چھوٹا سا دل …. چھوٹی سی آشا


ramish fatimaدل ہے چھوٹا سا
چھوٹی سی آشا
مستی بھرے من کی بھولی سی آشا
چاند تاروں کو چھونے کی آشا
آسمانوں میں اڑنے کی آشا

اسپتال کی راہداری میں سے گزرتے ہوئے اندر ہی اندر میں یہ گانا گنگنا رہی تھی کہ ایک صاحب جنہیں غالباً چاند تاروں کو چھونے کی آشا نے ہی یہ تمیز بھلا دی تھی کہ میں انہی کے علاج کی خاطر ہلکان ہوئی پھر رہی ہوں…. میں نے رک کے ایک نظر ان کو دیکھا۔ نفرت اتنی بھری تھی کہ اپنے قدموں پر ہی نہ ٹک سکے اور پیچھے ہٹ گئے ۔

فارغ ہو کہ بیٹھی اور فیس بک پہ آئی تو یہاں بہت سے لوگ مجھے سمجھا رہے تھے کہ دیکھو یہ سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس پر لکھ کر کیوں وقت ضائع کرتی ہو؟ کیوں مظلومیت کا رونا ہر وقت روتی رہتی ہو۔ میں بس یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ قتل بھی روز ہوتے ہیں ،کرپشن بھی روز ہوتی ہے ؟ موت بھی روز کسی نہ کسی کو لے ا±ڑتی ہے ، حادثے بھی روز ہوتے ہیں ، طالبان,القاعدہ اور داعش جیسی چیزیں بھی معمول کا حصہ ہیں ، بم دھماکے اور ان میں مرنے والوں کا اسکور پوچھنا بھی عام سی بات ہو گئی ہے ، سیاستدانوں کی لن ترانیاں ، ٹوئٹر والی سرکار کی ٹوئیٹس ، انجمن بوٹ پالشاں بریگیڈ کی چاپلوسیاں ، تھر کے لوگوں کی موت کا نوحہ ، سندھ سرکار کی حالتِ بھنگ ، شریفوں کی برمعاشیاں ، عمران کا دھرنا ، نامعلوم افراد کے ہاتھوں معلوم قتل، ریاست کا بیانیہ اور اس پر آپ کا بیانیہ نیز ہر برائی کی وجہ مذہب سے دوری بیان کرنا یہ سب بھی تو روز کی باتیں ہیں پھر آپ کیوں لکھتے ہیں ایسے موضوعات پر؟ آپ کیوں ذہن کو تھکاتے ہو انہیں سوچ کر ؟

ہر وہ کام جو روز ہوتا ہو ، جو معمول بن جائے ضروری نہیں کہ وہ صحیح ہو۔ میرے خاندان میں چھوٹے بچے ہیں ، آپ سب کے بھی ہوں گے۔ ذرا سوچئے ؛ کیا واقعی جو ہم سب کا روزمرہ کا معمول ہے وہ ہمارے ان بچوں کا بھی ہونا چاہیے؟ کیا وہ بھی اس اذیت سے گزریں جن سے ہم گزر رہے ہیں ؟ ہم کیوں نہیں آواز اٹھا سکتے؟کیوں نہیں کوشش کر سکتے اس سب کچھ کو روکنے کی؟ کم از کم ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانا چاہیے اور سکھانا چاہیے کہ ایسا ہر وہ رشتہ دار جو انہیں ہراساں کرے وہ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟ اپنا دفاع کر سکیں۔ ہمارے بچوں کو یہ علم ہو کہ وہ ہمیں جب بھی کچھ بتائیں گے تو ہم انہیں چپ رہنے کو نہیں کہیں گے ، ہم انہیں بچائیں گے ایسے کسی بھی واقعہ سے جس سے ان کا معصوم وجود کرچی کرچی ہو رہا ہے – ہم میں اتنا حوصلہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کے تحفظ کی خاطر کسی بھی رشتے کو توڑ سکتے ہیں۔ انہیں اس بات پہ اسکول یا کالج جانے سے نہیں روکیں گے کہ راستے میں انہیں کوئی چھیڑتا ہے ، یا تعلیمی ادارے میں کوئی استاد یا استانی ان کی کم عمری کا فائدہ اٹھاتی ہے..

چھوٹے سے دل کی یہی چھوٹی سی آشا ہے،کسی دن تو ضرور پوری ہوگی


Comments

FB Login Required - comments

8 thoughts on “چھوٹا سا دل …. چھوٹی سی آشا

  • 04-02-2016 at 10:57 am
    Permalink

    یقینا ایک دن ہماری کوشش رنگ لائے گی

    • 04-02-2016 at 4:04 pm
      Permalink

      کاش

  • 04-02-2016 at 1:40 pm
    Permalink

    میں آپکا certified مرید ہو چکا ہوں۔ آپ نے اس چھوٹی تحریر میں جتنی بڑی باتیں کر دی ہیں، ان سے بھی اگر کوئی عقل کے ناخن نہ لے تو کیا کیا جا سکتا ہے۔ پھر جس طرح مذہب جیسے حساس موضوع پر بھی آپ عین صحیح لیکن غیر محسوس طریقے سے بات کر لیتیں ہیں۔

    • 04-02-2016 at 4:02 pm
      Permalink

      Honored

  • 04-02-2016 at 1:48 pm
    Permalink

    I can imagine you singing that in hospital ki Rahdaari… And I love you that way… keep iy up… God bless you…

    • 04-02-2016 at 4:03 pm
      Permalink

      Thanks

  • 05-02-2016 at 1:41 am
    Permalink

    just read a quote on FB ” don’t ask your daughters not to go out , ask your sons to behave ” … that’s our problem

  • 05-02-2016 at 7:24 pm
    Permalink

    بلکل صیح ،،لیکن اس تربیت کے ساتھ ساتھ ہمیں لڑکیوں اور لڑکوں کے علیحدہ تعلیمی ادارے بنانے کے لیے آواز بھی اٹھانئ ہو گی ،کیونکہ پٹرول اور آگ کا ملاپ خطرناک ہی رہے گا،یاد رہے ،حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس مردوزن کا اختلاط پر اتنے احتیاط کرتے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے مساجد میں مرد و زن کے آنے جانے کے لیے علیحدہ علیحدہ راستے بنوائے ہوئے تھے،،
    شکریہ

Comments are closed.