جنید جمشید، امیر صاحب اور اللہ رسولؐ کی بات


\"sajjad-hussain-khan\"

(سجاد خان)

جنید جمشید کو یوں تو کئی بار دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، باضابطہ ملاقات کا موقع لیکن ایک بار میسر آیا، جب وہ ناظم آباد کی ایک مسجد میں تبلیغ کے سلسلے میں قیام رکھتے تھے۔ ان سے ملوانے قریبی مارکیٹ کے ہمارے دوست ہمیں ان کے ہاں لے کر گئے تو جنید جمشید ملنے والوں میں گھرے ہوئے تھے۔ ان کے ہمیشہ کے جوڑی دار سعید انور بھی ہمراہ تھے۔ ملنے کے لئے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا ہر ایک سے مصافحہ ہوتا، احوال دریافت کیے جاتے۔ اور موقع پر موجود امیر صاحب جو مسلسل آنے والوں کو دیکھ کر ایک ہوشیار تبلیغی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے موقع غنیمت جان کر وقفے وقفے سے جنید جمشید کو کہتے تھے، دعوت دیجئے، انہیں دعوت دیجئے۔ اور جنید جمشید اللہ اور رسولؐ کی باتیں کرتے جاتے۔

یہ سلسلہ کل سے جاری تھا، ملاقاتی تھے اور جنید جمشید کی مجلس تھی، وہ اپنی تھکن کی پرواہ کیے بغیر مسلسل اس مجلس کو نباہ رہے تھے۔ جنید جمشید کو دیکھنے والے جانتے ہیں کہ وہ تصاویر میں نظر آنے والے جنید جمشید سے کہیں زیادہ سفید رنگت کے مالک تھے اور اس پر مستزاد ان کا اٹھتا ہوا لانبا قد اور دلکش مسکراہٹ۔ آج بھی نگاہوں میں وہ منظر نگاہوں میں پھرتا ہے اور دل مچل جاتا ہے کہ کاش پھر وہی مجلس ہو اور وہ ہمارے روبرو بیٹھے سلام اور مزاج پرسی کرتے ہوں، اور پھر کہیں سے امیر صاحب کی آواز سنائی دے کہ جنید بھائی انہیں دعوت دیجئے۔ اور پھر وہی سلسلہ ہو یعنی جنید بھائی اللہ اور اس کے رسولؐ کی بات شروع کریں۔ ان کے منہ سے پھول جھڑیں اور ہم سنتے رہیں انہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں