کی چھت کھا جاتی ہے موٹر سائیکل پر آپ ایک آزاد اور خودمختار سیاح ہوتے ہیں“
نعمان بٹ نے یہ سن کر کہا، ٹھیک ہے تارڑ صاحب بڑے آدمی ہیں لیکن ساتھ جاٹ بھی ہیں، وہ کہہ سکتے ہیں لیکن ہم بٹ لوگوں کی پشت ایسی مضبوط نہیں ہوتی کہ ہزاروں کلومیٹر کا سفر موٹر سائیکل کی گدی کے ساتھ چپک کر کر لے، پھر ہم نے آپ لوگوں کو وہاں دیکھا ہے جب آپ اور شعیب سرور کسی جگہ موٹر سائیکل سے اترتے ہیں تو کافی دیر اس انداز میں چلتے ہیں جیسے دونوں ٹانگوں کے درمیان جھاڑی آ گئی ہو

میں نے گوروں کے حوالے دیے جو ایک زمانے سے گلگت بلتستان میں موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہیں اور گوریوں کے حوالے دیے جو بائی سائیکل پر اتنا طویل سفر کرتی ہیں۔

گوریوں کا سن کر راحیل راﺅ اور ناصر حسین نے بٹ کی طرف دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں ”بات میں وزن تو ہے“

بٹ صاحب کے کھابہ گیریوں کے نتیجے میں پرورش پانے والے اعصابوں پر اس جملے نے بھی کچھ خاص اثر نہیں کیا۔

میں نے بٹ صاحب میں سے صاحب خذف کرتے ہوئے کہا۔۔

waqar03سن بٹ اب کان کھول کہ سن۔ اس دفعہ اگر ایک معاہدے پر دستخط کرتے ہو تو کار پر آ جاﺅ ورنہ ہماری طرف سے معذرت۔

خیر نعمان بٹ ، راحیل راﺅ اور ناصر حسین نے یقین دلایا کہ ہم ہر طرح کی فرمائش پوری کرنے کو تیار ہیں لیکن موٹر سائیکل پر جانے کے لیے اصرار نہ کیا جائے ۔

میں نے ان کے سامنے ایک معاہدہ رکھا۔جس کی کچھ شقیں آپ کی خدمت میں عرض کیے دیتا ہوں۔

1 کار والے موٹرسائیکل سواروںکا سامان کار میں رکھنے کے پابند ہوں گے

A1 موٹر سائیکل والوں کو سفر میں مکمل استحقاق ہو گا کہ جب چاہے کار میں بیٹھ جائیں اور کا ر والے کو موٹر سائیکل چلانے کا کہیں۔

2 کار والے کا موٹر سائیکل چلانے کو دل للچائے تو بائکر کی مرضی و منشا پہ منحصر ہے کہ وہ چاہے تو چلانے دے چاہے تو انکار کر دے۔ انکار کی صورت میں کا ر سواروں کو دل میں بھی اس بات کو برا جاننے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اور چہرے پر خفگی کے اثرات لانا تنسیخ معاہدہ تصور ہو گا۔

3 کار تمام سفر میں موٹر سائیکلز کے پیچھے رہنے کی پابند ہوگی۔

4 بارش کی صورت میں موٹر سائیکل سوار کار میں بیٹھنا چاہیں تو انکو کار میں بٹھایا جائے گا اور کار والے بارش میں موٹر سائیکل چلائیں گے۔

A4 تھکاوٹ کی صورت میںموٹر سائیکل سوارکار میں بیٹھ سکتے ہیں ۔

5 موٹر سائیکل پنکچر ہونے کی صورت میں کارسواروں میں سے کوئی صاحب پنکچرلگوانے کے ذمہ دار ہوں گے۔

6 ہوٹل پہنچنے اور چیک آﺅٹ کرتے وقت کار والے صاحبان بائکرز کا سامان کمرے میں لے جانے او ر واپس کار میں رکھنے کے ذمہ دار ہوں گے

نعمان بٹ تھوڑی دیر خاموش رہے۔ پھر سر اٹھایا اور کہا۔۔” ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ اس واہیات دستاویز پر دستخط کر دیتا ہوں لیکن شمال کے اخباروں میں اس طرح کی خبر کی بھی امید رکھئے گا۔
”پنجاب سے آئے تین موٹر سائیکل سواروں کو ان کے ہمراہ آئی ایک کار نے ٹکر مار کر دریائے سندھ میں پھینک دیا۔ کار ڈرائیور نے بعد ازاں کا ر کو بھی دریا برد کرتے ہوئے خودکشی کرلی۔ کار میں سوار دو نوجوانوں نے عین وقت پر کود کر بڑی مشکل سے اپنی جان بچائی“

waqar01قصہ مختصر وہ ٹور بہت شاندار رہا۔ بالخصوص سامان کو کار میں رکھنے کے حوالے سے۔ تصور کیجئے کہ آپ قراقرم ہائی وے پر ہوں اور آپ کی پشت پر رک سیک کا عذاب بھی نہ ہو۔ ہوٹل میں دخول و خروج کے وقت ہمارے سامان کی ذمہ داری کار والوں نے خوب نبھائی۔ سامان کو ہوٹل میں رکھتے پھر صبح کار میں لا کر باندھتے اور ہم اس دوران مزے سے لان میں بیٹھے چائے سڑکتے رہتے۔ اس ٹور میں ہم نے دریائے سندھ، ہنزہ ، اشکومن اور دریائے شیوک کی گونج بھی قدرے زیادہ سنی۔ اس ٹور میں ہر صبح پرندے ہمارے لیے زیادہ چہکے، ہنزہ میں غشپ نے ہمارے سامنے زیادہ اٹکھیلیاں کیں اور گلمت گوجال کے پھول زیادہ مہکے۔ سٹون ایج ریسٹورنٹ کی بریانی نے زیادہ مزا دیا اور گلئیشیر بریز ہوٹل میں خوبانی کیک ہمارے ٹیسٹ بڈز سے ٹکرا کر زیادہ چیخا۔

الغرض کہ ہماری عادتیں بگڑ گئیں اور ہم باقاعدہ عیاش ہو گئے۔

ابھی پچھلے ہفتے لاہور جانا ہوا۔ ایک محفل میں بیٹھے تھے کہ نعمان بٹ ، راحیل راﺅ اور ناصر حسین نے انکشاف کیا کہ اس سال وہ لوگ بھی موٹر سائیکل پر جائیں گے۔

یقین جانئے ہمارا دل ڈوب گیا۔ کہاں تو یہ ہماری دیرینہ خواہش تھی کہ یہ لوگ کار کو چھوڑیں اور موٹرسائیکل پر آئیں اور کہاں اب یہ خواہش پوری ہوئی ہے تو ذرا خوشی محسوس نہیں ہو رہی۔ وجہ آپ کے سامنے ہے۔ جو مزے ہمیں اس معاہدے نے کرائے اس کے بعد ہماری عادتیں بگڑ گئیں ہیں۔ رک سیک کو پشت پر دس دن کے لیے لٹکانے کا خیال ہی وحشت زدہ کرنے کے لیے کافی ہے۔

میں ، شعیب سرور اور احمد شیخ پریشان ہیں۔ شعیب سرور کی تجویز ہے کہ کسی کار والے کو بہلا پھسلا کر لے جانا از حد ضروری ہے۔ آج کل ہم شمال کے لیے ایک مرغے کے بندوبست میں لگے ہیں۔ دعا کریں کوئی تابعدار اور کشادہ ڈگی والا مرغہ مل جائے!


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 62 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

One thought on “ایک کشادہ ڈِگی والے مرغے کی تلاش!

  • 03-02-2016 at 10:38 pm
    Permalink

    Receive my consolation.

Comments are closed.